سیکس ورکرز کے لیئے ایڈز کارڈ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈیا میں ایڈز کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے جسم فروش خواتین کو خصوصی رعایتی کارڈ دیئے جائیں گے۔ انڈیا کے جنوبی شہر میسور میں شروع کی جانے والی اس سکیم کے تحت جسم فروش خواتین کے لیئے لازمی ہو گا کہ وہ باقاعدگی سے سہ ماہی معائنہ کرائیں۔ جن خواتین کو یہ کارڈ حاصل ہوں گے وہ ان کے ذریعے رعایتی نرخوں پر اشیائے صرف اور کپڑے خرید سکیں گی اور بعض ہوٹلوں میں کھانا کھا سکیں گی۔ حکام کا کہنا ہے کہ انڈیا میں یہ اس نوعیت کا پہلا منصوبہ ہے۔ اس منصوبے کے لیئے ایڈز انڈیا انیشی ایٹو اور بل اینڈ میلینڈا گیٹس فاؤنڈیشن نے مالی اعانت فراہم کی ہے۔ اس سکیم کے تحت ایک ہزار سے زائد جسم فروش خواتین کو سہولتیں دی جائیں گی۔ کارڈ پر کارڈ رکھنے والیوں کی تمام تفصیلات درج ہوں گی اور اس سے یہ بھی پتہ چل سکے گا کہ معائنہ باقاعدگی سے ہو رہا ہے یا نہیں اور یہ کہ اگر بیماری ہے تو اس کی نوعیت کیا ہے۔ سکیم کی نگرانی کرنے والی کرناٹک ہیلتھ پروموشن کی شوشینا رز پال کا کہنا ہے کہ ’اگر کارڈ رکھنے والی کوئی خاتون مقررہ وقت پر معائنے کے لیے نہیں آئے گی تو اس کا کارڈ خود بخود ناقابلِ استعمال ہو جائے گا‘۔ رز پال کہتی ہیں کہ اس پروگرام کو انڈیا کے دوسرے شہروں تک بھی پھیلایا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے ’ہمیں دوسرے شہروں سے بھی بلاوے مل رہے ہیں لیکن اس ابتدائی منصوبے کی تکمیل کے بعد اس کے نتائج کا جائزہ لیا جائے گا اور اس کامیابیوں یا ناکامیوں کا جائزہ لینے بعد اسے مزید پھیلانے کا فیصلہ کیا جائے گا‘۔ |
اسی بارے میں ایڈز کے پھیلاؤ میں کمی30 March, 2006 | انڈیا جموں: ایڈز کے سائے میں زندگی27 March, 2006 | انڈیا ایڈز دیہاتوں میں نہ پھیل جائے01 December, 2005 | انڈیا بھارتی افواج: ایڈز کا ٹیسٹ لازمی12 September, 2005 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||