BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 27 October, 2006, 08:30 GMT 13:30 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
میسور میں دو شدت پسند گرفتار

گزشتہ دسمبر بینگلور میں سائنس سنٹر پر حملہ ہوا تھا
ہندوستان کی پولیس نے جنوبی شہر بینگلور کے نزدیک دو مشتبہ پاکستانی شدت پسندوں کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

پولیس کے مطابق بینگلور شہر سے ایک سو پینتالیس کلومیٹر کی دوری پر واقع میسور شہر میں ایک جھڑپ کے بعد ان لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔

میسور کے پولیس کمِشنر پروین سود نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ یہ جھڑپ میسور کے باہری علاقے میں ہوئی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس نے جب موٹور سائکل پر سوار ان لوگوں کو روکنے کی کوشش کی تو انہوں نے گولیاں چلانی شروع کر دیں۔

انہوں نے بتایا کہ جب پولیس نے بھی گولیاں چلانی شرع کیں تو ان کی موٹر سائکل پھسل گئی اور وہ لوگ گر گئے۔ خبررساں ایجنسیوں کے مطابق گرفتار ہونے والے لوگوں میں سے ایک کا نام محمد فہد د اور دوسرے کا نام علی حسین ہے۔

پولیس کے مطابق ان لوگوں کے پاس سے ایک اے کے 47 رائفل، ایک سیٹیلائٹ فون اور ایک پستول برآمد ہوئے ہیں۔

مسٹر سود نے یہ بھی بتایا کہ ان لوگوں سے ایک لیپ ٹاپ بھی برامد کیا گیا ہے جس سے پتہ چلا ہے کہ ان لوگوں کا تعلق شدت پسند گروپ البدر سے تھا اور یہ میسور اور بینگلور پر حملہ کرنے کا منصوبہ تیار کرنے کے لئے یہاں آئے تھے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اس معالے میں مزید تحقیقات جاری ہے۔ گزشتہ برس بینگلور میں انڈین انسٹیٹوٹ آف سائنس پر ہونے والے مشتبہ شدت پسندوں کے حملے میں دلی کے ایک سائنسدان کی ہلاکت ہوگئی تھی۔

اسی بارے میں
بنگلور میں ریڈ الرٹ
30 December, 2005 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد