BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
صدارتی معافی عدالتی دائرے میں

بکر انعام یافتہ مصنف ارن دھتی رائے نے سزائے موت کے خلاف مظاہروں میں شرکت کی ہے
ہندوستان کی سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ سزا پانے والے شخص کو معافی دینے یا اس کی سزا کم کرنے کا جو آئینی اختیار صدر اور گورنر کو حاصل ہے اس کا استعمال مناسب ہونا چاہیے اور اس کے بے جا استعمال پر عدالت ان کے فیصلے پر نظر ثانی کرسکتی ہے۔

عدالت کے اس تازہ تبصرے سے پارلیمنٹ پر حملے کی سازش کے جرم میں پھانسی کی سزا پانے والے محمد افضل کی رحم کی اپیل پر خاطر خواہ اثرات مرتب ہو سکتے ہیں جو فی الوقت صدر کے پاس زیر غور ہے۔

سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ ذات برادری، مذہب اور سیاسی وفاداری معافی کی بنیاد نہیں بن سکتے ۔ ’صدر اور گورنر کو رحم کی اپیل پر غور کرتے وقت اس بات کو بھی ذہن میں رکھنا چاہیے کہ ان کے فیصلے سے متاثرہ شخص کے خاندان پرکیا اثر پڑے گا۔‘

عدالت کے مطابق رحم کی اپیل منظور کرنے کے لیے کوئی معقول وجہ ہونی چاہیے۔سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ صدر اور گورنر کے معافی دینے کے اختیار پر کوئی رہنمااصول تو نہیں ہیں لیکن ’غیر مناسب معافی پر عدالت نظر ثانی کرسکتی ہے۔‘

فیصلے پر عدالتی نظرثانی
 سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ صدر اور گورنر کے معافی دینے کے اختیار پر کوئی رہنمااصول تو نہیں ہیں لیکن ’غیر مناسب معافی پر عدالت نظر ثانی کرسکتی ہے۔‘
عدالت نے یہ فیصلہ ایک اپیل پر سماعت کے بعد دیا ہے جس میں آندھرا پردیش کے سابق گورنر کی کانگریس پارٹی کے ایک لیڈر گرو وینکٹ ریڈی کی معافی کو چیلنج کیا گیا تھا۔ ریڈی کو قتل کے ایک معاملے میں دس برس قید کی سزا سنائی گئی تھی لیکن پانچ برس کی سزا کے بعد گورنر سوشیل کمار شندے نے انہیں معافی دیدی تھی۔ سپریم کورٹ نے گورنر کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا ہے۔

تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ سپر یم کورٹ کے اس ‎سخت موقف کا اثر محمد افضل کی رحم کی اپیل پر بھی پڑ سکتا ہے۔ لیکن سپریم کورٹ کی وکیل نتیہ راما کرشنن کہتی ہیں کہ افضل کی ’رحم کی اپیل ذات پات، مذہب اور سیاسی بنیادوں پر نہیں ہے اس لیے اس کا اس پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔‘

محمد افضل گرو کو اس ماہ کی بیس تاریخ کو پھانسی دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔ لیکن افضل کے اہل خانہ نے صدر اے پی جے عبدالکلام سے ان کی جان بخشی کی اپیل کی ہے اور ان کی درخواست صدر کے پاس زیر غور ہے۔

کشمیر کی بیشتر سیاسی جماعتیں، ملک کے دانشور اور کئی غیر سرکاری تنظیموں نے بھی افضل کو پھانسی نہ دینے کی اپیل کی ہے۔ لیکن بھارتیہ جنتا پارٹی اور اسکی حلیف ہندو نظریاتی تنظیمیں افضل کی پھانسی پر مصر ہیں۔

وینکٹیشموت کی اپیل
’زندگی مشکل ہو گئی، ہم مرنا چاہتے ہیں‘
محمد افضل گورونہیں جانے دوں گا
افضل گورو اپنے بیٹے اوراہل خانہ کی نظرمیں
پولیسبنگلور میں حملہ
سائنس کانفرنس میں شریک پروفیسر ہلاک
میرٹھ آتشزدگیجان توگئی، نام رہ گیا
میرٹھ میں جان کی بازی لگانے والے کے لیئے انعام
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد