BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 12 January, 2007, 15:34 GMT 20:34 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کشمیر، فوجی کارروائی تیز ہوگی‘

فوج
جنرل ایس کے سیکھون کا کہنا تھا کہ فوج کے جوان شہریوں کا دل جیتنے کی بھی اپنی کوشش جاری رکھيں گے
ہندوستان کی فوج نے کہا ہے کہ آئندہ ہفتوں میں ہندوستان کے زیر انتظام جموں کشمیر میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائی مزید تیز کی جائے گی۔

فوج کے اعلیٰ کمانڈر لفٹیننٹ جنرل ایس کے سیکھون نے سرینگر میں صحافیوں کو بتایا ’ہمیں اس بات کا پورا یقین ہے کہ آنے والے دنوں میں فوج شدت پسندوں کے خلاف کارروائی مزید تیز کر دے گی اور جس طرح سے فوج کی کارروائی جاری ہے اس سے ہم ان لوگوں کو کافی نقصان پہنچا سکتے ہیں جن کے ہاتھوں میں ہتھیار موجود ہیں‘۔

اس کے علاوہ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ فوج کے جوان شہریوں کا دل جیتنے کی بھی اپنی کوشش جاری رکھيں گے۔

حال ہی میں فوج کو شہریوں کو تحویل ميں یا پھر گھات لگا کر ہلاک کرنے کےسبب سخت نکتہ چینی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

جنرل سیکھون نے بتایا ہے کہ گزشتہ برسوں ميں رکھنے کشمیر میں تشدد کے واقعات میں کمی آئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ابھی شدت پسند فوج کے ساتھ سیدھی جھڑپوں سے بچ رہے ہیں اور دستی بموں سے حملے کر رہے ہيں۔

ان کا کہنا تھا کہ کہ شدت پسندوں کے حوصلے اس وجہ سے بھی متاثر ہوئے جن ہیں کیونکہ گزشتہ دنوں فوج نے ان کے کئی اعلی کمانڈرز کو ہلاک کر دیا ہے۔’شدت پسندوں پردباؤ برقرار ہے اورفوج انہیں دوبارہ گرپ بنانے کا موقع نہیں دے رہی ہيں‘۔

ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ تین برسوں ميں سرحد پر باڑ لگانے اور رات کے وقت نگرانی کے لیے آلے لگانے کے سبب دراندازی کی نگرانی میں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔

تاہم جنرل سکھون نے سے بات سے اتفاق کیا کہ شدت پسندوں کے لیے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں تربیتی کیمپ ابھی بھی موجود ہيں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد