حبیب میاں ہوئے حاجی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حبیب میاں جو شاید دنیا کے بزرگ ترین حاجی ہوں گے اپنے اس خواب کو پورا کر چکے ہیں جسکی تعبیر کے لیے بی بی سی آن لائن کے قارئین نے ان کی مدد کی۔ نابینا اور ضعیف حبیب میاں کی صحیح عمر کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا لیکن انکے پینشن کے کاغذات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ انکی عمر ایک سو پچیس سال ہے جبکہ انکا کہنا ہے کہ وہ ایک سو بتیس برس کے ہیں۔ گزشتہ جون میں جب پہلی مرتبہ نیوز آن لائن نے بھارت کے شہر جے پور سے انکے بارے میں لکھا کہ کس طرح انکے رشتے داروں کا خیال ہے کہ وہ حج نہیں کر سکتے تو ایسے بہت سے قارئین کی ای میل کا تانتا بندھ گیا جو اس سال حج کے لیے انکی مدد کرنے کو تیار تھے۔ خاموشی سے انہیں عطیہ دینے والوں میں برطانیہ کا ایک ٹیکسی ڈرائیور بھی شامل ہے جس نے حج کے لۓ جمح کی ہوئی اپنی رقم حبیب میاں کو دے دی۔ عطیہ کی ایک بڑی رقم لندن کے ایک تاجر کی جانب سے آئی جس نے دو لاکھ ستر ہزار روپے حبیب بینک میں جمع کرائے۔ حبیب گزشتہ ماہ اپنے دو پوتوں کے ساتھ مکہ کے لۓ روانہ ہوۓ تھے۔ حج شروع ہونے سے کچھ روز قبل ہی بی بی سی کے کیمرہ مین نے حبیب میاں کو ڈھونڈ نکالا جو خا نہ کعبہ کے نزدیک ایک ہوٹل میں آرام کر رہے تھے۔ حبیب میاں نے کہا کہ وہ مکہ آ کر بہت خوش ہیں اور ان لوگوں کے لۓ دعائیں کریں گے جنہوں نے انکی مدد کی۔ حبیب میاں کی مدد کرنے والوں نے بھی ایسی ہی خوشی ظاہر کی۔ لندن کے تاجر نے کہا کہ حبیب میاں کی مدد کرنا انکے لئے باعث اعزاز ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||