لاکھوں نے حج کی سعادت حاصل کی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پوری دنیا سے آئے ہوئے بیس لاکھ سے زائد مسلمانوں نے بدھ کے روز حج ادا کیا۔ حجاج رات منیٰ میں گزارنے کے بعد صبح سویرے میدانِ عرفات پہنچے اور وقوفِ حج ادا کیا۔ مکہ کے مغرب میں اٹھارہ کلو میٹر کی دوری پر واقع عرفات کے میدان جانا پانچ روزہ مناسکِ حج کا ایک اہم رکن ہے۔ چودہ سو سال قبل پیغمبرِ اسلام نے اسی جگہ اپنا آخری خطبہ دیا تھا۔ صبح سویرے ہی 20,000 بسوں کا قافلہ میدانِ عرفات کی طرف نکل پڑا۔ ہزاروں افراد نے میدانِ عرفات میں واقع تاریخی مسجدِ نمرہ میں نماز پڑھی۔ مسجد سے خطبہ دیتے ہوئے سعودی عرب کے سب سے اعلیٰ مذہبی رہنما شیخ عبدالعزیز الشیخ نے کہا کہ ’مسلمانوں کو اس وقت دنیا میں سب سے بڑا چیلنج اس کے اپنے ہی بچوں سے ہے جنہیں شیطان نے گمراہ کر دیا ہے‘۔ عراق سے آئے ہوئے ایک حاجی امر عباس نے کہا کہ ’وہ خدا سے دعا کریں گے کہ امریکی ان کے ملک سے چلے جائیں اور قبضہ ختم ہو جائے‘۔ سعودی عرب نے ممکنہ بھگڈر اور دہشت گردی کو روکنے کے لیے پچاس ہزار سکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں اور فضا میں بھی ہیلی کاپٹر گشت کرتے رہے۔ اس کے علاوہ حاجیوں کی سلامتی کے لیے بھی کئی انتظامات کیے گئے ہیں جن میں عارضی ہسپتال اور عرفات کے میدان کے نزدیک 46 کلینک بھی شامل ہیں۔ امدادی کارکن کھانا اور پینے کا پانی بھی تقسیم کر رہے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||