BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Sunday, 09 January, 2005, 15:27 GMT 20:27 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اسلام مسلمانوں کی نظر میں
 کیا اسلامی تعلیمات کی تشریح اور تاویل عام مسلمان اور شدت پسند ایک ہی طرح کرتے ہیں؟
کیا اسلامی تعلیمات کی تشریح اور تاویل عام مسلمان اور شدت پسند ایک ہی طرح کرتے ہیں؟
چند ماہ قبل العربیہ ٹیلی ویژن چینل کے صحافی عبدالرحمان الراشد نے یہ بیان دیا تھا: ’تمام مسلمان دہشت گرد نہیں ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے بیشتر دہشت گرد مسلمان ہیں۔‘ کچھ ماہ پہلے ملیشیا، انڈونیشیا اور فلپائن کے رہنماؤں نے اس بات کی ضرورت پر زور دیا کہ ’اسلام کو تشدد اور غربت سے منسوب نہ کیا جائے کیونکہ اسلام انصاف کا پرچار کرتا ہے۔‘

اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں غیرمسلم دنیا کا اپنا نقطۂ نظر ہے لیکن سوال یہ ہے کہ آج کے تناظر میں خود مسلمان اپنے بارے میں کیا سوچتے ہیں؟ دنیا میں جہاں جہاں دہشت گردی ہو رہی ہے اسے کسی نہ کسی طرح مسلمانوں سے منسوب کیا جاتا ہے۔ کیا اسلامی تعلیمات کی تشریح اور تاویل عام مسلمان اور شدت پسند ایک ہی طرح کرتے ہیں؟

ان سوالوں کے جواب آپ ہی دیں گے، بی بی سی ہندی سروِس کے پروگرام میں۔ بی بی سی ہندی سروِس کا یہ خصوصی پروگرام ’اسلام مسلمانوں کی نظر میں‘ دس جنوری سے شروع ہورہا ہے۔

یہ پروگرام بی بی سی ہندی ریڈیو پر بھارتی وقت کے مطابق روزانہ صبح ساڑھے چھ بجے اور شام ساڑھے سات بجے سناجاسکے گا۔ یہی پروگرام بی بی سی اردو سروِس کے ریڈیو پروگرام سیربین میں روزانہ پاکستانی وقت کے مطابق شب کے آٹھ بجے بھی نشر کیا جائے گا۔ یہ مباحثہ بی بی سی اردو ڈاٹ کام پر بھی ’آپ کی آواز‘ کے تحت شروع کیا جارہا ہے۔ آپ ہمیں لکھئے کہ مسلمان خود اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں کیا سوچتے ہیں۔

آپ کی رائے

یہ فورم اب بند ہوچکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں۔

نصیر احمد، پاکستان:
میری نظر میں اسلام ایک ایسا مذہب ہے جس کا کوئی ثانی نہیں ہے۔ اسلام وہ مذہب ہے جس نے ہر کسی کو اس کا حق دیا ہے۔ موجودہ حالات کے ذمہ دار صرف چند لوگ ہیں۔

غلام نبی، پاکستان:
اسلام عدل و انصاف اور مساوات کا دین ہے۔ یہ ہر خوبی کا حامل اور ہر برائی کے مخالف ہے۔ خوبی مسلمان میں ہو یا غیر مسلم میں اسلام اس کی تعریف کرتا ہے اور برائی جس میں بھی ہو اسلام اس کی مزاحمت کرتا ہے۔ اسلام بےگناہ پر ہاتھ اُٹھانے سے منع کرتا ہے۔

محمد علی، ٹورانٹو:
بی بی سی نے اچھے مضمون کا انتخاب کیا ہے۔ میں کہنا چاہوں گا کہ اسلام محبت، رواداری اور بھائی چارے کا مذہب ہے۔ بیحثیت مسلمان دنیا میں جہاں بھی کوئی واقعہ ہوتا ہے چاہے اس میں مسلمان یا غیر مسلم موت کا شکار ہوں ، دل خون کے آنسو روتا ہے۔ لیکن پھر بھی امید ہے کہ اس گلشن میں کبھی بہار آئے گی اور ظلم و ستم کا سلسلہ رُک جائے گا۔

معراج خان، شارجہ:
اسلام کی حقیقت پسندی اور سچائی دوسروں کو پسند نہیں آتی اور وہ خود دہشت گردی کرتے ہیں اور انگلی مسلمانوں پر اٹھائے رکھتے ہیں۔

