جموں: ایڈز کے سائے میں زندگی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سات سال کی عمر میں ہی کمسن کاجل کو معلوم ہے کہ ایڈز ایک جان لیوا بیماری ہے۔ اور معلوم بھی کیوں نہ ہو، اس مہلک بیماری نے نہ صرف اس کے والدین چھین لیئے بلکہ اسے بھی شک کے دائرے میں لا کر کھڑا کیا۔ جموں کے سرحدی علاقے کی رہنے والی کملیش اور ان کے شوہر مہندر لال ایڈز جیسی مہلک بیماری سے فوت کیا ہوئے ان کی معصوم بچی پر جیسے دکھوں کا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔ والدین کی موت کے تقریباً دو سال بعد بھی یہ بچی زندگی کی تلخ حقیقتوں سے دوچار ہے۔ یہ کہانی ہے سات سالہ کاجل کی جو جموں کے سرحدی علاقے رنبھیرسنگھ پورہ کے ایک چھوٹے سے گاؤں رنگھپور سدھرے کی رہنے والی ہے۔ کاجل کی والدہ کملیش کی شادی قریبی گاؤں کے مہندر سے 1999 میں ہوئی تھی۔ پیشہ سے ڈرائیور ہونے کی وجہ سے مہندر اکثر گھر سے باہر ہی رہتے تھے لیکن دونوں کی ازدواجی زندگی نہایت ہی خوشگوار تھی۔ کاجل کے جنم کے تقریباً تین سال بعد ان کے والد کی صحت خراب رہنے لگی اور ڈاکٹروں نے انہیں ایچ آئی وی پوزیٹوقرار دیا۔ آخرکار سال 2004 میں مہندرایک سرکاری ہسپتال میں فوت ہو گئے۔
جہاں ایک طرف کاجل کے والد کے خاندان نے اسے اپنے پاس رکھنے سے انکار کر دیا وہیں اس کے نانا کو کاجل کا تین بار ڈاکٹری معائنہ کروانا پڑا تا کہ ’یہ مہلک بیماری خاندان کے دوسرے پچوں میں نہ پھیلے‘۔ کاجل کے نانا رام چند کہتے ہیں کہ ’اگرچہ اس بچی کو ایچ آئی وی نیگٹیو قرار دیا گیا ہے اب بھی گاؤں کے کچھ لوگ اسے شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں‘۔ ان کے مطابق کاجل ایک عام زندگی گزارنا چاہتی ہے لیکن اکثر اسے لوگوں کے عجیب و غریب سوالوں کا جواب دینا پڑتا ہے۔ کاجل بھی اس بات کو سمجھ چکی ہے کہ اس کے والدین کسی عام بیماری سے فوت نہیں ہوئے ہیں۔ جب میں نے اس کے والدین کی موت کی وجہ پوچھی تو ایک دبی سی آواز میں جواب آیا ’ایڈز‘۔ ایڈز کے معنی اور وجوہات سے ناآشنا کاجل پاس ہی کے ایک پرائیویٹ ا سکول میں تعلیم حاصل کر رہی ہے اور بڑی ہو کر ڈاکٹر بننا چاہتی ہے۔ لیکن کاجل کے نانا کے لیئے اس کی پرورش آسان نہیں۔ ’میرے تین بچے ہیں اور روزگار کے نام پر گاؤں میں تھوڑی سی زمین ہے۔ اس بچی کا بھی سارا بوجھ اب ہم پر ہی ہے‘۔ ان کے مطابق کاجل کے دادا بچی کو اپنے پاس نہیں رکھنا چاہتے ’اور مجھے ڈر بھی ہے کہ اگر وہ بچی کو لے بھی جائیں تو اس کا مستقبل خطرے میں پڑ سکتا ہے‘۔ ابھی تک کوئی بھی سرکاری یا غیر سرکاری تنظیم کاجل کی مدد کے لیئے سامنے نہیں آئی ہے۔ رام چند کا کہنا ہے کہ کچھ لوگ گھر میں آئے تھے اور کہا تھا کہ وہ کچھ مالی مدد کریں گے لیکن دوبارہ کوئی نہیں آیا۔ وہیں کاجل کی نانی پرسینودیوی کو اس بات کی فکر ہے کہ ’ہمارے مرنے کے بعد اس لڑکی کا کیا ہو گا‘۔ وہ کہتی ہیں کہ کاجل اکثر اپنے والدین کی تصویروں کو دیکھتی رہتی ہے جیسے ان سے باتیں کر رہی ہو- ’وہ منہ سے تو کچھ نہیں کہتی لیکن کبھی کبھی ایسا لگتا ہے کہ وہ آنکھوں سے ہزاروں سوال کر رہی ہو‘۔ ریاست جموں و کشمیر میں پچھلے کچھ سالوں میں ایڈز کے مریضوں میں تیزی سےاضافہ ہوا ہے۔ ریاست کے ایڈز کنٹرول سوسائٹی کے حکام کے مطابق پوری ریاست میں تقریباً 745 ایڈز کے مریض ہیں جن میں 95 مریض ایسے ہیں جن میں ایچ آئی وی پوری طرح پھیل چکا ہے۔ | اسی بارے میں بھارت میں ایڈز ’کنٹرول سے باہر‘20 April, 2005 | انڈیا ایڈز:متاثرہ لوگوں کے لیے میرج بیورو20 May, 2005 | انڈیا بھارتی افواج: ایڈز کا ٹیسٹ لازمی12 September, 2005 | انڈیا ایڈز دیہاتوں میں نہ پھیل جائے01 December, 2005 | انڈیا سیکس پر کھل کر بات کریں: منموہن01 December, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||