’ایڈز کے مریضوں کی تنہائی ختم‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی ریاست گجرات میں ایڈز کے مریضوں کی آپس میں شادی کروانے کے لیئے خاص پروگرام شروع کیا گیا ہے۔ اس پروگرام کے تحت ایچ آئی وی ایڈز سے متاثرہ تین جوڑوں نے شادی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ پروگرام گجرات کے شہر سورت میں منعقد ہوا تھا اور اس میں پینتالیس مردوں اور پندرہ خواتین نے حصہ لیا۔ پروگرام کے منتظمین کا کہنا تھا کہ اس پروگرام کا مقصد ایڈز کے مریضوں کی آپس میں شادی کرانا ہے تاکہ وہ تنہائی کی زندگی سے بچ سکیں۔ ایک رضاکار تنظیم گجرات ’سٹیٹ نیٹ ورک فار پیپل لیونگ ودھ ایچ آئی وی ایڈز‘ کی کارکن دکشا پٹیل ایڈز کے مریضوں کے لیئے میریج بیورو چلاتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایڈز کے مرض کی شکار جو خواتین اپنے لیئے رشتہ ڈھونڈنے کے لیئے آتی ہیں ان میں زیادہ تر پچیس سال سے کم عمر بیوہ ہیں جبکہ مرد حضرات کی عمر تیس سال سے زیادہ نہیں ہوتی ہے۔ دکشا پٹیل کا کہنا ہے کہ ان کے میریج بیورو کا مقصد یہی ہے کہ ایڈز کے مریض بھی عام افراد کی طرح ایک نارمل زندگی گزار سکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایڈز میں مبتلا مرد حضرات پر خاندان اور سماج کی طرف سے شادی کا دباؤ ہوتا ہے لیکن وہ اپنی بیماری کے بارے میں کھل کر نہیں بتا پاتے ہیں کیونکہ انہیں علم ہوتا ہے کہ جس لڑکی سے ان کی شادی ہوگی اس کے گھر والے اس بیماری کی وجہ سے انہیں کبھی قبول نہیں کریں گے۔ دکشا کا کہنا تھا کہ ایڈز کی شکار بعض بیوہ خواتین کے ساتھ ان کے بچے بھی ہوتے ہیں اور چھوٹے بچوں کے ساتھ ان عورتوں کے لیئے زندگی گزرانا مشکل ہوجاتا ہے۔ انہیں نہ صرف اقتصادی بلکہ سماجی تحفظ کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایک ایڈز کا مریض دوسرے ایڈز کے مریض سے شادی کرلے تو بہتر ہے کیونکہ اگر ایڈز کے مریض کسی نارمل فرد سے شادی کرتا ہے تو اس کے بیماری اس کے ساتھی یا شریک سفر کو لگنے کا ڈر رہتا ہے۔ سورت شہر میں کم از کم ڈھائی ہزار ایچ آئی وی کے مریض ہیں۔ یہاں ہیرے کا کاروبار ہوتا ہے اور ان فیکٹریوں میں کام کرنے کے لیئے بڑی تعداد میں دوسرے شہروں سے مزدور یہاں آتے ہیں۔ میریج بیورو میں رجسٹریشن کروانے والے مریضوں کی تعداد دن بہ دن بڑھ رہی ہے اور دکشا کو خوشی ہے کہ زیادہ سے زیادہ سے مریض رجسٹریشن کے لیئے سامنے آرہے ہیں۔ ہندوستان میں کم از کم 50 لاکھ ایڈز کے مریض ہیں۔ اقوام متحدہ کے صحت کے ادارے کے مطابق ہندوستان میں ایڈز کے وائرس والے سب سے زیادہ مریض ہیں۔ |
اسی بارے میں بھارتیوں میں ایڈز کا خطرہ زیادہ06 April, 2005 | انڈیا ایڈز ’کنٹرول سے باہر‘ بھارتی تردید20 April, 2005 | انڈیا ’تعداد پرنہیں ایڈز پرتوجہ دیں‘02 June, 2005 | انڈیا ایڈز کے پھیلاؤ میں کمی30 March, 2006 | انڈیا بہار: ایڈز مریضوں میں پانچ گنا اضافہ11 June, 2006 | انڈیا انڈین معیشت کو ایڈز سے خطرہ20 July, 2006 | انڈیا ہم جنس پرستی، ایڈز اور قانون29 September, 2006 | انڈیا سیکس ورکرز کے لیئے ایڈز کارڈ09 July, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||