سیکس پر کھل کر بات کریں: منموہن | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وزیراعظم منموہن سنگھ نے عوام سے اپیل کیا ہے کہ ایڈز جیسی مہلک بیماری سے بچنے کے لیے وہ محفو ظ سیکس کے متعلق کھل کر بات چیت کریں۔ انہوں نے کہا ہے کہ اس سے بچنے کے لیے لوگوں میں بیداری کی ضرورت ہے تاکہ اس وباء کو مزید پھیلنے سے روکا جاسکے۔ ہندوستان میں ایڈز کے مریضوں کی ایک بڑی تعداد ہے اور یہ بہت تیزی سے پھیل رہا ہے۔ ایڈز ڈے کے موقع پر نیشنل کنونشن فار ایچ آئی وی / ایڈز سے خطاب کرتے ہوئے منموہن سنگھ نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ لوگ محفوظ سیکس کے متعلق بات چیت کرنے میں شرم و حیا سے کام نہ لیں تاکہ لوگ اس کے تئیں بیدار ہوں۔ وزیراعظم نے اس موقع پر یہ بھی اعلان کیا کہ ایچ آئی وی میں مبتلا لوگوں کی مدد کے لیے ایڈز سے متعلق دواؤں کی قیمتوں میں کمی کی جائیگی۔ منموہن سنگھ کا بیان ایک ایسے وقت آیا ہے جب ایڈز کے لیے کام کرنے والے ماہرین نے اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ ہندوستان میں شہر سے زیادہ ایڈز کا خطرہ دیہی علاقوں میں ہے۔ ابھی تک یہ خیال کیا جاتا رہا تھا کہ ایڈز پھیلنے کے زیادہ امکانات چکلے خانوں اور بڑے شہروں میں ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اس سے متعلق تمام تر کارروائیاں زیادہ ترشہروں تک محدود تھیں۔ وزیراعظم منوہن سنگھ کے بیان سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ حکومت تن تنہا اس لعنت سے چھٹکارہ نہیں پا سکتی اور اب پورے ملک میں اس کے تئیں بڑے پیمانے پر مہم چلانے کی ضرورت ہے۔ وزیر صحت امبونی رامو داس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ حکومت ہر برس ایڈز کی روک تھام پر ایک ہزار کروڑ روپۓ خرچ کرےگی۔ انہوں نے کہا ہے کہ ’ہم سب سے زیادہ توجہ ریاست آندھر پردیش میں دینگے جہاں ایڈز کے مرضوں کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔ اتر پردیش، بہار، راجستھان اور اڑیسہ کی بھی یہی صورت حال ہے۔‘ سرکاری اعداد وشمار کے مطابق ہندوستان میں اکیاون لاکھ سے زائدافراد ایڈز میں مبتلا ہیں۔ لیکن کئی غیر سرکاری عالمی تنظیموں کا کہنا ہے حقیقی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ ایڈز کنٹرول کے لیے کام کرنے والی ایک سرکاری تنظیم نیشنل ایڈز کنٹرول آرگنائزیشن کی سربراہ سجاتاراؤ کا کہنا ہے کہ ’اب یہ تیزی سے دیہی علاقوں میں پھیل رہی ہے۔ ابھی تک ہم یہ سمجھتے تھے کہ یہ شہروں میں ہے اور سیکس ورکر تک محدود ہے۔ لیکن تازہ سروے سے پتہ چلا ہے کہ اب گاؤں میں یہ تعداد زیادہ ہے۔‘ ایڈز کے لیے سرگرم ایک سرکاری تنظیم ناز فاؤنڈیشن کی ڈائریکٹر انجلی گوپالن کا کہنا ہے کہ حالات بہت خراب ہیں اور حکومت کی کوششیں زیادہ مؤثر ثابت نہیں ہوئی ہیں۔ انجلی کا کہنا ہے کہ ’ایڈز کے متعلق بیشتر لوگوں کو صحیح علم نہیں ہے۔ حکومت یہ کہتی رہی ہے کہ بیداری کے لیے اس نے بہت کام کیا ہے لیکن یہ عام لوگوں تک مشکل سے پہنچتی ہے۔‘ ماہرین کے برعکس حکومت کہتی ہے کہ نۓ مریضوں کی تعداد میں کمی آئی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر دیہی علاقوں میں قابو نہ پایا گیا تو آئندہ چند برسوں میں یہ حکومت، عالمی اداروں اور غیر سرکاری تنظیموں کے لیے ایک بہت بڑا چیلنچ ہوگا۔ |
اسی بارے میں انڈیا:ایڈز کے 50 لاکھ مریض20 September, 2004 | انڈیا بھارت میں ایڈز ’کنٹرول سے باہر‘20 April, 2005 | انڈیا ایڈز ’کنٹرول سے باہر‘ بھارتی تردید20 April, 2005 | انڈیا ایڈز:متاثرہ لوگوں کے لیے میرج بیورو20 May, 2005 | انڈیا بھارتی افواج: ایڈز کا ٹیسٹ لازمی12 September, 2005 | انڈیا کہیں ایڈز دیہاتوں میں نہ پھیل جائے‘01 December, 2005 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||