ایڈز کی دوا پر برازیل کا معاہدہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برازیل نے ایک امریکی کمپنی کی جانب سے ایچ آئی وی اور ایڈز کی ایک اہم دوا کی قیمت میں کمی کرنے پر اتفاق کرنے کے بعد اس دوا کے پیٹنٹ کی خلاف ورزی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ برازیل کی حکومت اور ایبٹ لیبارٹری کے درمیان دس روزہ مزاکرات کے بعد یہ معاہدہ ہوا ہے۔ برازیل نے کہا تھا کہ وہ دوا کلیترا کی سستی قسم بنانا شروع کر دے گاجس کے وجہ سے یہ دوا بنانے والی کمپنی پر دباؤ بڑھ گیا تھا۔ اس معاہدے کے تحت برازیل کو کلیترہ کے اگلےنئے فارمولے تک رسائی بھی حاصل ہوگی۔ ایبٹ نے اس بات سے اتفاق کیا ہے کہ برازیل قیمت میں مجموعی اضافے کے بغیر زیادہ سے زیادہ مریضوں کا علاج کر سکتا ہے جس سے حکومت کو اگلے چھ سالوں میں 250 ملین ڈالر کی بچت ہوگی۔ کمپنی کا کہنا ہے افریقہ کے علاوہ برازیل ایسا پہلا ملک ہے جس کو سب سے کم قیمت پر یہ دوا مل رہی ہے۔ کمپنی کا کہنا تھا کہ اگر پیٹنٹ کی خلاف ورزی ہوتی تو ادویات کی کمپنیاں مزید ریسرچ کا کام آگے نہیں بڑھا پاتیں۔ برازیل نے پیٹنٹ کی خلاف ورزی کی دھمکی دے کر دوائی کی کمپنیوں سے بھی اسی طرح کے معاہدے کئے ہیں۔ کلیترہ ایچ آئی وی کے علاج میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والی دواؤں میں سے ایک ہے۔ اس معاہدے پر ترقی پذیرممالک بھی گہری نظر رکھے ہوئے ہیں جہاں تقریباً 36 ملین لوگوں کو ایچ ائی وی یا ایڈز ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||