BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 03 October, 2006, 10:32 GMT 15:32 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ایڈز کے مریضوں کی تنہائی ختم‘

ایڈز میں مبتلا مرد حضرات پر خاندان کی طرف سے شادی کا دبا‎ؤ ہوتا ہے
ہندوستان کی ریاست گجرات میں ایڈز کے مریضوں کی آپس میں شادی کروانے کے لیئے خاص پروگرام شروع کیا گیا ہے۔

اس پروگرام کے تحت ایچ آئی وی ایڈز سے متاثرہ تین جوڑوں نے شادی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ پروگرام گجرات کے شہر سورت میں منعقد ہوا تھا اور اس میں پینتالیس مردوں اور پندرہ خواتین نے حصہ لیا۔

پروگرام کے منتظمین کا کہنا تھا کہ اس پروگرام کا مقصد ایڈز کے مریضوں کی آپس میں شادی کرانا ہے تاکہ وہ تنہائی کی زندگی سے بچ سکیں۔

ایک رضاکار تنظیم گجرات ’سٹیٹ نیٹ ورک فار پیپل لیونگ ودھ ایچ آئی وی ایڈز‘ کی کارکن دکشا پٹیل ایڈز کے مریضوں کے لیئے میریج بیورو چلاتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایڈز کے مرض کی شکار جو خواتین اپنے لیئے رشتہ ڈھونڈنے کے لیئے آتی ہیں ان میں زیادہ تر پچیس سال سے کم عمر بیوہ ہیں جبکہ مرد حضرات کی عمر تیس سال سے زیادہ نہیں ہوتی ہے۔

دکشا پٹیل کا کہنا ہے کہ ان کے میریج بیورو کا مقصد یہی ہے کہ ایڈز کے مریض بھی عام افراد کی طرح ایک نارمل زندگی گزار سکیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایڈز میں مبتلا مرد حضرات پر خاندان اور سماج کی طرف سے شادی کا دبا‎ؤ ہوتا ہے لیکن وہ اپنی بیماری کے بارے میں کھل کر نہیں بتا پاتے ہیں کیونکہ انہیں علم ہوتا ہے کہ جس لڑکی سے ان کی شادی ہوگی اس کے گھر والے اس بیماری کی وجہ سے انہیں کبھی قبول نہیں کریں گے۔

دکشا کا کہنا تھا کہ ایڈز کی شکار بعض بیوہ خواتین کے ساتھ ان کے بچے بھی ہوتے ہیں اور چھوٹے بچوں کے ساتھ ان عورتوں کے لیئے زندگی گزرانا مشکل ہوجاتا ہے۔ انہیں نہ صرف اقتصادی بلکہ سماجی تحفظ کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔

دکشا کو خوشی ہے کہ بڑی تعداد میں ایڈز کے مریض رجسٹریشن کے لیئے آرہے ہیں

انہوں نے کہا کہ ایک ایڈز کا مریض دوسرے ایڈز کے مریض سے شادی کرلے تو بہتر ہے کیونکہ اگر ایڈز کے مریض کسی نارمل فرد سے شادی کرتا ہے تو اس کے بیماری اس کے ساتھی یا شریک سفر کو لگنے کا ڈر رہتا ہے۔

سورت شہر میں کم از کم ڈھائی ہزار ایچ آئی وی کے مریض ہیں۔ یہاں ہیرے کا کاروبار ہوتا ہے اور ان فیکٹریوں میں کام کرنے کے لیئے بڑی تعداد میں دوسرے شہروں سے مزدور یہاں آتے ہیں۔

میریج بیورو میں رجسٹریشن کروانے والے مریضوں کی تعداد دن بہ دن بڑھ رہی ہے اور دکشا کو خوشی ہے کہ زیادہ سے زیادہ سے مریض رجسٹریشن کے لیئے سامنے آرہے ہیں۔

ہندوستان میں کم از کم 50 لاکھ ایڈز کے مریض ہیں۔ اقوام متحدہ کے صحت کے ادارے کے مطابق ہندوستان میں ایڈز کے وائرس والے سب سے زیادہ مریض ہیں۔

ایڈز کی شکار خاتونانڈیا: ایڈز صورتحال
ایڈز کے مریضوں کی تعداد 50 لاکھ سے بھی زیادہ ہے
ایڈزبھارت میں ایچ آئی وی
ایڈز کا جرثومہ بھارتیوں کے لیے زیادہ خطرناک
ایڈز ربنبھارت میں ایڈز
بیماری کے اصل مسائل سے توجہ ہٹ رہی ہے
ایڈزایڈز کا پھیلاؤ کم
جنوبی انڈیا میں ایڈز کے پھیلاؤ میں کمی ہوئی
ایڈز ہم جنسیت اور ایڈز
مردوں میں ایڈز کنٹرول اور قانونی پیچیدگیاں
اسی بارے میں
ایڈز کے پھیلاؤ میں کمی
30 March, 2006 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد