ایڈز دیہاتوں میں نہ پھیل جائے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت میں محکمۂ صحت کے عملداروں کا کہنا ہے کہ ایڈز کے مرض کا ملک کے دیہی علاقوں میں پھیلنے کا خطرہ بڑھ رہا ہے کیونکہ وہاں طبی سہولتیں انتہائی کم ہیں۔ بھارت کی طرف سے ان خدشات کا اظہار ایڈز کو کنٹرول کرنے کے لیے قائم کی گئی تنظیم کی سربراہ سجاتا راؤ نے ایڈز کے عالمی دن کے موقع پر کیا ہے جو کل منایا جا رہا ہے۔ دریں اثناء حکومت کا اصرار ہے کہ سرکاری طور پر جاری کیے جانے والے وہ اعداد و شمار درست ہیں جن کے مطابق بھارت میں ایچ آئی وی سے متاثر افراد کی تعداد تیزی سے کم ہو رہی ہے۔ بھارت میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اکاون لاکھ کے قریب افراد یا ایڈز کے مرض میں مبتلا ہیں یا پھر ایڈز کے وائرس سے متاثر ہیں۔ ایڈز سے متاثرہ افراد کی تعداد کے لحاظ سے بھارت جنوبی افریقہ کے بعد دوسرا بڑا ملک ہے۔ جنوبی افریقہ میں ایڈز زدہ یا ایچ آئی وی انفکیشن سے متاثرہ افراد کی تعداد ترپن لاکھ ہے۔ سجاتا راؤ کا کہنا تھا کہ ’ہمیں تشویش اس بات پر ہے کہ یہ مرض دیہاتوں میں پھیل جانے کا خطرہ ہے۔ پہلے ہمارا یہ خیال تھا کہ ایڈز کا مرض صرف شہروں میں ہی ہے۔‘ اقوامِ متحدہ کے ایڈز کے چیف پیٹر پیئٹ کا کہنا ہے کہ بھارت کی طرف سے ایڈز سے متاثرہ یا ایڈز زدہ افراد کی جو تعداد جاری کی گئی ہے وہ غلط ہے لیکن بھارت کے وزیرِ صحت امبومنی رومودوس کا کہنا ہے کہ سرکاری اعداد و شمار درست ہیں۔ امبومنی رومودوس کے مطابق عالمی ادارۂ صحت نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ سن دو ہزار چار میں بھارت میں ایڈز سے متاثر افراد کی تعداد اٹھائیس ہزار تک کم ہوئی ہے۔ ایک برس پہلے یہ تعداد پانچ لاکھ بیس بیس ہزار تھی۔ تاہم انہوں نے کہا ’مجھے یقین ہے کہ بہار، اتر پردیش، مدھیہ پردیش، گجرات، پنجاب، راجھستان اور شمال مشرق میں ایڈز کے کئی متاثر شمار ہی میں نہیں آئے ہوں گے۔‘ رضاکاروں کے گروپ اور اقوامِ متحدہ کے ادارے یواین ایڈز کا کہنا ہے کہ حکومت کے دعوؤں کے برعکس بھارت میں ایج آئی وی وائرس سے انفیکشن کی شرح بہت زیادہ ہے۔ | اسی بارے میں ناکامی پرعالمی ادارے کی ندامت28 November, 2005 | آس پاس ایڈز:متاثرہ لوگوں کے لیے میرج بیورو20 May, 2005 | انڈیا ایشیاایڈز: 150 فی صد اضافے کاخطرہ01 July, 2005 | آس پاس ایڈز سے چھٹکارا پانےوالے پر تحقیق13 November, 2005 | نیٹ سائنس ایڈز سے ڈیڑھ کرورڑ بچے یتیم 25 October, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||