BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 05 October, 2006, 07:06 GMT 12:06 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
صدر عبدالکلام سےموت کی اپیل

وینکٹیش
وینکٹیش نے بھی حکومت سے مرنے کی اجازت کی اپیل کی تھی۔
ہندوستان کی ریاست راجستھان میں ایک خاندان کے چھ افراد نے صدر جمہوریہ عبدالکلام سے اپیل کی ہے کہ انہیں اپنی زندگی ختم کرنے کے اجازت دی جائے۔

اس خاندان میں چھ افراد ہیں اور وہ سبھی جسمانی طور پر پوری طرح مفلوج ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ وہ اس معذوری کی زندگی سے تھک چکے ہیں۔

مکیش کا تعلق اسی خاندان سے ہے اور ان کا کہنا ہے کہ ’ ہم مرنا چاہتے ہیں اور ہمارے لۓ اب زندگی گزارنا مشکل ہوگیا ہے۔‘

صدر کے نام خط میں انہوں نے لکھا ہے کہ اگر انہیں اس لاچاری میں جینے کا سہارا نہیں دیا جا سکتا تو مرنے کی اجازت دی جائے۔

دس برس قبل یہ افراد بیمار ہوئے تھے جس کی وجہ سے ان کے ہاتھ پاؤں مکمل طور پر مفلوج ہوگۓ۔ ڈاکٹر ابھی تک ان کی بیماری کی تشخیص نہیں کر پائے ہیں۔

مکیش اور ان کے چار بہنوں بھائیوں کے علاوہ ان کی ساٹھ برس کی ماں پوری طرح سے معذور ہیں اور جے پور شہر میں ایک اجڑے ہوئے گھر میں انتہائی غریبی کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ یہ خاندان اب بھوک ہڑتال پر ہے۔

ان افراد کے پاس کمائی کا کوئی ذریعہ نہیں۔ کچھ دن قبل تک یہ افراد ایک چھوٹی سے دکان چلا کر اپنی گزر بسر کرتے تھے لیکن ناجائز تعمیرات توڑنے کی مہم میں ان کی دکان بھی گرا دی گئی اور اب ان افراد کے پاس روزی کا کوئی ذریعہ نہیں ہے۔

ہمت جواب دے گئی
 ہمیں حکومت سے ہر ماہ پنشن کے آٹھ سو روپے ملتے ہیں۔ اسی رقم سے ہم گزر بس کرتے ہیں۔ لیکن اب ہماری ہمت جواب دے چکی ہے کیونکہ یہ رقم کھانے کے لئے بھی کافی نہیں ہے، ہماری بیماری کے علاج کی بات تو دور رہی۔
مکیش
مکیش کے مطابق: ’ہمیں حکومت سے ہر ماہ پنشن کے آٹھ سو روپے ملتے ہیں۔ اسی رقم سے ہم گزر بس کرتے ہیں۔ لیکن اب ہماری ہمت جواب دے چکی ہے کیونکہ یہ رقم کھانے کے لئے بھی کافی نہیں ہے، ہماری بیماری کے علاج کی بات تو دور رہی۔‘

اگرچہ ریاستی حکومت نے یقین دلایا ہے کہ وہ ان افراد کو ہر ممکن مدد فراہم کرے گی، لیکن ان کا کہنا ہے کہ انہیں اب کسی سے کوئی امید نہیں ہے۔

مکیش کا کہنا ہے: ’اس بیماری نے ہماری زندگی تباہ کر دی ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ حکومت ہمیں جلد از جلد مرنے کی اجازت دے دے۔‘

ہندوستان میں یتھونیسیا یعنی لاعلاج مرض کے ہاتھوں مجبور ہو کر اپنی جان لینا غیرقانونی ہے۔ دو برس قبل وینکٹیش نام کے شطرنج کے کھلاڑی نے ہندوستان کی حکومت سے اپنی مرضی سے مرنے کی اجازت کی اپیل کی تھی لیکن حکومت نے اس کی عرضی کو خارج کر دیا تھا۔

وینکٹیشن لمبے عرصے سے بیمار تھے اور لائف سپورٹ پر تھے۔ ان کی خواہش تھی کہ حکومت انکی لائف سپورٹ بند کرنے کی اجازت دے دے تاکہ مرنے سے پہلے وہ اپنے جسم کے بعض اعضاء عطیہ میں دے سکیں۔پچیس سالہ وینکٹیشن کی موت بعد میں ہسپتال میں ہوئی تھی۔

اسی بارے میں
بہار میں موت کی دوڑ
20 April, 2005 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد