| | کیا سیکس پر کھل کر بات چیت کرنے کا وقت آ گیا ہے؟ |
ایڈز کے عالمی دن پر اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ ایڈز انسانیت کے لیے ایک غیرمعمولی عالمی خطرہ ہے اور اس سے نمٹنے کے لیے بڑے پیمانے پر غیرمعمولی اقدامات کی ضرورت ہے۔ اس وقت دنیا میں چالیس ملین افراد ایچ آئی وی نامی وائرس کے شکار ہیں۔ ایچ آئی وی وائرس کے ذریعے ایڈز کی مہلک بیماری پھیلتی ہے۔ ایڈز کی بیماری کے انکشاف سے اب تک بیس ملین افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ یہ سچ ہے کہ ایڈز کے زیادہ تر نئے کیس افریقہ میں سامنے آ رہے ہیں، لیکن یہ بیماری ایشیا اور مشرقی یورپ میں تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ افغانستان کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ ملک ایچ آئی وی کے ایک زندہ ٹائم بم پر بیٹھا ہوا ہے۔ بھارت اور پاکستان میں ایڈز ایک بڑا اور سنگین خطرہ بن کر سامنے آ رہا ہے۔ بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ نے ایڈز کے پھیلاو کو روکنے کے لیے محفوظ سیکس کے بارے میں کھل کر بات کرنے کی حوصلہ افزائی کی ہے۔ ہمارے معاشرتی تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے کیا آپ کے خیال میں وقت آ گیا ہے کہ سیکس اور اس سے متعلق معاملات پر کھل کر بات کی جائے؟ کیا پاکستان میں ایڈز کے پھیلاو کو روکنے کے لیے مثبت اقدام کیے جا رہے ہیں؟ کیا اس بیماری کے بارے میں معلومات موثر طریقے سے مہیا کی جا رہی ہیں؟ یہ فورم اب بند ہو چکا ہے۔ قارئین کی آراء نیچے درج ہیں۔
وقار اوان، کراچی، پاکستان: ایڈز پھیلنے کی کئی وجوہات میں سے ایک وجہ سیکس ہے۔ صرف اس ایک وجہ پر توجہ دینے سے اسے روکا نہیں جا سکتا۔ سب سے زیادہ جس وجہ سے ایڈز پھیلتا ہے وہ ہے انتقال خون اور اس کے بعد دوسری بڑی وجہ ہے استعمال کیے ہوئے انجیکشن۔ سو ہمیں ضرورت آگاہی پیدا کرنے کی ہے نہ کہ سیکس پر کھل کر بات کرنے کی۔ شیبا رضا رضوی، قزاقستان: میرا تعلق پاکستان سے ہے۔ براہ مہربانی ایڈز کو صرف سیکس کے ساتھ نہ جوڑیں۔ سیکس ایک وجہ ہے ایڈز پھیلنے کی، مگر اس کی اور بھی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ براہ مہربانی لوگوں کو تمام وجوہات سے آگاہ کرنے کی کوشش کریں۔ اندیل، فیصل آباد، پاکستان: کیا صرف سیکس سے ہی ایڈز پھیلتا ہے؟ ہمیں تمام وجوہات کے بارے میں بات کرنی چاہیے۔ ہمیں اپنے سکولوں اس کی تعلیم دینی چاہیے۔ لڑکیاں لڑکیوں سے اور لڑکے لڑکوں سے بات کر سکتے ہیں۔ مظہر حسین ہاشمی، پنجاب، پاکستان: اگر قرآن میں نطفہ، جماع اور سیکس سے متعلق دوسرے مسائل پر بات کی جا سکتی ہے تو پھر میرے خیال میں اس پر بھی بات کی جا سکتی ہے۔  | ’سیکس بھی ایک صلاحیت ہے‘  اللہ نے انسان کو اپنے لیے سوچنے کی صلاحیت دی ہے۔ ہم سب کو سیکس اور دوسری صلاحیات کے غلط استعمال سے پیدا ہونے والے مسائل کے بارے میں معلومات ہونی چاہئیں۔ (سیکس بھی ایک صلاحیت، ایک طاقت ہے)۔ وقت آگیا ہے کہ ہم سیکس کے بارے میں اپنے بچوں سے کھل کر بات کریں۔۔۔  قاضی ضیغم ہارون |
قاضی ضیغم ہارون، راولپنڈی، پاکستان: اللہ نے انسان کو اپنے لیے سوچنے کی صلاحیت دی ہے۔ ہم سب کو سیکس اور دوسری صلاحیات کے غلط استعمال سے پیدا ہونے والے مسائل کے بارے میں معلومات ہونی چاہئیں۔ (سیکس بھی ایک صلاحیت، ایک طاقت ہے)۔ وقت آگیا ہے کہ ہم سیکس کے بارے میں اپنے بچوں سے کھل کر بات کریں۔۔۔ محمد امین، گلگت، پاکستان: میرے خیال میں سیکس کے علاوہ بھی بہت سی وجوہات ہیں ایڈز ہونے کی۔ ان پر بھی توجہ دی جانی چاہیے۔ محمد عمران خان، لاہور، پاکستان: یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ اسی کی دہائی میں ہی اس مرض کے خطرات سامنے آگئے تھے۔ کئی ترقی یافتہ اور ترقی پزیر ممالک نے اس کا مقابلہ کرنے کے لیے کئی اقدامات بھی کیے ہیں۔ ہمیں اب چاہیے کہ ان ممالک کی طرف دیکھیں اور یہ پتہ کریں کہ سب سے موثر کون سے طریقے ثابت ہوئے ہیں تاکہ ہم ایک دیر پا حکمت عملی طے کر سکیں۔ شکیل احسان، کینیڈا: یہ تو سب جانتے ہیں کہ ایڈز کا مرض سیرینج کو دوبارہ استعمال کرنے سے یا اس مرض میں مبطلہ شخص سے سیکس کے ذریعے پھیلتا ہے۔ ہم سیرینج کے بارے میں تو کافی کچھ سنتے ہیں اور اس پر کھل کر بات بھی ہوتی ہے مگر سیکس کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہیں۔ اس وجہ سے سیکس اس مرض کے پھیلنے کا بڑا ذریعہ بن گیاہے۔ ایڈز سے بچنے کے لیے سیکس کے بارے میں کھل کر بات کرنا نہایت ہی ضروری ہے۔ ذیشان راجپوت، پاکستان: میرے خیال میں سیکس پر لگی خاموشی کو توڑ دینا چاہیے اور ایڈز پر کھل کر بات کی جانی چاہیے، کیونکہ یہ اس دور کا بہت بڑا مسئلہ ہے۔ رہانہ کبیر احمد، کراچی، پاکستان: ہمارے معاشرتی اور مذہبی اقدار بالکل اس بات کی اجازت نہیں دیتے کہ ایڈز جیسے موضوع پر کھل کر بات کی جائے۔ اس بارے میں اگر لوگوں میں صحیح شعور بیدار کرنا ہے تو اس کا سب سے موثر طریقہ ہمارے میڈیکل پروفیشنلز ہیں۔ اسلامی احکامات کے ذریعے بھی لوگوں کو معلومات فراہم کی جا سکتی ہے۔ اب تک پاکستان میں ایڈز کو کنٹرول کرنے کے لیے کوئی بھی مناسب اقدامات نہیں کیے جا رہے۔۔۔ عاصف، کینیڈا: ہم کیوں بات نہیں کرتے ایڈز کے بارے میں اپنے خاندان والوں اور بچوں سے؟ ہم انہیں بتا سکتے ہیں کہ جنسی تعلقات کی وجہ سے کون کون سی بیماریاں پھیل سکتی ہیں اور ان سے کیسے بچا جا سکتا ہے۔ ہم سکول میں بھی اس کی تعلیم دے سکتے ہیں۔ مسلمان ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ ہمیں اس بارے میں معلومات حاصل نہیں کرنی چاہئیں۔ عارف جبار قریشی، سندھ، پاکستان: ایڈز کے بڑھنے کی وجہ اصل میں سیکس کے متعلق معلومات کا نہ ہونا اور اس سلسلے میں حکومت کے اقدامات ناکافی ہونا ہے۔ پاکستان میں اس خطرناک مسئلے سے نمٹنے کے لیے اقدامات کرنا ہونگے۔۔۔اس کے لیے عوامی شعور بیدار کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ احسان، پشاور، پاکستان: سیکس پر بات کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ ہر کوئی جانتا ہے کہ ایڈز کس طرح پھیلتا ہے۔ اور اللہ کا شکر ہے کہ ہمارا معاشرہ ایک پاکیزہ معاشرہ ہے۔ ادھر اگر ایڈز کے ایک دو کیس ہونگے بھی، تو وہ سیکس کی وجہ سے نہیں ہونگے۔ اور بھی بہت سی وجوہات ہیں ہیں۔ محمد ابرار احمد، سپین: ایڈز ایک ایسا مرض ہے جس کے بارے میں لوگوں کو ٹھیک سے پتہ نہیں۔ صرف ایڈز کا نام سنا ہوا ہے۔ ان کو یہ معلوم نہیں کہ یہ کس طرح ہوتا ہے اور اس سے بچنے کے لیے کیا طریقے ہیں۔ جتنی جلد ہو سکے لوگوں کو اس کے بارے میں کھل کر بات کرنی چاہیے، تاکہ نئی نسل کو اس مرض سے محفوظ کیا جا سکے۔ اسلامی نظر سے سیکس گناہ ہے لیکن اس مرض کے بارے میں بتانا بہت ضروری ہے۔ شاہدہ اکرم، متحدہ عرب امارات: عورت ہونے کے ناطے لگتا ہے کہ معاشرتی تقاضوں میں اول نمبر پر یہ بات بھی ہے کہ ایک عورت ایسے موضوعات پر زبان نہیں کھول سکتی۔ خیر، اس معاملے میں ہر طرح کی احتیات برتنا ضروری ہے اور اس کے لیے تمام اقدامات کرنے چاہئیں۔ میرے خیال میں اب وقت آگیا ہے کہ سیکس جیسے معاملات پر بھی کھل کر بات کی جانی چاہیے۔ یہی ایک طریقہ ہے کہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کو بچا پائیں گے۔۔۔ سید علی، کینیڈا: یہ ایک خدائی قہر ہے ان لوگوں پر جو اللہ کے احکامات کو نہیں مانتے۔۔۔ احمد جمیل، لاہور، پاکستان: سرکاری ادارے تو ایڈز کے متعلق کوئی کام نہیں کر رہے اور ان کا بہانہ یہی ہوتا ہے کہ لوگ اس بارے میں کھل کر بات کرنے کو تیار نہیں۔ انڈیا میں چونکہ ایڈز کے پھیلاو کا بڑا ذریعہ سیکس ہے اس لیہ وہاں کے وزیر اعظم نے یہ بیان دیا ہے۔ یہاں تو بلڈ بینک مافیا، غربت اور جہالت اس کے ذمہ دار ہیں۔۔۔ حیدر علی، متحدہ عرب امارات: سیکس کے بارے میں ضرور کھل کر بات کرنی چاہیے۔ یہی ایک طریقہ ہے ایڈز سے نمٹنے کا۔ |