BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 10 September, 2003, 16:40 GMT 20:40 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اسلام اور مغرب
اسلام اور مغرب
شدت پسند دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ کو اسلام کے خلاف جنگ مانتے ہیں

مغرب کا تعلق، جو عیسائی اور یہودی مذاہب کا مرکز رہا ہے کبھی بھی مسلمانوں اور اسلام کے ساتھ دوستانہ نہیں رہا لیکن ستمبر دوہزار ایک کو نیویارک پر ہونے والے خودکش حملوں کے بعد اس کے اسلام کے ساتھ تضادات مزید واضح ہوکر سامنے آگئے ہیں۔ خواہ اس میں دونوں اطراف کی مرضی شامل رہی ہو یا نہ رہی ہوان واقعات کے بعد سے اسلام اور مغرب کے درمیان ایک جنگ شروع ہو گئی ہے۔

بہت سے مسلمان ’دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ‘ کو مسلمانوں اور اسلام کے خلاف جنگ سمجھتے ہیں۔ پوری اسلامی دنیا سے شدت پسند اسے اپنی بقا کی جنگ قرار دیتے ہوئے متحد ہو رہے ہیں جبکہ دوسری جانب مغرب عمومی طور پر اور امریکہ بالخصوص مسلمانوں کو دہشت گرد تک قرار دیتے نظر آتے ہیں۔

کچھ اسکالروں نے پیشین گوئی کی تھی کہ دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ تہذیبوں کے تصادم میں بدل جائے گی۔ کیا یہ حقیقت بن چکی ہے؟ کیا اپ سمجھتے ہیں کہ مغرب کی یہ کوششیں ہماری دنیا کو ایک زیادہ محفوظ جگہ بنائیں گی؟ یا یہ اسلام میں زیادہ شدت پسند عناصر کے ہاتھ مضبوط اور ترقی پسند قوتوں کو کمزور کرنے کا سبب بنیں گی؟ کیا ان متحاربین کے درمیان کسی مفاہمت کی امید کی جا سکتی ہے؟

--------------یہ فورم اب بندہوچکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں------------------------

میں تیسری جماعت میں پڑھنے والا ایک طالب علم ہوں اور میرے خیال میں گیارہ ستمبر کے حملے مسلمانوں اور مغرب کے درمیان ایک فاصلہ پیدا کرنے کی سازش ہے۔

حارث بن خرّم

اس میں کوئی شک نہیں کہ مغرب نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر مسلمانوں کے خلاف ایک جنگ شروع کر رکھی ہے لیکن کسی کو بھی دہشت گرد قرار دینے سے پہلے یہ سمجھنے کی کوشش کی جانی چاہئے کہ کوئی کیوں اپنی جان سے گزرنے کو تیار ہوجاتا ہے۔ اسرائیل، امریکہ اور بھارت جیسے ممالک نے مظلوم مسلمانوں اور تیسری دنیا کی قوموں کو اس پر مجبور کر دیا ہے کہ وہ اپنے لوگوں کے حقوق کی جدوجہد کیلئے خودکشی کا راستہ اختیار کریں۔

حسیب، پشاور

یہ سب دنیا پر حکمراں رہنے کا کھیل ہے۔

تہمینہ، کراچی

یہ جنگ مغرب اور اسلام کے درمیان نہیں بلکہ بش اور اسلام کے درمیان ہے۔ اگلے سال جب بش جا چکا ہوگا تو یہ جنگ بھی ختم ہو جائے گی۔

ڈاکٹر زیدی، پاکستان

وقت آگیا ہے کہ ہم مغرب پر واضح کریں کہ مسلمان دہشت گرد نہیں ہیں اور اس کا دل جیتیں۔ ہم امن پسند لوگ ہیں۔ مغربی حکومتوں پر بھی لازم ہے کہ وہ دوہرے معیار اپنانے سے گریز کریں۔ اس سے انہیں مسلمانوں کا اعتماد حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔

سعدیہ عامر، ملتان

مغرب میں کچھ لوگوں نے یہ بحران اس لئے پیدا کیا ہے تاکہ وہ اسلامی ممالک کے قدرتی وسائل پر قبضہ کر سکیں۔ اس سے پہلے بھی زیادہ تر مسلمان ممالک پر امریکہ کے حواریوں ہی کی حکمرانی رہی ہے۔ مسلمان ممالک کے حکمران اب مصیبت میں پھنس گئے ہیں کیونکہ انہوں نے اپنے تمام انڈے ایک ہی امریکی ٹوکری میں ڈال رکھے ہیں۔

مظہر اسلام، سعودی عرب

بالکل، دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ تہذیبوں کے تصادم میں ہی بدلے گی۔ یہ مسلمانوں کے خلاف جنگ ہے اور یہ نہ صرف مسلمانوں میں بلکہ دنیا کے دوسرے معاشروں میں بھی امریکہ اور حلیفوں کے خلاف نفرت پیدا کر رہی ہے۔

احمد ارسلان، لاہور

دراصل گیارہ ستمبر امریکی پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ مسلمانوں کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔ امریکہ نے اسے اپنے مفادات کیلئے شروع کیا ہے۔

زبیر عزیز، پاکستان

کسی کا مسلمان ہونا ہی دہشت گرد گرد کہلانے کیلئے کافی ہے۔ امریکہ اور اس کے حلیفوں کے پاس افغانستان اور عراق پر حملہ کرنے کیلئے کوئی ثبوت نہیں تھا۔ ان کے پاس طاقت ہے اور وہ ثبوت کا انتظار نہیں کر سکتے۔

نورالصفی، کابل، افغانستان

میرا خیال ہے کہ گیارہ ستمبر کے حملے ایک یہودی سازش تھے۔ امریکہ کو دوسرے ممالک کے معاملات میں دخل دینے کا کوئی حق نہیں۔

سعید میو، ٹورنٹو، کینیڈا

میرا خیال ہے کہ مسلمانوں اور مغرب کے درمیان یا اسلام اور دوسرے مذاہب کے درمیان کوئی تصادم نہیں ہے۔ یہ جو کچھ ہو رہا ہے طاقت کا کھیل ہے۔ مغرب دنیا سے اپنی طاقت اور اثرو رسوخ نہیں گنوانا چاہتا۔

قاضی محمد شاہنواز، ڈیرہ غازی خاں

ہم مسلمان جہاد کو مقدس جنگ قرار دیتے ہیں۔ پوری دنیا کیوں مسلمانوں کے خلاف ہے۔ ہم مسجدوں، اسلامی مرکزوں، محلّوں اور گھروں میں القاعدہ اور طالبان کے حق میں بات کرتے ہیں اور مغرب کے خلاف نفرت کا اظہار کرتے ہیں۔ ہم مغرب میں رہتے ہیں مگر ہمیشہ اس کے خلاف بولتے رہتے ہیں۔

روبی شاہین، کیلیفورنیا، امریکہ

یہ دہشت گرد کون ہیں؟ کیا بن لادن، صدام حسین اور ملا عمر ایک وقت امریکہ ہی کے ساتھی نہیں تھے اور انہیں امریکہ کا تعاون حاصل نہیں تھا؟ جب عراق نے ایران پر حملہ کیا تھا اور اپنے ہی لوگوں کے خلاف کیمیاوی ہتھیار استعمال کئے تھے تو امریکہ اس وقت کہاں تھا؟

مرید عباس، ٹورنٹو، پاکستان

سچی بات تو یہ ہے کہ عیسائی دنیا کو اسرائیل نے اغوا کر لیا ہے جس کے دفاع میں اب یہ کچھ بھی کرنے کو تیار ہے۔ لگتا ہے کہ عیسائیوں نے صدیوں تک یہودیوں پر جو ظلم وستم ڈھائے ہیں اس کی ندامت سے چھٹکارا پانے کیلئے اب وہ انہیں مسلمانوں پر ہر ظلم ڈھانے کی اجازت دینے کو تیار ہے۔

میاں شمس، ہیوسٹن، امریکہ

بالکل، میرا خیال ہے کہ مغرب مسلمانوں کو دبانے کیلئے سب کچھ کر رہا ہے۔

علی رضا، حیدرآباد

مجھے مغرب کی منطق سمجھ میں نہیں آتی۔ جب اسے مسلمانوں کی ضرورت تھی کہ وہ اس کیلئے لڑیں تو وہ انہیں ’مجاہدین‘ کا لقب دیتا رہا اب وہ دہشت گرد ہیں۔

امجد، رانی پور، پاکستان

ہماری دنیا آج جن مسائل میں گھر گئی ہے اس کی مکمل ذمہ داری صرف انتہا پسندوں پر عائد ہوتی ہے۔ ہمیں ایک لبرل طرز زندگی اختیار کرنا ہوگا۔

ڈاکٹر اقبال، لاہور

پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد