BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 20 October, 2006, 08:51 GMT 13:51 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
افضل، کشمیریوں میں ملاجلا ردعمل

مصنفہ ارون دھتی رائے نے معافی کی اپیل کی
ہندوستانی پارلیمنٹ پر حملے کے الزام میں سزائے موت پانے والے افضل گورو کی پھانسی ٹل جانے پر کشمیر میں کچھ حلقے اطمینان کا اظہار کر رہے ہیں، جبکہ بعض دیگر حلقوں کو خدشہ ہے کہ سزا عارضی طور پر ملتوی ہوئی ہے۔

آزادی پسند تنظیم جموں کشمیر لبریشن فرنٹ، جس کے ساتھ افضل گورو وابستہ رہ چکے ہیں، کے سربراہ محمد یٰسین ملک اس فیصلے کو نفسیاتی فتح قرار دیتے ہیں۔ انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’یہ اُن لوگوں کے خلاف پُرامن احتجاج کرنے والے کشمیریوں کی نفسیاتی فتح ہے جو نہیں چاہتے کہ مسئلہ کشمیر پُرامن طور پر بات چیت کے ذریعہ حل ہو۔‘

محمد یٰسین کا کہنا تھا کہ ’یہ تو ہماری قوم کا جمہوری فیصلہ تھا، لہٰذا جیت لوگوں کی ہوئی ہے کسی سیاسی پارٹی یا لیڈر کی نہیں۔‘

یٰسین ملک نے سرینگر اور نئی دلّی میں افضل کے حق میں مسلسل مہم چلائی جس میں بھگت سنگھ کے اہل خانہ، معروف مصنفہ ارون دھتی رائے اور ہندوستانی سول سوسائٹی کے دیگر سرکردہ لوگوں نے شرکت کی۔

سزا ملتوی کیے جانے سے متعلق قانون دان حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ تو محض ’پروسیڈیورل ڈی لے‘ یعنی ضابطے کے تحت التوا ہے، لہٰذا گورو کی جاں بخشی کا معاملہ ابھی بھی معلق ہے۔

 صدر ہند کے پاس ابھی بھی جاں بخشی کی اکیس درخواستیں التوا میں پڑی ہیں اور ان میں اُن تین لوگوں کی عرضیاں بھی شامل ہیں جنہیں ہندوستان کے سابق وزیراعظم راجیو گاندھی کے قتل میں ملوث پاکر سولہ سال قبل سزائے موت سنائی گئی تھی۔
قانون کے پروفیسر ڈاکٹر شیخ شوکت حسین
کشمیر یونیورسٹی میں شعبۂ قانون کے پروفیسر ڈاکٹر شیخ شوکت حسین کے مطابق ’ابھی تک نئی دلّی نے کوئی ایسا اعلان نہیں کیا ہے جس کی بنیاد پر یہ کہا جائے کہ سب کچھ ٹھیک ہو گیا ہے۔‘

ڈاکٹر حسین کہتے ہیں کہ صدر ہند کے پاس ابھی بھی جاں بخشی کی اکیس درخواستیں التوا میں پڑی ہیں اور ان میں اُن تین لوگوں کی عرضیاں بھی شامل ہیں جنہیں ہندوستان کے سابق وزیراعظم راجیو گاندھی کے قتل میں ملوث پاکر سولہ سال قبل سزائے موت سنائی گئی تھی۔

خدشات
یونیورسٹی میں ہی تاریخ کے استاد ارشاد احمد نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا کہ کہیں گورو کو ’بارگین پوائنٹ‘ کے طور پر محفوظ تو نہیں کیا گیا۔ مسڑ ارشاد، مقبول بٹ جنہیں بائیس سال قبل تہاڑ جیل میں پھانسی دی گئی، کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ بٹ کی پھانسی بھی ایک ’ری ایکشن‘ تھا۔

مسٹر ارشاد تاریخی حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں: ’ایک پولیس افسر کے الزام میں مقبول بٹ کو 1969 میں اس وقت پھانسی کی سزا سنائی گئی جب وہ روپوش تھا۔ چنانچہ سات سال بعد یعنی 1976 میں جب اسے گرفتار کیا گیا تو پھانسی کے آرڈر پر فوری عمل درآمد نہیں ہوا۔‘

