عالمی تجارت: انڈیا برازیل کی کاوش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارتی وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ اعتراف کرتے ہیں کہ بطور ایک ماہرِ اقتصادیات وہ برازیل جیسے ملک سے خاصے متاثر رہے ہیں۔ اُن کے نزدیک برازیل وہ ملک ہے جس نے زرعی میدان میں خود کو ایک سُپر پاور ثابت کیا۔ یہ وہ ملک ہے جس نے توانائی کے شعبے میں خاصی حد تک خود کفالت حاصل کی۔ اس کے علاوہ برازیل کی یونیورسٹیوں میں جس طرح نئی تحقیق سے زراعت میں جدت لائی گئی ہے، بھارتی وزیراعظم اسے بھی رشک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ڈاکٹر منموہن سنگھ کےنزدیک اُن کا ملک برازیل کے ان تجربات سے بہت کُچھ سیکھ سکتا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ بھارتی وزیرِاعظم اپنے سرکاری دورے میں کئی اعلیٰ حکومتی اہلکاروں کے علاوہ بھارت میں بڑی بڑی کمپنیوں کے کوئی پچاس سے زائد کاروباری حضرات اپنے ہمراہ لائے ہیں۔ بھارتی وزیرِاعظم کی یہاں برازیل کے وزیرِاعظم لولا ڈا سِلوا کے ساتھ ملاقات میں کئی سمجھوتوں پر دستخط ہونے ہیں۔ اڑتیس برس میں یہ پہلی بار ہے کہ کسی بھارتی وزیراعظم نے برازیل کا رُخ کیا ہو۔ یہاں آخری بار آنے والی بھارتی وزیرِاعظم اِندرا گاندھی تھیں۔
اپنے اپنے ملکوں میں طبقاتی نظام کے خاتمے کے لیے ڈاکٹر منموہن سنگھ اور لولا ڈا سِلوا کُچھ کر پائے ہوں یا نہیں، البتہ عالمی سطح پر انہوں نے امیر ممالک کی ناانصافی پر مبنی تجارتی پالیسیوں کے خلاف مل کر آواز اٹھانے کی ٹھانی ہے۔ ڈبلیو ٹی او کے عالمی مذاکرات میں برازیل اور بھارت ہی ہیں جنہوں نے کوئی دو درجن اور ترقی پذیر ممالک (بشمول پاکستان) کو ساتھ ملا کر امریکہ، یورپی یونین اور جاپان سے ٹکر لی ہوئی ہے۔ حالیہ برسوں میں بھارت اور برازیل میں سفارتی سطح پر تعاون کے ساتھ ساتھ باہمی تجارت میں بھی زبردست اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ حکام کے مطابق سن دو ہزار چار کی نسبت پچھلے سال اس تجارت میں سو فیصد اضافہ ہوا۔ اور اگر یہی رفتار رہی تو موجودہ ڈھائی ارب ڈالر کی تجارت چند برسوں کے اندر بڑھ کر دوگنی ہو سکتی ہے۔ برازیل بھارت سے سستی دوائیں درآمد کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ اسے آئی ٹی کے علاوہ، بھارتی ریفائنریز میں سے نکلنے والے تیل میں بھی دلچسپی ہے۔ خود برازیل دنیا میں چینی اور ایتھنول پیدا کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔ بھارت کی دلچسپی ایتھنول حاصل کرنے میں ہے تاکہ توانائی کے شعبے میں اس کے استعمال سے خام تیل کی مہنگی درآمدات میں کمی لائی جا سکے۔ حکام کا کہنا ہے کہ زراعت، کھانے پینے کی اشیاء کی پروسیسنگ، ریلوے اور فضائیہ کے شعبوں میں مذید تعاون سے دونوں ملکوں کے کاروباری لوگ بڑا پیسہ بنا سکتے ہیں، جس کا کبھی نہ کبھی فائدہ تو عام صارفین اور عوام کو ہوگا۔ | اسی بارے میں زرعی سبسڈی کے خاتمے پر’اتفاق‘18 December, 2005 | آس پاس بھارت ہمارا ساتھ دے25 January, 2004 | آس پاس عالمی تجارتی مذاکرات کا آخری روز18 December, 2005 | آس پاس ڈبلیو ٹی او: زراعتی تعطل برقرار 17 December, 2005 | آس پاس ڈبلیو ٹی او: برازیل کی پیشکش14 December, 2005 | آس پاس بھارت میں اب چینی طرز کے تجارتی زون10 May, 2005 | انڈیا انڈیا: باہمی تجارتی معاہدے پر غور26 July, 2006 | انڈیا سلامتی کونسل کا توسیعی منصوبہ12 July, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||