بہار: ایڈز مریضوں میں پانچ گنا اضافہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈین ریاست بہار اور اترپردیش میں ایڈز کے پھیلاؤ میں بڑی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے ۔ ان دونوں ریاستوں میں ملک کے چالیس فی صد ایسے مزدوروں کے آبائی گھر ہیں جو مشرقی اور جنوبی ریاستوں میں کام کرتے ہیں۔ بہار سٹیٹ ایڈز کنٹرول سوسائٹی نے ریاست میں اس مہلک مرض کے خطرناک پھیلاؤ کو’تباہ کن‘ قرار دیا ہے ـ سوسائٹی کے تازہ ترین اعداد وشمار میں بہار میں ایڈز مریضوں کی تعداد میں تقریباً پانچ گنا اضافہ دکھایا گیا ہےـ جہاں گزشتہ برسوں کےاعداد و شمار میں یہ تعدا محض 200 تھی وہیں 2006 میں جاری اعداد و شمار میں یہ تعداد ایک ہزار سےتجاوز کرگئی ہےـ پٹنہ کے ’ریجنل ایڈز ٹرینگ سینٹر اینڈ نیٹورک ان انڈیا‘ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر دیواکر تیجسوی کا کہنا ہے ’ بہار اور اتر پردیش دو ایسی ریاستیں ہیں جہاں سے ہزاروں غیر تعلیم یافتہ لوگ مزدوری کرنے مہاراشٹراور گجرات جاتےہیں جہاں وہ غیر محفوظ جسمانی تعلقات کے سبب ایڈز کا شکار ہو جاتے ہیں اور بعد میں یہ بیماری بطور ’ کیرئر‘ اپنے گھروں تک لے آتے ہیں جس سے یہ بیماری عورتوں میں بھی پھیل جاتی ہے۔‘ اقوام متحدہ کی حالیہ رپورٹ کے مطابق انڈیا میں ایچ آئی وی پوزیٹو لوگوں کی تعداد دنیا میں سب سے زیادہ بتائی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ان مریضوں کی بڑی تعداد مہاراشٹر، گجرات اور تامل ناڈو میں ہے۔ یہ تین ریاستیں ایسی ہیں جہاں اتر پردیش اور بہار کے سب سے زیادہ لوگ بطور مزدور کام کرتے ہیں۔ ڈاکٹر تیجسوی کہتے ہیں ’ بہار اور اتر پردیش کے یہ مزدور معلومات کے فقدان کے سبب ایچ آئی وی کے سب سے بڑے ’کیرئر‘ کا کردار ادا کر رہے ہیں۔‘ بہار سٹیٹ ایڈز کنٹرول سوسائٹی کے مطابق ریاست میں اب تک 70 افراد ایڈز کی وجہ سے ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ یہاں تقریبا 9 ہزار ایچ آئي وی پوزیٹو افراد کی سرکاری طور پر نشاندہی کی جا چکی ہے ۔ یہ تعداد گزشتہ اعداد و شمار سے چار گنا سے بھی زیادہ ہے۔ واضح رہے کہ غیر سرکاری طور پر یہ اعداد و شمار اس سے کہیں زیادہ بتائے جاتے ہیں جبکہ زیادہ تر معاملوں میں مریض شرمندگی کی وجہ سے بیماری کو چھپانے کی بھی کوشش کرتے ہیں اور معاملہ تب سامنے آتا ہے جب کافی دیر ہوچکی ہوتی ہے۔ ان متاثرہ علاقوں میں ایڈز کو ایک نۓ نام' بمبے والی بیماری ' سے جانا جانے لگا ہے۔ ڈاکٹر دیواکرتیجسوی کہتے ہیں ’ اتر پردیش اور بہار کی سرحدیں نیپال سے ملتی ہیں جہاں سے ٹرک ڈرائیور بھی اس مرض کو ’کیرئر‘ کے طور پر ان علاقوں میں پھیلا رہے ہیں‘۔ متعدد تنظیموں کا کہنا ہے کہ لوگوں میں اس مرض سے بچاؤ کے متعلق بیداری میں بھی کافی اضافہ ہوا ہے لیکن اس سمت میں ابھی بھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ بہار اور اتر پردیش میں جہاں ایڈز مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے وہیں ان ریاستوں میں ایڈز کے علاج کے مراکز کی زبردست کمی ہےـ اتر پردیش میں تو ایسے تین مراکز کام کر بھی رہے ہیں لیکن بہار میں اس طرح کا ایک بھی مرکز نہیں ہےـ جس کے سبب یہاں کے مریضوں کو دلی جانا پڑتا ہے۔ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||