عالمی تجارتی مذاکرات کا آخری روز | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عالمی تجارت کے نئے معاہدے پر اتفاقِ رائے کے لیے مشکل مذاکرات آخری روز میں داخل ہو گئے ہیں۔ ہانگ کانگ میں عالمی تجارتی تنظیم ڈبلیو ٹی او کے مذاکرات میں ترقی یافتہ ممالک چاہتے ہیں کہ ترقی پزیر ممالک اپنی منڈیاں ترقی یافتہ ممالک کے لیے کھول دیں جبکہ ترقی پزیر ممالک کا موقف یہ ہے کہ امیر ممالک اپنے امیر کسانوں اور پیداوار سے منسلک افراد کو سبسڈی یا ریائتیں دینا بند کر دیں۔ ڈبلیو ٹی او کے پاس معاہدے کا مسودہ موجود ہے لیکن ایسا نہیں لگتا کہ سب کے لیے یہ قبول کرنا کوئی آسان کام ہو گا۔ سنیچر کو مظاہرین اور پولیس کے درمیان تصادم میں کم از کم ستر افراد زخمی ہو گئے تھے۔ تقریباً ایک ہزار کے قریب افراد امیر ممالک کے ہاتھوں غریب ممالک کے استحصال کے خلاف مظاہرے کر رہے تھے۔ ہانگ کانگ میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ڈبلیو ٹی او کے منگل سے شروع ہونے اجلاس کے بعد یہ سب سے بدترین مظاہرے تھے۔ مظاہرین نے جن میں اکثریت کا تعلق کوریا سے تھا، پولیس کے حصار کو توڑ کر اجلاس کے مقام پر جانے کی کوشش کی۔ پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے آنسو گیس استعمال کی۔ پولیس نے پانی کی گنوں سے پانی پھینکنے کے علاوہ مظاہرین پر مرچوں کا سپرے کیا۔ بعد میں پولیس نے کہا کہ انہوں نے مظاہرین پر قابو پا لیا ہے۔ مظاہرین کی ایک بڑی تعداد کوریا، فلپائن اور انڈونیشیا جیسے ممالک کے مزدوروں کی تھی۔ عالمی تجارتی تنظیم کے خلاف تمام احتجاج کرنے کے لیے ساری دنیا ہزاروں مزدور ہانگ کانگ میں پہنچے ہوئے ہیں۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ مصالحت کار پانچ روزہ مذاکرات کے بعد تھک چکے ہیں اور مذاکرات کا آخری روز ڈبلیو ٹی کے ممبران کے درمیان اختلافات کو ختم کرنے کے لیے کافی نہیں ہو گا۔ |
اسی بارے میں ہانگ کانگ: ڈبلیوٹی او کےخلاف مظاہرہ17 December, 2005 | آس پاس بش اور آزاد تجارت کے خلاف مظاہرے04 November, 2005 | آس پاس امریکہ، چین: ٹیکسٹائل مذاکرات 04 June, 2005 | آس پاس کاٹن سبسڈی ، امریکہ کی ہار04 March, 2005 | آس پاس انڈیا کو فائدہ، بنگلہ دیشی بےروزگار16 December, 2004 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||