ہندو شہری کی ہلاکت پر مظاہرے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کے سرحدی علاقے رنبھیر سنگھ پورہ میں ایک عام شہری کی مبینہ طور پرفوج کے ہاتھوں ہلاکت کے خلاف لوگوں نے بڑی تعداد میں ایک احتجاجی جلوس نکالا۔ اطلاعات کے مطابق جموں سے تقریباً اٹھائیس کلومیٹر کی دور رنبھیر سنگھ پورہ کی ایک سرحدی چوکی ابدولیاں کے پاس بارڈ ر سکیورٹی فورس نے ایک بیس سالہ نوجوان وکرم سنگھ کو اس وقت گولی مار کر ہلاک کر دیا جب وہ بقول ان کے پاکستان سے سرحد پار کر کے ہندوستان میں داخل ہونے کی کوشش کر رہا تھا- جبکہ مقامی لوگوں نے فوج پر الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے وکرم کو اس کی دکان سے تین دن پہلے اغوا کیا تھا اور اسے ایک فرضی مقابلے میں قتل کر دیا- فوج کے ہاتھوں مبینہ ہلاکت کے بعد لوگوں کی بڑی تعداد سڑکوں پر نکل آئے اور حکومت کے خلاف احتجاجی جلوس نکالا۔
وکرم کی بہن جیلا دیوی نےبی بی سی کو بتایا کہ دس سال پہلے ان کے والد مہندر سنگھ کو پاکستان میں گرفتار کیا گیا تھا اور تب سے پاکستان کے کسی نامعلوم جیل میں ہی بند ہیں۔ اس نے کہا ’گو کہ میرے والد فوج کے لیۓ کام کرتے تھے لیکن ان کی گرفتاری کے بعد بی ایس ایف نے ہماری مدد کرنے سے صاف انکار کیا اور ہمیں یہ بتایا گیا کہ میرے والد کو سمگلنگ کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے‘- ان کے مطابق بی ایس ایف کے افسران چاہتے تھے کہ وکرم بھی اپنے والد کی طرح سرحد پار جا کر ان کے لۓ ایک جاسوسی کا کام کرے- ’جب سارے حربے ناکام ہوے تو فوجی وکرم سنگھ کو یہ کہہ کر دکان سے لے گئے کہ ان کے ٹیلیفون میں کوئی خرابی ہے جس کو درست کرنا ہے‘- بی ایس ایف کے ترجمان پریم سنگھ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تمام الزامات کو خارج کیا اور کہا کہ کچھ مقامی سیاست دان لوگوں کو فوج کے خلاف بھڑکا رہے ہیں-
مسٹر پریم کے مطابق ’28 اور 29 مئی کی درمیانی شب کو تقریباً گیارہ بجے سرحدی چوکی ابدولیاں کے پاس بی ایس ایف کے جوانوں نے تین افراد کو ہندوستان کی سرحد میں داخل ہوتے دیکھ ان کو رکنے کے لیۓ کہا- لیکن دراندازوں نے بھاگ کر واپس لوٹنے کی کوشش کی جس کی وجہ سے فوج کو گولی چلانی پڑی‘- انہوں نے کہا کہ دراندازوں میں سے ایک کو مار گرایا گیا جبکہ دو بھاگ نکلنے میں کامیاب ہو گئے۔’مارے گۓ نوجوان کی لاش کو مقامی پولیس کے حوالے کر دیا گیا اور آج صبح اس کی شناخت ایک مقامی نوجوان کے طور پر کی گئی‘- دوسری طرف پولیس نے لوگوں کے احتجاج کے بعد بی ایس ایف کے خلاف قتل کا ایک مقدمہ درج کیا ہے- پولیس کے ڈپٹی انسیکٹر جنرل نیاز محمود نے کہا، ’ہم نے قتل کا مقدمہ درج کیا ہے اور کیس کی تفتیش کی جا رہی ہے‘- یہ پہلا موقع ہے کہ بی ایس ایف پر سرحدی علاقے میں کسی ہندو شہری کی ہلاکت کا الزام عائد ہوا ہے- | اسی بارے میں شدت پسند، ملزم یا ضمیر کے قیدی22 May, 2006 | انڈیا کشمیر: بات ہو، مگر ہو پتے کی 24 May, 2006 | انڈیا ’مسئلہِ کشمیر کو سمجھنےمیں مدد‘25 May, 2006 | انڈیا مذاکرات میں تینوں فریق کو شامل کریں25 May, 2006 | انڈیا ’کشمیر: سیر جاری رکھیں گے‘27 May, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||