’حالانکہ اُس وقت اکثر کشمیریوں کو معلوم بھی نہیں تھا کہ مقبول بٹ کون ہے۔ کوئی احتجاج نہیں، کوئی پریشر نہیں تھا۔ پورے آٹھ سال بعد بٹ کو اُس وقت پھانسی پر لٹکایا گیا جب برطانیہ میں ہندوستانی سفارتکار مہاترے کا اغوا کے بعد قتل ہوا۔‘

گو کہ اب فیصلے کا مجاز خود صدر ہے، ہندوستانی وزارت قانون کی طرف سے گورو کی پھانسی کو حق بجانب ٹھہرانا عوامی خدشات کو تقویت دے رہا ہے۔ یہاں کے مقامی مبصرین کہتے ہیں کہ وزارت قانون کے بیان پر کسی بھی وزیر نے کوئی رد عمل نہیں دکھایا جس کا مطلب یہ ہے کہ منموہن سنگھ حکومت کی وزارتی کونسل افضل کو پھانسی کی سزا دینے کے سوال پر متفق ہے۔

پھانسی کیوں ٹلی؟

افضال گورو
لیکن سوال یہ ہے کہ پھانسی ٹالنے کے پیچھے کیا محرکات تھے؟ اس سلسلے میں الگ الگ آراء سامنے آرہی ہیں۔ پھانسی ملتوی ہوجانے کے لئے یہاں کے علیحدگی پسند گروپ اور ہندنواز سیاسی حلقے اپنی اپنی سطح پر کریڈٹ کا دعویٰ کر رہے ہیں۔ حکومت میں شامل پی ڈی پی اور حزب اختلاف نیشنل کانفرنس کے رہنماؤں کا خیال ہے کہ نئی دلّی نے امن عمل کے استحکام کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا۔

جبکہ علیحدگی پسندوں کا کہنا ہے کہ کشمیر میں پوری آبادی کی رائے سپریم کورٹ فیصلے کے خلاف منظم ہوگئی تھی اور حکومت ہند اس عوامی رائے کے خلاف نہیں جاسکتی تھی۔

لیکن مبصرین کا کہنا ہے کہ افضل کو پھانسی دینے کے حق میں جس انداز سے ہندوستان کی ہندو انتہا پسند جماعتوں نے جموں اور دلی میں مہم چلائی وہ نئی دلّی کے لئے رکاوٹ بنی۔ کالم نگار پی جی رسول کہتے ہیں کہ بی جے پی اور آر ایس ایس نے افضل کو پھانسی پر چڑھانے کا مطالبہ لے کر جو زوردار مہم چلائی اس نے دلی کو مخمصے میں ڈال دیا۔

ان کا کہنا ہے کہ ’دلی والوں نے سوچا کہ اگر اس موقع پر افضل کو پھانسی دی گئی تو یہ کوئی جمہوری فیصلہ نہ رہ کر ہندو انتہا پسندوں کا فیصلہ اور اُن کی ہی جیت تصور کیا جائے گا۔ چونکہ حکومت فی الوقت کانگریس کے ہاتھ میں ہے، لہٰذا اس نے بی جے پی کو یہ بازی جیتنے سے باز رکھا۔‘

صدر کیا کریں گے؟
قانونی ماہرین کا خیال ہے کہ گزشتہ دنوں سپریم کورٹ نے کسی بھی سزایافتہ کے حق میں صدر کی معافی کو عدالتی نظرثانی کا پابند تو بنایا لیکن پھر بھی صدر کے پاس یہ حق محفوظ ہے کہ معافی کی درخواست پر وہ جتنا چاہے وقت لے سکتے ہیں۔

مقامی وکیل مدثر جمیل کے مطابق ہندوستانی آئین کی رُو سے ایوان صدر میں معافی کی درخواست کسی پارلیمانی بل کے درجہ میں آتی ہے۔ مدثر کہتے ہیں کہ صدر اس درخواست کو چاہے تو حکومت کو بنا کوئی رائے دیے لوٹا سکتے ہیں۔ اس کے بعد دوبارہ درخواست صدر کو پیش کی جائےگی اور پھر صدر فیصلہ سنانے کے پابند ہوں گے۔ لیکن اس عمل میں برسوں بھی لگ سکتے ہیں۔ واضح رہے صدر عبدالکلام اگلے سال اپنی مدت پوری کر رہے ہیں۔

محمد افضل گورونہیں جانے دوں گا
افضل گورو اپنے بیٹے اوراہل خانہ کی نظرمیں
محمد افضل گوروشاعری تا عسکریت
علم، فن، شاعری اور عسکریت کاامتزاج
اسی بارے میں
افضل کی پھانسی مؤخر
19 October, 2006 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد