کمیٹی کا قیام، ہلاکتوں میں اضافہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سعودی حکام نے بتایا ہے کہ اتوار کو مناسک حج کی ادائیگی کے دوران ہجوم کے پیروں تلے کچلے جانے والوں کی تعداد دو سو اکیاون ہو گئی ہے۔ دوسری طرف سعودی حکومت نے مقدس مقامات پر حادثات کی روک تھام کے اقدام تجویز کرنے کے لیے ماہرین کی کمیٹی تشکیل دی ہے جو خطرناک مقامات کی نشاندہی اور ان کی حفاظتی نقطۂ نگاہ سے از سر نو تعمیر کا جائزہ بھی لے گی۔ وزارت صحت نے بتایا ہے کہ چھ لاشیں واردات کے بہت دیر کے بعد ملی تھیں اور ایک شحض جو سنگین طور پر زخمی ہوا تھا بعد میں جاں بحق ہو گیا۔ سعودی حکام نے اعلیٰ سطح کی ایک کمیٹی کا اعلان کیا ہے جو منیٰ میں ہجوم کو قابو میں رکھنے کے لیے نئے انتظامات پر غور کرے گی۔ پیر کے دن بھی ہجوم کے بے قابو ہونے کا ایک اور واقعہ پیش آیا تاہم اس میں کوئی ہلاکت نہیں ہوئی۔ کمیٹی منٰی اور دوسرے مقدس مقامات کے لئے نیا منصوبہ تیار کرے گی۔ سعودی پریس ایجنسی کا کہنا ہے نئے منصوبے پر عملدرآمد میں بیس برس لگ سکتے ہیں۔ اس سال تقریباً بیس لاکھ مسلمانوں نے فریضۂ حج ادا کیا۔ منٰی میں رمی جمرات یا شیطان کو کنکریاں مارے جانے کے دوران جب بعض حاجی گر پڑے تو وہاں بھگدڑ مچ گئی تھی۔ اور ابتدائی طور پر ایک سب چوالیس عازمین کی ہلاکت کی خبر آئی تھی ۔ ابتدائی شناخت کے مطابق نعشوں میں چون انڈونیشیائی، اڑتیس پاکستانی، گیارہ بھارتی، گیارہ ترک، دس بنگلہ دیشی اور تیرہ مصری عازمین حج شامل تھے۔جبکہ باقی کی شناخت تا حال نہیں ہو سکی تھی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||