زرعی سبسڈی کے خاتمے پر’اتفاق‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہانگ کانگ میں ہونے والے عالمی تجارتی مذاکرات کے آخری دن امیر ممالک اپنے کسانوں کو دی جانے والی زراعتی سبسڈی سن دوہزار تیرہ تک ختم کرنے پر راضی ہوگئے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ غریب ملکوں کے کسان کم قیمتوں پر تیار کردہ اپنا سامان بین الاقوامی منڈی میں فروخت کرسکیں گے۔ ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کے تحت ہونے والے تجارتی مذاکرات میں ایک سو انچاس ممالک شریک ہوئے۔ غریب ممالک کا مطالبہ تھا کہ امیر ملک اپنے کسانوں کو رعایتیں دینا بند کریں تاکہ ان کے کسان بھی اپنے سامان بین الاقوامی بازاروں تک پہنچا سکیں۔ ہانگ کانگ میں طےپانے والے مسودے کے مطابق یورپی یونین اس بات پر راضی ہوگئی ہے کہ وہ سن دو ہزار تیرہ تک اپنی زراعتی سبسڈی ختم کردے گی۔ برازیل کی قیادت میں غریب ممالک کوشش میں تھے کہ زراعتی سبسڈی سن دو ہزار دس تک ختم ہوجائے۔ خبررساں ادارے رائٹرز نے مذاکرات کے آخری دن طےپانے والے مسودے کے حوالے سے بتایا ہے کہ امیر ممالک کپاس کی برآمد پر لگنے والے محصول کے خاتمے پر بھی راضی ہوگئے ہیں۔ یہ امریکہ کے لیے ایک حساس معاملہ تھا۔ غریب ترین ممالک یعنی لیسٹ ڈیویلپڈ کنٹریز کے لیے مسودے میں اس بات کی تجویز دی گئی ہے کہ ان کی ستانوے فیصد اشیاء کو بغیر کسی محصول کے بین الاقوامی منڈی میں سن دو ہزار آٹھ تک رسائی دی جائے گی۔ یہ ممالک چاہتے تھے کہ یہ سہولت کی ان کی ننانوے اعشاریہ نو فیصد اشیاء کو ملے۔ مذاکرات کے خلاف ہانگ کانگ میں ہزاروں افراد نے مظاہرے کیے جن کا موقف ہے کہ آزاد تجارت کا عالمی نظام غریب ملکوں کے کسانوں کا امیر ملکوں کی جانب سے استحصال ثابت ہورہا ہے۔ گلوبلائزیشن مخالف مظاہرین پر پولیس نے آنسو گیس اور مرچوں کا سپرے کیا جس سے ستر افراد زخمی ہوگئے۔ ہانگ کانگ میں یہ مذاکرات پانچ دنوں سے جاری ہیں۔
بی بی سی کے نامہ نگار اینڈریو واکر کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے مسودے میں ایسے تکنیکی الفاظ کا استعمال کیا گیا ہے کہ امیر ممالک اب بھی اپنے فائدے کے لیے اس کا استعمال کرسکتے ہیں۔ امید کی جارہی ہے کہ مذاکرات میں شامل ایک سو انچاس ممالک اتوار کی شام تک اس مسودے کو منظوری دیدیں گے۔ اس مسودے کے مطابق تیس اپریل دو ہزار چھ تک رکن ممالک کو آزادانہ تجارت کے عالمی نظام کی جانب حتمی تفصیلات پر فیصلہ کرنا ہوگا۔ اگر رکن ممالک اس مسودے پر عمل کرنے میں کامیاب رہے تو ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کےتحت آزادنہ تجارت کا ایک عالمی نظام دو ہزار چھ میں ایک معاہدے کی شکل میں وجود میں آجائے گا۔ لیکن کئی ملکوں کی داخلی سیاست اس میں آڑے آسکتی ہے۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس سمجھوتے کو امریکی کانگریس سے منظوری ملنے پر ہی امریکی حکومت اس پر عمل کرسکتی ہے۔ برازیل اور بھارت نے، جو ترقی پذیر اور غریب ملکوں کا موقف اپنائے ہوئے تھے، مسودے پر ہونے والے اتفاق پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ بھارت کے وزیر برائے تجارت کمل ناتھ نے نامہ نگاروں کو بتایا: ’بھارت ترمیم شدہ فائنل مسودے کا خیرمقدم کرتا ہے۔‘ برازیل کے وزیر خارجہ سیلسو امورم نے مسودے کو قابل قبول قرار دیا۔ یورپی یونین کے تجارتی کمشنر پیٹر مینڈیلسن نے بھی مسودے کو قابل قبول قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’مسودہ قابل قبول ہے، یہ مذاکرات کو ناکامی سے بچانے کے لیے کافی ہے۔‘ | اسی بارے میں امریکہ، چین: ٹیکسٹائل مذاکرات 04 June, 2005 | آس پاس ڈبلیو ٹی او کے خلاف پہلا مظاہرہ 12 December, 2005 | آس پاس مثبت پیشرفت کی ضرورت: عنان13 December, 2005 | آس پاس ڈبلیو ٹی او: برازیل کی پیشکش14 December, 2005 | آس پاس ’امیرممالک زرعی سبسڈی ختم کریں‘15 December, 2005 | آس پاس ڈبلیو ٹی او: زراعتی تعطل برقرار 17 December, 2005 | آس پاس ڈبلیو ٹی او کےخلاف مظاہرہ17 December, 2005 | آس پاس عالمی تجارتی مذاکرات کا آخری روز18 December, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||