صالح محمد، پاکستان:
اسلام کی تعلیمات سچی ہیں اور یہ وقت کے ساتھ ساتھ ثابت بھی ہو رہا ہے۔ آج مسلمان ایک ناکام قوم سمجھے جاتے ہیں لیکن اسلام ناکام نہیں۔

وسیع اللہ شنواری، برطانیہ:
اسلام بلاشبہ امن کا مذہب ہے۔ اسلام کی تعلیمات غلط نہیں ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ مسئلہ اس عظیم مذہب کو سمجھنے کا ہے۔ اگر ہم قرآن اور سنت پر عمل کریں تو مومن بن سکتے ہیں۔

اعجاز احمد، پاکستان:
میرے خیال میں لوگوں نے اسلام کے بارے میں سوچنا ہی چھوڑ دیا ہے۔ ہمیں دنیا کے کاموں میں اتنا الجھا دیا گیا ہے کہ ہم اسلام کے بارے میں سوچنے کا وقت ہی نہیں نکال پاتے۔ ہم کبھی مولویوں کو غلط کہتے ہیں اور کبھی حکمرانوں کو۔ اسلام کسی کی جاگیر نہیں ۔ اسلام ہمارے نبی نے ہمیں دیا ہے۔

نجم الحسن، پاکستان:
اسلام کیا ہے؟ اسلام ایک سچا مذہب ہے جو سلامتی کا درس دیتا ہے لیکن بدقسمتی سے اسلام کو دہشت گردوں نے یرغمال بنا رکھا ہے۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ مسلمانوں کو نبی کریم کے بتائے ہوئے راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے ۔

محمد ندیم، ٹورانٹو:
جو لوگ دہشت گرد ہیں وہ مسلمان نہیں ہو سکتے۔ لیکن آج کل کے مسلمان ، مسلمان ہونے کے باوجود مسلمان ہونے کا فرض نہیں پورا کر رہے اور نہ ہی اپنے آپ کو مسلمان ثابت کر رہے ہیں۔ ہم مسلمان آپس میں اتحاد قائم کر کے اپنے اوپر لگے بدنامی کے داغ کو دھو سکتے ہیں۔

شوکت حسین، عرب امارات:
نہایت افسوس کی بات ہے کہ آج کل ہر شخص مولویوں کے پیچھے پڑا ہوا ہے۔ مولوی جہاد کے لیے لوگوں کو اُکسا رہے ہیں ، مولوی بم دھماکے کروا رہے ہیں، مولوی دہشت گردی کروا رہے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ ماڈرن ’مشرف برینڈ‘ مسلمان جنھیں دین اور دنیا کے بارے میں ذرا بھر علم نہیں اپنے جاہلانہ اور فرسودہ خیالات کا اظہار بڑے فخر سے کرتے ہیں۔

عبید محمد، امریکہ:
اگر مسلمان صرف اتنا سوچ لیں کہ اسلام نہ رہا تو پھر وہ خود کیا رہیں گے تو ان کی سمجھ میں آجائے گا کہ انھیں اسلام کے بارے میں کیا سوچنا ہے۔ اسلام نے جتنی عزت انسانوں کو دی ہے اور جتنا امن دنیا میں پھیلایا ہے اس کی نظیر کسی اور مذہب میں مشکل سے ہی ملتی ہے۔ اگر ہم تاریخ اُٹھا کر دیکھیں تو ہمیں پتہ چلے گا کہ اسلام نے ہمیشہ ظلم کے خلاف مظلوم کا ساتھ دیا ہے۔

ناصر بلال، رحیم یار خان:
اللہ کا کہنا ہے کہ اسلام ایک عظیم مذہب ہے اور مسلمان دنیا اور جنت کے شہزادے ہیں۔ دنیاوی زندگی نہایت عارضی ہے اور ایک روز یہ دنیا چھوڑ کے جانا ہے۔

محمد حیدر اورکزئی، ہنگو، پاکستان:
میری سمجھ میں نہیں آیا کہ بی بی سی نے آخر مذہب پر بحث کا آغاز کیوں کیا ہے۔ میرے نزدیک اس کی قطعاً ضرورت نہیں ہے۔ ہاں نجی محفلوں میں مذہب پر بات کرنے کی سمجھ آتی ہے لیکن مذہب کو دنیا کے سامنے پیش کرنا کہ وہ اپنی رائے کا اظہار کریں اچھی بات نہیں ہے۔

خالد محمود حنیف رانا، لاہور:
سب سے پہلے ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہو گا کہ دہشت گردی اصل میں ہے کیا اور اس کے بعد ہی کسی کو دہشت گرد قرار دیا جا سکتا ہے۔

محمد یاسر، مانسہرہ:
اسلام امن و محبت کا دین ہے اس لیے دہشت گردی اور اسلام میں کوئی مماثلت نہیں ہے۔ دہشتگرد مسلمان نہیں ہیں وہ تو محض اسلام کی آڑ میں برے کام کر رہے ہیں۔

عتیق الرحمٰن، صوابی:
میرے خیال میں ملسمان انتہائی امن پسند لوگ ہیں۔ ذرائع ابلاغ بعض افراد کو دہشتگرد بتاتے ہیں اور انہیں مسلمان کہتے ہیں، ایسا کرنا بالکل غلط ہے۔

خواجہ امجد حنیف، مظفرآباد:
اسلام ایک امن پسند اور سچا مذہب ہے۔ یہ خدا کی طرف سے ایک بڑی نعمت ہے جو مسلمانوں پر نازل کی گئی ہے۔

محمد حسین، خوشاب:
اسلام مکمل ضابطۂ حیات ہے اور جب کوئی غیر مسلم اسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہنچاتا ہے اسلام ہمیں جہاد کرنے کا حکم دیتا ہے۔ کیا امریکہ کی طرف سے عراق اور افغانستان پر حملہ دہشت گردی نہیں؟ اور کیا اگر مسلمان اپنا دفاع کرتا ہے تو اسے دہشت گرد قرار دینا جائز ہے؟

محمد انیس عباسی، پاکستان:
جب ایک شخص یقین کرتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی دوسرا خالق نہیں ہے اور حضرت محمد (ص) اس کے آخری نبی ہیں، اس کے علاوہ مسلمان ہونے کے لئے کسی دوسری اہلیت کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر وہ قتل کرتا ہے تو گناہ کرتا ہے، لیکن ہم اسے غیرمسلم نہیں کہہ سکتے۔ جب مغربی ممالک قتل عام کرتے ہیں تو ہم سے کچھ لوگ قتل جیساگناہ کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں۔

ہائی جیکنگ!
 میرے مذہب کو ایک ’بیوقوف ملا‘ نے ہائی جیک کرلیا ہے۔مذہب کو مُلا سے چھٹکارا دلانا پڑے گا۔
محمد علی خان، اسلام آباد

مصطفی کردامے، کویت:
میں رحمان الراشد کی بات سے متفق ہوں لیکن ہمیں یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ مسلمان دہشت گردی کو کیوں اختیار کرتا ہے۔

محمد مجتبٰی، امریکہ:
اسلام ترقی پسند، پرامن اور جدید مذہب ہے، کافی ڈیموکریٹِک ہے۔۔۔ اسلام کی جمہوریت وہ نہیں ہے جس میں تعداد گنی جاتی ہے۔

ذیشان اجمل، ملتان:
مسلمانوں کو اپنی الگ حیثیت کی بہت بڑی قیمت چکانی پڑی ہے۔ اگر ایک مسلمان جہاد کی بات کرتا ہے تو ٹیرورسٹ ہے۔ لیکن اگر ہندو یودھ کی بات کرتا، کرسچین کروسیڈ کی بات کرتا ہے تو کوئی بات نہیں۔۔۔

ایمان سہیل، ٹورانٹو:
اسلام تو اسلام ہی ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ مگر مسلمان اب مسلمان نہیں بلکہ اسلام کے نام پر بدنامی کی وجہ ہیں۔ اس عظیم تعلیم کو ماننے والے جب ایسے گھٹیا لوگ ہوں اس میں تعلیم کا نہیں، ماننے والے کا قصور ہوتا ہے۔ ہماری جہالت اور ہمارے مولویوں کی سیاست ہمارے اسلام کو لے ڈوبے گی۔

دہشتگردی جواب ہے
 ہر کوئی چاہتا ہے کہ وہ اپنے ماں باپ بہن بھائی اور بیوی بچوں کے ساتھ اپنے گھر اپنے ملک میں خوش اور امن کے ساتھ رہے۔ مگر جب اس سے یہ سب کچھ چھین لیا جائے تو وہ دہشت گرد بن جاتا ہے۔
مہدی خان، گجرات

جبران خلیل، لاہور:
اسلام تو اسلام ہی ہے مگر مسلمان اب مسلمان۔۔۔۔

مہدی خان، لانگریال، گجرات:
اسلام امن پسند مذہب ہے اور مسلمان بھی امن پسند ہیں۔ ہر کوئی چاہتا ہے کہ وہ اپنے ماں باپ بہن بھائی اور بیوی بچوں کے ساتھ اپنے گھر اپنے ملک میں خوش اور امن کے ساتھ رہے۔ مگر جب اس سے یہ سب کچھ چھین لیا جائے تو وہ دہشت گرد بن جاتا ہے۔ حقیقت میں اس کو دہشت گرد بنادیا جاتا ہے۔ کسی افغانی نے ماسکو پر حملہ نہیں کیا تھا، روس نے حملہ کیا تھا اور امریکہ نے عراق پر حملہ کیا تھا، عراق نے امریکہ پر نہیں۔

محمد علی خان، اسلام آباد:
ایک مسلمان کی حیثیت سے میں سمجھتا ہوں کہ میرے مذہب کو ایک ’بیوقوف ملا‘ نے ہائی جیک کرلیا ہے۔ اگر ہم ایک امت کی حیثیت سے انسانیت کا حصہ بننا چاہتے ہیں تو مذہب کو مُلا سے چھٹکارا دلانا پڑے گا۔ وقت اور حالات کے بدلتے ہوئے ماحول میں اسلام کو سمجھنے کا واحد راستہ اجتہاد ہے۔ یہ سائیبر ایج ہے۔ مذہب کو سیاست سے الگ رہنا چاہیے۔

مسلمان لیڈر
 خود مسلم لیڈر مسلمانوں کے خلاف ہیں کیونکہ ان لوگوں کو اپنی کرسی پیاری ہے۔ کرسی چھوڑنا نہیں چاہتے، مال بنانے کے چکر میں ہیں۔ ان کی رعایا پر کیا گزرتی ہے انہیں کوئی پرواہ نہیں۔
انعام اللہ حسن، پاکستان

ثاقب امین، ٹوبہ ٹیک سنگھ:
یہ صحیح ہے کہ اسلام پورے طور پر امن کا مذہب ہے۔ لیکن بدقسمتی سے کچھ لوگوں نے اسلام کو برا نام دیا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ دہشت گرد کا کوئی مذہب نہیں کیونکہ وہ انسانیت کا دشمن ہے۔ اسلام امن کی تعلیم دیتا ہے۔

عفاف اظہر، اسکاربرا، کینیڈا:
جناب بدقسمتی سے یہ بات صحیح ہے کہ آج کل اسلام کے ساتھ دہشت گردی کا لیبل لگ چکا ہے اور اس کی وجہ ہمارے آج کے علمائے دین ہیں جنہوں نے مذہب کو انتہا پر پہنچاکر جہاد کا بھوت سب کے سر پر سوار کردیا ہے۔ آج اسلام کی اس حالت کے قصوروار ہمارے علمائے دین ہیں۔

سمیع اللہ، پاکستان:
اسلام امن اور محبت کا مذہب ہے۔ اسلام بھائی چارگی پر زوردیتا ہے اور دہشت گردی کے خلاف ہے۔ اسلام تمام مذاہب، معاشروں اور قوموں کے لئے امن کا پیغام دیتا ہے۔

انعام اللہ حسن، مالاکنڈ:
چلیں یہ بات صحیح مان لیتے ہیں کہ مسلمان دہشت گرد ہیں لیکن اس کی وجہ جاننے کی کسی نے کوشش نہیں کی ہے۔ اصل میں مسلمانوں سے امتیازی سلوک برتا جارہا ہے۔ غیرمسلم نہیں، خود مسلم لیڈر مسلمانوں کے خلاف ہیں کیونکہ ان لوگوں کو اپنی کرسی پیاری ہے۔ کرسی چھوڑنا نہیں چاہتے، مال بنانے کے چکر میں ہیں۔ ان کی رعایا پر کیا گزرتی ہے انہیں کوئی پرواہ نہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد