ناکامی پرعالمی ادارے کی ندامت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عالمی ادارۂ صحت (ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن یعنی ڈبلیو ایچ او) کے ایچ آئی وی/ایڈز کے سربراہ نے وائرس کے علاج کے لیے اپنے عالمی ٹارگٹ پورے نہ کر سکنے پر معذرت کا اظہار کیا ہے۔ دو سال پہلے شروع کیے جانے والے ڈبلیو ایچ او کے پروگرام کا نام ’تھری ٹو فائیو‘ تھا اور اس کے مقاصد میں اس سال کے آخر تک غریب ممالک کے تیس لاکھ لوگوں کو ایڈز کی ادویات، یا اینٹی ریٹرووائرلز مہیا کرنا شامل تھا۔ اس پروگرام کے سربراہ ڈاکٹر کم یونگ کم نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ پروگرام نے زیادہ کچھ حاصل نہیں کیا۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ پروگرام ناکام نہیں ہوا ہے۔
بی بی سی کی نامہ نگار میڈیلین مورس کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے پروگرام کے سربراہ نے کہا کہ ’میں صرف معافی مانگ سکتا ہوں۔ میرے خیال میں ہمیں یہ قبول کرنا چاہیئے کہ ہم نے کافی کچھ نہیں کیا اور ہم نے بہت دیر سے کام کا آغاز کیا‘۔ اس سال جون میں ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے اعلان کیا تھا کہ ادارہ جن تیس لاکھ افراد کی مدد کرنا چاہتا تھا ان میں سے صرف دس لاکھ افراد کو ہی اینٹی ریٹرووائرلز مہیا کی جا سکیں۔ گزشتہ ہفتے اقوامِ متحدہ کی طرف سے جاری کیے گئے اعدادوشمار کے مطابق پوری دنیا میں اس وقت چار کروڑ افراد ایچ آئی وی وائرس کا شکار ہیں۔ |
اسی بارے میں پاکستان: ایڈز کا شدید خطرہ21 November, 2005 | نیٹ سائنس ایڈز سے چھٹکارا پانےوالے پر تحقیق13 November, 2005 | نیٹ سائنس برازیل کی دوا ساز کمپنی کو دھمکی26 June, 2005 | نیٹ سائنس مچھیروں میں ایڈز کے امکانات زیادہ 27 March, 2005 | نیٹ سائنس ایڈز: مزاحمتی جینز کی شناخت09 December, 2004 | نیٹ سائنس تبدیلی خون سے ایڈز17 November, 2003 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||