BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 27 October, 2006, 12:05 GMT 17:05 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ای میل: منموہن سنگھ کو دھمکی
منموہن سنگھ دہشتگردی کے خلاف علماء کے ایک حالیہ کانفرنس میں
ہندوستان کے وزیراعظم منموہن سنگھ کو ای میل کے ذریعے ملنے والی دھمکی پر ریاست کیرالہ میں ہائی الرٹ کردیا گیا ہے۔ منموہن سنگھ آئندہ ہفتے کیرالہ جانے والے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق یہ دھمکی ممنوعہ تنظیم سیمی یعنی اسٹوڈنٹس اسلامِک موومنٹ آف انڈیا کی جانب سے ای میل کے ذریعے کیرالہ کے شہر کوچی سے ارسال کی گئی ہے۔

اس ای میل کے سلسلے ميں پولیس نے چار افراد کو پوچھ گچھ کے لئے حراست میں لے لیا ہے۔ ریاست کیرالہ کے داخلہ سیکرٹری اور ریاستی سرکار کے اعلیٰ اہلکاروں نے ای میل موصول ہونے کی تصدیق کی ہے۔

اس ای میل میں لکھا ہے کہ وزیراعظم کے دورے کے دوران ان پر حملہ ہوگا۔ وزیر اعظم آئندہ اکتیس اکتوبر کو ریاست کا دورہ کرنے والے ہیں۔

ڈی جی پولیس نے صحافیوں کا بتایا ہے کہ سائبر فورنسک سیل کے مطابق یہ ای میل کوچی شہر کے ایک سائبر کیفے سے کیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق یہ میل اسٹوڈنٹ اسلامک موومنٹ یعنی سیمی کی جانب سے بھیجا گیا ہے۔

پولیس نے یہ بھی بتایا ہے کہ اس میں پارلیمنٹ پر حملہ کرنے والے مجرم محمد افضل اور کوئمبٹور میں ہونے والے بم دھماکوں کے ملزم عبد النزیر مدنی کا بھی ذکر ہے۔

کیرالہ کے وزیرداخلہ کوڈیری بالاکرشنن نے کہا ہے کہ ’اس واقعہ کو بے حد سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے اور میں خود اس پر نظر رکھے ہوئے ہوں۔‘

حکام کی جانب سے پوری ریاست میں موجود سائبر کیفز پر نظر رکھی جا رہی ہے ساتھی ہی یہاں آنے والوں کے شناختی کارڈز بھی دیکھے جا رہے ہیں۔ پولیس ریاست میں موجود بعض اسلامک گروپس کی کارکردگی پر بھی نظر رکھے ہوئے ہے۔

گزشتہ مہینے صدر جمہوریہ اے پی جے عبدالکلام کے کیرالہ کے دورے کے دوران بعض خط بموں کو تریوندرپورم کے پوسٹل ڈیپارٹمنٹ نے پکڑا تھا۔ مرکزی تحقیقاتی ایجسنی نے جانچ کے بعد بتایا تھا کہ یہ کسی کی شرارت تھی اور اس کا تعلق صدر کے دورے سے نہيں تھا۔

اس قسم کی دھمکیوں اور بعض مسلم گروپز کی سرگرمیوں نے پولیس پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔

دو مہینے قبل نوجوانوں کے ایک گرپ کو اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب وہ اراکلم علاقے میں تشویشناک پرچے بانٹ رہے تھے۔ وہ پرچے مبینہ طور پر پاکستان ميں شائع کیے گئے تھے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد