بھارتی افواج: ایڈز کا ٹیسٹ لازمی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارتی افواج ميں ایڈز کی بیماری کو روکنے کے لیے فوج کی تینوں شاخوں میں ایچ آئی وی ٹیسٹ لازمی کر دیا گیا ہے۔ مسلح افواج کے صدر دفتر کی اطلاع کے مطابق فوج کی طبی شاخ نے اس سلسلے میں ایک رپورٹ وزارت دفاع کو بھیجی ہے اور کہا جاتا ہے کہ اس کی جلد ہی منظوری دے دی جائے گي۔ وزارت کی منظوری کے بعد اسے یکم اکتوبر سے نافذ کرنے کا منصوبہ ہے۔ یکم اکتوبر سے بری، بحری اور فضائی افواج میں شامل ہونے والے تمام امیدواروں کو ایچ آئی وی ٹیسٹ سے گزرنا ہوگا۔ فوج کے ایک ترجمان کا کہنا تھا کہ ڈسپلن اور جنسی برتاؤ کے معاملے میں ہندوستانی فوج کا ریکارڈ بہت اچھا رہا ہے لیکن ’جس طرح کے سخت حالات میں فوجی کام کرتے ہیں، مختلف مقامات پر انہیں جانا ہوتا ہے اور جس طرح وہ اپنی بیویوں سے دور رہتے ہیں اس کی وجہ سے یہ قدم اٹھایا جا رہا ہے‘۔ شمال مشرقی ریاستوں میں ایڈز کے مرض میں خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے اور فوج نے پہلے ہی وہاں کچھ احتیاطی اقدامات کیے جا رہے ہيں جن کے تحت فوجیوں کو ’کنڈوم‘ رکھنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اس وقت بھی ان فوجیوں کے لیے ایچ آئی وی ٹیسٹ لازمی ہے۔ جنھیں امن فوج یا دوسرے مشن پر غیر ممالک بھیجا جاتا ہے۔ شمال مشرقی ریاستوں کے شورش زدہ علاقوں میں تعینات کیے جانے والے فوجیوں کے لیے بھی یہ ٹسٹ لازمی ہے۔ فوج کے پاس اس طرح کے ٹیسٹ کے تقریباً 100 مراکز ہیں اور اب مزید 30 مراکز کھولے جا رہے ہیں۔ فوج نے اس پروگرام کو دو برس پہلے نافذ کرنے کا منصوبہ بنایا تھالیکن نیشنل ایڈز کنٹرول آرگنائزیشن اور کئی دیگر تنظیموں کی طرف سے اس کی مخالفت کے سبب اس پر عمل نہیں کیا گیا- |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||