فوجی کیمپ ٹارچر سینٹر ہیں:عمر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے سابق نائب وزیر خارجہ عمرعبداللہ نےوادی کشمیر میں قائم تمام فوجی کیمپوں کو ٹارچر سینٹر قرار دیا ہے۔ ہندنواز کشمیری لیڈر عمر عبداللہ نے حکومت ہند سےعالمی ریڈ کراس تنظیم کو تمام فوجی کیپموں میں موجود خفیہ ٹارچر مراکز کا دورہ کرنے کی اجازت دیئے جانے کا مطالبہ کیا۔ عمر عبداللہ کشمیر کے پہلے مقامی حکمران شیخ محمد عبداللہ کے پوتے اور سب سے پرانی سیاسی تنطیم نیشنل کانفرنس کےموجودہ صدر ہیں۔ اُن کی پارٹی اس وقت اپوزیشن میں ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ یہ اقدام کیے جانے تک وہ کسی قسم کی بات چیت میں حصہ نہیں لیں گے۔واضح رہے کہ عالمی ریڈ کراس فی الوقت حکومت ہند کے ساتھ ایک معاہدے کی رُو سے ریاست میں سرگرم ہے اور اسے صرف جیلوں میں معائنے کی محدود اجازت حاصل ہے۔ عمر عبداللہ نے وزیر اعظم کی طرف سے انسانی حقوق کی خلاف ورزی روکنے کے وعدے پر عمل درآمد نہ کرنے کو ’افسوس ناک‘ قرار دیا اور اعلان کیا کہ اس وقت تک ورکنگ گروپ یا بات چیت کے عمل میں شرکت نہیں ہوں گے جب تک ان کے تحفظات کا ازالہ نہیں کیا جاتا۔ عمر عبداللہ ہندوستانی پارلیمنٹ میں سرینگر اور بڈگام حلقے کی نمائندگی کرتے ہیں۔عمر عبداللہ نے کہا کہ جب تک ریاست میں تعینات ہندوستانی افواج کو خصوصی اختیارات حاصل ہیں، حقوق کی خلاف ورزیاں روکنا ناممکن ہے۔ | اسی بارے میں ’کشمیر: تحویل میں ہلاکتیں‘12 September, 2006 | انڈیا انسانی حقوق کے کارکن پر پابندیاں30 September, 2006 | انڈیا ’تین مشتبہ شدت پسند ہلاک‘24 October, 2006 | انڈیا لاپتہ کشمیری۔۔۔28 October, 2006 | انڈیا افضل، کشمیریوں میں ملاجلا ردعمل20 October, 2006 | انڈیا ’کشمیر سےدس ہزار افراد لاپتہ‘ 28 October, 2006 | انڈیا کشمیر کے گمشدہ: سونو اور ماسٹر ثنااللہ گنائی22 October, 2006 | انڈیا ’ڈیوٹی کا کرب‘، فوجی ہلاک29 October, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||