BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 12 September, 2006, 07:26 GMT 12:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عالمی تجارت: انڈیا برازیل کی کاوش

برازیل کے وزیر خارجہ سیلسو امورِم بھارت کے کامرس منسٹر کمل ناتھ کے ساتھ، حال میں دونوں ملکوں کے تعلقات مضبوط ہوئے ہیں
بھارتی وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ اعتراف کرتے ہیں کہ بطور ایک ماہرِ اقتصادیات وہ برازیل جیسے ملک سے خاصے متاثر رہے ہیں۔

اُن کے نزدیک برازیل وہ ملک ہے جس نے زرعی میدان میں خود کو ایک سُپر پاور ثابت کیا۔ یہ وہ ملک ہے جس نے توانائی کے شعبے میں خاصی حد تک خود کفالت حاصل کی۔ اس کے علاوہ برازیل کی یونیورسٹیوں میں جس طرح نئی تحقیق سے زراعت میں جدت لائی گئی ہے، بھارتی وزیراعظم اسے بھی رشک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

ڈاکٹر منموہن سنگھ کےنزدیک اُن کا ملک برازیل کے ان تجربات سے بہت کُچھ سیکھ سکتا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ بھارتی وزیرِاعظم اپنے سرکاری دورے میں کئی اعلیٰ حکومتی اہلکاروں کے علاوہ بھارت میں بڑی بڑی کمپنیوں کے کوئی پچاس سے زائد کاروباری حضرات اپنے ہمراہ لائے ہیں۔ بھارتی وزیرِاعظم کی یہاں برازیل کے وزیرِاعظم لولا ڈا سِلوا کے ساتھ ملاقات میں کئی سمجھوتوں پر دستخط ہونے ہیں۔

اڑتیس برس میں یہ پہلی بار ہے کہ کسی بھارتی وزیراعظم نے برازیل کا رُخ کیا ہو۔ یہاں آخری بار آنے والی بھارتی وزیرِاعظم اِندرا گاندھی تھیں۔

باہمی تجارت میں بھی زبردست اضافہ
 حالیہ برسوں میں بھارت اور برازیل میں سفارتی سطح پر تعاون کے ساتھ ساتھ باہمی تجارت میں بھی زبردست اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ حکام کے مطابق سن دو ہزار چار کی نسبت پچھلے سال اس تجارت میں سو فیصد اضافہ ہوا۔ اور اگر یہی رفتار رہی تو موجودہ ڈھائی ارب ڈالر کی تجارت چند برسوں کے اندر بڑھ کر دوگنی ہو سکتی ہے۔ برازیل بھارت سے سستی دوائیں درآمد کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ اسے آئی ٹی کے علاوہ، بھارتی ریفائنریز میں سے نکلنے والے تیل میں بھی دلچسپی ہے۔
برازیل اور بھارت یوں تو ایک دوسرے سے سمندروں دور ہیں لیکن دونوں میں کافی باتیں مشترک بھی ہیں: بھارت جنوبی ایشیا کی علاقائی طاقت ہے جبکہ برازیل جنوبی امریکہ کا سب سے بڑا اور طاقتور ملک ہے۔ دونوں ملک عالمی سطح پر مزید اہمیت کے دعویدار اور خواہشند ہیں۔ دونوں کی معیشتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں لیکن دونوں ملکوں میں غربت سنگین ہے جبکہ امیر غریب کا فرق ہے کہ بظاہر بڑھتا ہی جا رہا ہے۔

اپنے اپنے ملکوں میں طبقاتی نظام کے خاتمے کے لیے ڈاکٹر منموہن سنگھ اور لولا ڈا سِلوا کُچھ کر پائے ہوں یا نہیں، البتہ عالمی سطح پر انہوں نے امیر ممالک کی ناانصافی پر مبنی تجارتی پالیسیوں کے خلاف مل کر آواز اٹھانے کی ٹھانی ہے۔ ڈبلیو ٹی او کے عالمی مذاکرات میں برازیل اور بھارت ہی ہیں جنہوں نے کوئی دو درجن اور ترقی پذیر ممالک (بشمول پاکستان) کو ساتھ ملا کر امریکہ، یورپی یونین اور جاپان سے ٹکر لی ہوئی ہے۔

حالیہ برسوں میں بھارت اور برازیل میں سفارتی سطح پر تعاون کے ساتھ ساتھ باہمی تجارت میں بھی زبردست اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ حکام کے مطابق سن دو ہزار چار کی نسبت پچھلے سال اس تجارت میں سو فیصد اضافہ ہوا۔ اور اگر یہی رفتار رہی تو موجودہ ڈھائی ارب ڈالر کی تجارت چند برسوں کے اندر بڑھ کر دوگنی ہو سکتی ہے۔ برازیل بھارت سے سستی دوائیں درآمد کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ اسے آئی ٹی کے علاوہ، بھارتی ریفائنریز میں سے نکلنے والے تیل میں بھی دلچسپی ہے۔

خود برازیل دنیا میں چینی اور ایتھنول پیدا کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔ بھارت کی دلچسپی ایتھنول حاصل کرنے میں ہے تاکہ توانائی کے شعبے میں اس کے استعمال سے خام تیل کی مہنگی درآمدات میں کمی لائی جا سکے۔ حکام کا کہنا ہے کہ زراعت، کھانے پینے کی اشیاء کی پروسیسنگ، ریلوے اور فضائیہ کے شعبوں میں مذید تعاون سے دونوں ملکوں کے کاروباری لوگ بڑا پیسہ بنا سکتے ہیں، جس کا کبھی نہ کبھی فائدہ تو عام صارفین اور عوام کو ہوگا۔

اسی بارے میں
بھارت ہمارا ساتھ دے
25 January, 2004 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد