کشمیر، فوجی کارروائی تیز ہوگی‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی فوج نے کہا ہے کہ آئندہ ہفتوں میں ہندوستان کے زیر انتظام جموں کشمیر میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائی مزید تیز کی جائے گی۔ فوج کے اعلیٰ کمانڈر لفٹیننٹ جنرل ایس کے سیکھون نے سرینگر میں صحافیوں کو بتایا ’ہمیں اس بات کا پورا یقین ہے کہ آنے والے دنوں میں فوج شدت پسندوں کے خلاف کارروائی مزید تیز کر دے گی اور جس طرح سے فوج کی کارروائی جاری ہے اس سے ہم ان لوگوں کو کافی نقصان پہنچا سکتے ہیں جن کے ہاتھوں میں ہتھیار موجود ہیں‘۔ اس کے علاوہ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ فوج کے جوان شہریوں کا دل جیتنے کی بھی اپنی کوشش جاری رکھيں گے۔ حال ہی میں فوج کو شہریوں کو تحویل ميں یا پھر گھات لگا کر ہلاک کرنے کےسبب سخت نکتہ چینی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ جنرل سیکھون نے بتایا ہے کہ گزشتہ برسوں ميں رکھنے کشمیر میں تشدد کے واقعات میں کمی آئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ابھی شدت پسند فوج کے ساتھ سیدھی جھڑپوں سے بچ رہے ہیں اور دستی بموں سے حملے کر رہے ہيں۔ ان کا کہنا تھا کہ کہ شدت پسندوں کے حوصلے اس وجہ سے بھی متاثر ہوئے جن ہیں کیونکہ گزشتہ دنوں فوج نے ان کے کئی اعلی کمانڈرز کو ہلاک کر دیا ہے۔’شدت پسندوں پردباؤ برقرار ہے اورفوج انہیں دوبارہ گرپ بنانے کا موقع نہیں دے رہی ہيں‘۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ تین برسوں ميں سرحد پر باڑ لگانے اور رات کے وقت نگرانی کے لیے آلے لگانے کے سبب دراندازی کی نگرانی میں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ تاہم جنرل سکھون نے سے بات سے اتفاق کیا کہ شدت پسندوں کے لیے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں تربیتی کیمپ ابھی بھی موجود ہيں۔ | اسی بارے میں کشمیر: مشروط جنگ بندی ممکن 28 November, 2006 | انڈیا کپواڑہ میں انتہا پسند گرفتار16 November, 2006 | انڈیا فوجی کیمپ ٹارچر سینٹر ہیں:عمر02 November, 2006 | انڈیا کشمیر: فوجی انخلا کی تیاری؟17 November, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||