کشمیر میں ہزاروں کا احتجاج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے زير انتظام جموں کشمیر میں ایک ٹیکسی ڈرائیور کی بھارتی افواج کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے احتجاج کیا ہے۔ یہ واقعہ پلوامہ ضلع میں پیش آیا ہے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ منگل کے روز بھارتی فوج کے جوان زبردستی مختار احمد نامی شخص کی ٹیکسی لےکر چلے گئے۔ اس کے بعد شوپائن علاقے میں بعض شدت پسندوں اور فوج کے جوانوں کے درمیان جھڑپ ہوئی جس ميں فوج کے ایک جوان سمیت وہ شخص بھی مارا گیا۔ فوج کے ایک ترجمان کے مطابق فوج نے ایک گاڑی کرائے پر لی تھی اور جب فوج کے جوان ایک آپریشن کو پورا کر کے لوٹ رہے تھے تو ان کی گاڑی پر شدت پسندوں نے گولیاں چلانی شروع کر دیں۔ مظاہرین احتجاج کے دوران ’آزادی‘ کے نعرے لگا رہے تھے۔ ملک کے اس متنازعہ خطے کے زرعی علاقوں میں اس طرح کے واقعات اکثر پیش آتے رہتے ہیں۔ اکثر بھارتی افواج زبردستی بسوں اور گاڑیوں کو اپنے قبضے میں لے لیتی ہے اور اپنے آپریشنز میں ان کا استمعال کرتی ہیں۔ | اسی بارے میں کشمیر 2006 :فارمولوں،مظاہروں اور لچک کا سال24 December, 2006 | انڈیا کشمیرمیں چار شدت پسند ہلاک24 December, 2006 | انڈیا کشمیر : جھڑپ میں دو شہری ہلاک22 December, 2006 | انڈیا کشمیر: مزید ایک فوجی کی’خودکشی‘18 December, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||