وسط ایشیا میں ایڈز کا خطرہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وسطی ایشیا اور مشرقی یورپ کے کچھ ممالک میں ایڈز کے پھیلاؤ میں شدید اضافہ ہو رہا ہے۔ اس بات کا اعلان برازیل کے شہر ریو ڈی جنیرو میں ہونے والی ایک کانفرنس میں شریک بین الاقوامی سائنسدانوں نے کیا۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ تاجکستان، ازبکستان، ایران، بیلاروس،یوکرائن اور مالدووا وہ ممالک ہیں جو کہ ایڈز کی بیماری کے تازہ شکار ہو سکتے ہیں۔ نئی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ایڈز کے پھیلاؤ میں تیزی اس علاقے میں آئی ہے جو کہ افغانستان سے ہیروئن کی سمگلنگ کا راستہ ہے۔ انٹرنیشنل ایڈز سوسائٹی کے اجلاس میں شریک سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ ایڈز افعانستان سے وسطی ایشیا اور سابقہ سویت یونین کے رستے مشرقی یورپ تک پھیل رہا ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس پھیلاؤ کی وجہ وہ نوجوان نشئی ہیں جو کہ ہیروئن کے انجکشن لگا کر جنسی طور پر فعال ہو جاتے ہیں اور عام لوگوں میں اس بیماری کے پھیلاؤ کا سبب بنتے ہیں۔ ان علاقوں میں ایچ آئی وی کے وائرس کا پھیلاؤ یقینی نظر آرہا ہے کیونکہ ان علاقوں میں’سیف نیڈل ایکسچینج‘ اور ’ڈرگ سبسٹی چیوشن‘ جیسے پروگراموں کو وجود ہی نہیں ہے۔ تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ فوری طور پر صرف بڑے پیمانے پر ایڈز سے بچاؤ کے پروگرام سے ہی اس خطرے سے بچا جا سکتا ہے اور اس پروگرام کے لیے ان ممالک کی حکومتوں کے رویے میں تبدیلی انتہائی ضروری ہے۔ اس کانفرنس میں دنیا بھر سے پانچ ہزار سے زیاد ڈاکٹروں اور سائنسدانوں نے شرکت کی جبکہ ایک سو چودہ ممالک کے سائنسدانوں نے اپنے مقالے پڑھے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||