’مغرب ہماری ترقی قبول کرے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے وزیر اعظم منموہن سنگھ نے کہا ہے کہ مغربی ممالک کو ہندوستان اور چین میں ہونے والی ترقی کو قبول کرنا چاہیے اور اس کے ساتھ ساتھ انہیں ان دونوں ممالک کی ترقی میں رکاوٹیں نہیں ڈالنی چاہیں۔ منموہن سنگھ نے یہ بات لندن سکول آف اکنامکس کے ایشاء فورم سے دلی میں اپنے خطاب کے دوران کہی۔ اپنے خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی نظام میں ہونے والی تبدیلیوں کے پیش نظر اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کو از سر نو منظم کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’ جس طرح ماحولیات اور توانائی کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی تجارتی نظام کی ضرورت ہے اسی طرح اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کو بھی دوبارہ منظم کر نے کی ضرورت ہے‘۔ بھارتی وزیر اعظم نے چین اور ہندوستان میں ہونے والی ترقی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’جس طرح پوری دنیا میں عالمی جنگ کے بعد یورپ کو ایک نئی پہچان اور جگہ ملی تھی اسی طرح آنے والے برسوں میں ایشیائی ممالک کی نئی معیشتوں کی ترقی کو بھی جگہ دینی ہوگی‘۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان اور چین دنیا کے کل جی ڈی پی میں اپنا حصہ اس سطح پر لانے کو دوبارہ تیار ہیں جو انہوں نے دو صدیوں پر مشتعمل برطانوي سامراجیت یعنی ’یورپین امپیرلازم‘ کے دوران کھو دی تھی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو عشروں میں دنیا کے کل جی ڈی پی میں چین کا حصہ تین گنا بڑھ گیا ہے جبکہ ہندوستان کا اس جی ڈی پی میں اضافہ دو گنا ہے۔ وزیر اعظم منموہن سنگھ نے یہ بھی کہا کہ مستقبل میں چاپان اقتصادی ترقی کے معاملے میں ایشیائی ملکوں میں سب سے آگے رہے گا۔ اور اس کے ساتھ مشرقی اور جنوبی مشرقی ایشیا کی ابھرتی ہوئی معیشتیں بھی تیزی سے ترقی کرے گیں۔ | اسی بارے میں عالمی تجارت: انڈیا برازیل کی کاوش12 September, 2006 | انڈیا ’ریاستیں ترقی کی رفتار بڑھائیں‘28 September, 2006 | انڈیا ای میل: منموہن سنگھ کو دھمکی27 October, 2006 | انڈیا چین، بھارت: تیرہ معاہدوں پردستخط 21 November, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||