میسور میں دو شدت پسند گرفتار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی پولیس نے جنوبی شہر بینگلور کے نزدیک دو مشتبہ پاکستانی شدت پسندوں کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ پولیس کے مطابق بینگلور شہر سے ایک سو پینتالیس کلومیٹر کی دوری پر واقع میسور شہر میں ایک جھڑپ کے بعد ان لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ میسور کے پولیس کمِشنر پروین سود نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ یہ جھڑپ میسور کے باہری علاقے میں ہوئی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس نے جب موٹور سائکل پر سوار ان لوگوں کو روکنے کی کوشش کی تو انہوں نے گولیاں چلانی شروع کر دیں۔ انہوں نے بتایا کہ جب پولیس نے بھی گولیاں چلانی شرع کیں تو ان کی موٹر سائکل پھسل گئی اور وہ لوگ گر گئے۔ خبررساں ایجنسیوں کے مطابق گرفتار ہونے والے لوگوں میں سے ایک کا نام محمد فہد د اور دوسرے کا نام علی حسین ہے۔ پولیس کے مطابق ان لوگوں کے پاس سے ایک اے کے 47 رائفل، ایک سیٹیلائٹ فون اور ایک پستول برآمد ہوئے ہیں۔ مسٹر سود نے یہ بھی بتایا کہ ان لوگوں سے ایک لیپ ٹاپ بھی برامد کیا گیا ہے جس سے پتہ چلا ہے کہ ان لوگوں کا تعلق شدت پسند گروپ البدر سے تھا اور یہ میسور اور بینگلور پر حملہ کرنے کا منصوبہ تیار کرنے کے لئے یہاں آئے تھے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس معالے میں مزید تحقیقات جاری ہے۔ گزشتہ برس بینگلور میں انڈین انسٹیٹوٹ آف سائنس پر ہونے والے مشتبہ شدت پسندوں کے حملے میں دلی کے ایک سائنسدان کی ہلاکت ہوگئی تھی۔ | اسی بارے میں بنگلور: سائنسی کانفرنس پر فائرنگ28 December, 2005 | انڈیا بنگلور: حملہ آور کی تلاش جاری29 December, 2005 | انڈیا بنگلور میں ریڈ الرٹ30 December, 2005 | انڈیا بنگلور حملہ، ایک شخص گرفتار03 January, 2006 | انڈیا سائنسدان کو امریکی ویزا نہیں18 February, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||