ہم جنس پرستی، ایڈز اور قانون | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان میں ایڈز کی روک تھام کے سرکاری ادارے ناکو کا کہنا ہے کہ مرد ہم جنس پرستوں میں ایڈز کی صورتحال بہت تشویش ناک ہے لیکن قانونی پیچدگیوں کے سبب مردوں میں ایڈز کے خلاف مہم سست روی کی شکار ہے۔ ناکو نے حکومت سے ہم جنسی کے متعلق قانون میں ترمیم کی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ جب تک ہم جنس لوگوں کے حقوق تسلیم نہیں کیۓ جاتے اس وقت تک ایڈز پر قابونہیں پایا جاسکتا۔ اس مسئلے پر بات چیت کے لیے ایشاء کے بائیس ملکوں کے نمائندے دلی میں جمع ہوئے تھے۔ سبھی کو اس بات کی فکر ہے کہ ہم جنس پرستوں میں تیزی سے پھیلتے ایڈز پر قابو کیسے پایا جائے۔ بھارت میں نیشنل ایڈز کنٹرول آرگنائزیشن ’ناکو‘ کی چیئر پرسن سجاتہ راؤ کا کہنا تھا کہ چونکہ ہم جنس پرستی ایک جرم ہے اس لیے ایسے لوگوں سے رابطہ کرنا مشکل ہے۔ ’ہمارے جائزے کے مطابق مرد ہم جنس پرستوں ميں تقریباً پچیس فیصد لوگ ایڈز میں مبتلا ہیں جو کہ سماج کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے لیکن ہم کیا کریں؟ ہم جنسیت قانوناً جرم ہے اس لیے وہ لوگ سامنے نہیں آتے اور اگر اس پر فوری طور پر توجہ نہیں دی گئی تو یہ مشکل مزید بڑھ جائےگی۔‘ تعزیرات ہند کی دفعہ 377 کے تحت ہم جنس پرستی ایک قابل سزا جرم ہے۔اس قانون کے خلاف کافی دنوں سے آوازیں اٹھ رہی ہیں اور حال ہی میں امرتیہ سین، وکرم سیتھ اور اروندھتی رائے جیسے کئی دانشوروں نے بھی اس قانون کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔ ناکو کی چئیرپرسن کہتی ہیں کہ وہ بھی اس بارے میں حکومت سے بات چیت کر رہی ہیں۔’ہم وزارت داخلہ کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔ حکومت یہ سمجھتی ہے کہ ہم جنس پرستوں میں ایڈز ایک بڑا مسئلہ ہے۔ ہم چاہتے ہیں اور ہماری کوشش ہے کہ دفعہ 377 پوری طرح ختم ہو جائے لیکن کسی قانون میں تبدیلی طویل عمل ہے۔‘ اس قانون میں تبدیلیوں کے لیے دلی ہائی کورٹ میں ایک مقدمہ بھی چل رہا ہے۔ لیکن حکومت اور سیاسی جماعتوں کا موقف صاف نہیں ہے اس لیے جلدی کسی تبدیلی کے امکانات بہت کم ہیں۔ کانفرنس میں پاکستان، ملائشیا، انڈونیشیا اور بنگلہ دیش جیسے مسلم ممالک کے نمائندوں نے بھی شرکت کی تھی۔اس کا اہتمام ناز فاؤنڈیشن نے کیا تھا۔ فاؤنڈیشن کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر عارف نے بتایا کہ ’ہم جنسیت اور ایڈز کی پریشانی کو مسلم ممالک بہتر طور پر سمجھتے ہیں۔ انہوں نے اس کی روک تھام کے لیے کئی پروگرام چلانے میں مدد کی ہے اور ہم وہاں اچھا کام کر رہے ہیں۔‘ اس موقع پر ایشیاء سے تقریبا چار سو ہم جنس پرست بھی دلی پہنچے تھے۔ ان کو شکایت تھی کہ بعض فرسودہ قوانین کے سبب ان کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جاتا ہے۔ روبینو کہتے ہیں کہ ’ہماری جنسی پسند الگ ہے، لوگ اس لیے ہم سے نفرت کرتے ہیں۔ کیا ہم انسان نہیں ہیں؟‘ فائز کہتے ہیں ’سماج تو ہمیں کھل کر بات کرنے کی بھی اجازت نہیں دیتا تو پھر ہم اپنی مشکلیں کس سے کہیں۔‘ اسی طرح شیوا کہتے ہیں کہ چونکہ سماج میں ہم جنسوں کو بری نظر سے دیکھا جاتا ہے اس لیے ان کے خلاف تشدد عام بات ہے۔ ’جب چاہو جیل میں ڈال دو پیسے لے لو ہراساں کرو، بے عزتی کرو، ہم کہاں جائیں ہم تو قانون کی نظر میں مجرم ہیں۔‘ چند برس قبل دلی میں اسی طرح کی ایک کانفرنس کی اجازت نہیں ملی تھی لیکن اس بارغیر سرکاری تنظیموں کے ساتھ ساتھ حکومت بھی اس مسئلے پرآگے آئی ہے اور ایسا لگتا ہے کہ اب وہ بھی سنجیدہ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ہم جنس پرستی ایک حقیقت ہے اور ایڈز ایک بڑا مسئلہ، ایسے میں اس خطرے کو ٹالا نہیں جاسکتا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||