افضل، کشمیریوں میں ملاجلا ردعمل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستانی پارلیمنٹ پر حملے کے الزام میں سزائے موت پانے والے افضل گورو کی پھانسی ٹل جانے پر کشمیر میں کچھ حلقے اطمینان کا اظہار کر رہے ہیں، جبکہ بعض دیگر حلقوں کو خدشہ ہے کہ سزا عارضی طور پر ملتوی ہوئی ہے۔ آزادی پسند تنظیم جموں کشمیر لبریشن فرنٹ، جس کے ساتھ افضل گورو وابستہ رہ چکے ہیں، کے سربراہ محمد یٰسین ملک اس فیصلے کو نفسیاتی فتح قرار دیتے ہیں۔ انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’یہ اُن لوگوں کے خلاف پُرامن احتجاج کرنے والے کشمیریوں کی نفسیاتی فتح ہے جو نہیں چاہتے کہ مسئلہ کشمیر پُرامن طور پر بات چیت کے ذریعہ حل ہو۔‘ محمد یٰسین کا کہنا تھا کہ ’یہ تو ہماری قوم کا جمہوری فیصلہ تھا، لہٰذا جیت لوگوں کی ہوئی ہے کسی سیاسی پارٹی یا لیڈر کی نہیں۔‘ یٰسین ملک نے سرینگر اور نئی دلّی میں افضل کے حق میں مسلسل مہم چلائی جس میں بھگت سنگھ کے اہل خانہ، معروف مصنفہ ارون دھتی رائے اور ہندوستانی سول سوسائٹی کے دیگر سرکردہ لوگوں نے شرکت کی۔ سزا ملتوی کیے جانے سے متعلق قانون دان حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ تو محض ’پروسیڈیورل ڈی لے‘ یعنی ضابطے کے تحت التوا ہے، لہٰذا گورو کی جاں بخشی کا معاملہ ابھی بھی معلق ہے۔ ڈاکٹر حسین کہتے ہیں کہ صدر ہند کے پاس ابھی بھی جاں بخشی کی اکیس درخواستیں التوا میں پڑی ہیں اور ان میں اُن تین لوگوں کی عرضیاں بھی شامل ہیں جنہیں ہندوستان کے سابق وزیراعظم راجیو گاندھی کے قتل میں ملوث پاکر سولہ سال قبل سزائے موت سنائی گئی تھی۔ خدشات مسٹر ارشاد تاریخی حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں: ’ایک پولیس افسر کے الزام میں مقبول بٹ کو 1969 میں اس وقت پھانسی کی سزا سنائی گئی جب وہ روپوش تھا۔ چنانچہ سات سال بعد یعنی 1976 میں جب اسے گرفتار کیا گیا تو پھانسی کے آرڈر پر فوری عمل درآمد نہیں ہوا۔‘ ’حالانکہ اُس وقت اکثر کشمیریوں کو معلوم بھی نہیں تھا کہ مقبول بٹ کون ہے۔ کوئی احتجاج نہیں، کوئی پریشر نہیں تھا۔ پورے آٹھ سال بعد بٹ کو اُس وقت پھانسی پر لٹکایا گیا جب برطانیہ میں ہندوستانی سفارتکار مہاترے کا اغوا کے بعد قتل ہوا۔‘ گو کہ اب فیصلے کا مجاز خود صدر ہے، ہندوستانی وزارت قانون کی طرف سے گورو کی پھانسی کو حق بجانب ٹھہرانا عوامی خدشات کو تقویت دے رہا ہے۔ یہاں کے مقامی مبصرین کہتے ہیں کہ وزارت قانون کے بیان پر کسی بھی وزیر نے کوئی رد عمل نہیں دکھایا جس کا مطلب یہ ہے کہ منموہن سنگھ حکومت کی وزارتی کونسل افضل کو پھانسی کی سزا دینے کے سوال پر متفق ہے۔ پھانسی کیوں ٹلی؟
جبکہ علیحدگی پسندوں کا کہنا ہے کہ کشمیر میں پوری آبادی کی رائے سپریم کورٹ فیصلے کے خلاف منظم ہوگئی تھی اور حکومت ہند اس عوامی رائے کے خلاف نہیں جاسکتی تھی۔ لیکن مبصرین کا کہنا ہے کہ افضل کو پھانسی دینے کے حق میں جس انداز سے ہندوستان کی ہندو انتہا پسند جماعتوں نے جموں اور دلی میں مہم چلائی وہ نئی دلّی کے لئے رکاوٹ بنی۔ کالم نگار پی جی رسول کہتے ہیں کہ بی جے پی اور آر ایس ایس نے افضل کو پھانسی پر چڑھانے کا مطالبہ لے کر جو زوردار مہم چلائی اس نے دلی کو مخمصے میں ڈال دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ’دلی والوں نے سوچا کہ اگر اس موقع پر افضل کو پھانسی دی گئی تو یہ کوئی جمہوری فیصلہ نہ رہ کر ہندو انتہا پسندوں کا فیصلہ اور اُن کی ہی جیت تصور کیا جائے گا۔ چونکہ حکومت فی الوقت کانگریس کے ہاتھ میں ہے، لہٰذا اس نے بی جے پی کو یہ بازی جیتنے سے باز رکھا۔‘ صدر کیا کریں گے؟ مقامی وکیل مدثر جمیل کے مطابق ہندوستانی آئین کی رُو سے ایوان صدر میں معافی کی درخواست کسی پارلیمانی بل کے درجہ میں آتی ہے۔ مدثر کہتے ہیں کہ صدر اس درخواست کو چاہے تو حکومت کو بنا کوئی رائے دیے لوٹا سکتے ہیں۔ اس کے بعد دوبارہ درخواست صدر کو پیش کی جائےگی اور پھر صدر فیصلہ سنانے کے پابند ہوں گے۔ لیکن اس عمل میں برسوں بھی لگ سکتے ہیں۔ واضح رہے صدر عبدالکلام اگلے سال اپنی مدت پوری کر رہے ہیں۔ |
اسی بارے میں پھانسی کے خلاف دانشوروں کی ریلی04 October, 2006 | انڈیا صدر اپیل پر غور کریں گے: تبسم 05 October, 2006 | انڈیا صدارتی معافی عدالتی دائرے میں11 October, 2006 | انڈیا دلی میں ایک کشمیری کا قتل 13 October, 2006 | انڈیا تہاڑ جیل میں پھانسی کی تیاریاں16 October, 2006 | انڈیا افضل کی رحم اپیل کے خلاف مہم تیز17 October, 2006 | انڈیا ’افضل خود رحم کی اپیل کریں گے‘19 October, 2006 | انڈیا افضل کی پھانسی مؤخر 19 October, 2006 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||