انڈین معیشت کو ایڈز سے خطرہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اگر انڈیا میں ایچ آئی وی اور ایڈز پر قابو نہ پایا گیا تو آئندہ دس سے پندرہ برس میں یہ ملک کی اقتصادی ترقی پر بری طرح اثر انداز ہوگی۔یہ بات حکومت کی مدد سے تیار کی جانے والی ایک رپورٹ میں بتائی گئی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر اس بیماری کے پھیلاؤ پر قابو نہ پایا گیا تو انڈیا کی حالیہ شرحِ نمو میں جو اب سالانہ آٹھ فیصد سے زیادہ ہے، ایک فیصد کی کمی آ سکتی ہے۔ تاہم ایڈز اور ایچ آئی وی کے خلاف کام کرنے والی انڈیا کی سرکاری ایجنسی کا کہنا ہے کہ اس بیماری کے خلاف انڈیا کی جارحانہ مہم کی وجہ سے اس قسم کی صورتحال تک پہنچنے سے قبل ہی اس بیماری کا پھیلاؤ روک لیا جائے گا۔ یو این ایڈز کے مطابق انڈیا میں اس وقت ایڈز کے وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد ستاون لاکھ کے قریب ہے اور یوں انڈیا دنیا میں اس بیماری سے متاثرہ ملکوں میں سرفہرست ہے۔ تاہم انڈیا کی ایک ارب کی آبادی کی وجہ سے یہ تعداد کل آبادی کا ایک فیصد سے بھی کم ہے۔ دہلی میں واقع ریسرچ ادارے نیشنل کونسل آف اپلائڈ ایکونامِک ریسرچ کا اندازہ ہے کہ ایڈز کی وجہ سے معیشت کی شرح نمو میں 0.86 فیصد اور فی شخص جی ڈی پی میں 0.55 فیصد کی کمی آسکتی ہے۔ اس ادارے کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومت کو ایڈز روکنے کے منصوبوں پر مزید پیسے صرف کرنے کی ضرورت ہے تاکہ معیشت منفی طور پر متاثر نہ ہوسکے۔ رپورٹ کے مطابق تعیمراتی، کان کنی اور کیمیائی صنعتوں میں کام کرنے والے مزدوروں کو ایڈز کا خطرہ زیادہ ہوسکتا ہے۔ رپورٹ اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ ایڈز کی وجہ سے غربت میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ |
اسی بارے میں بھارتی افواج: ایڈز کا ٹیسٹ لازمی12 September, 2005 | انڈیا سیکس پر کھل کر بات کریں: منموہن01 December, 2005 | انڈیا ایڈز: انڈیا میں سب سے زیادہ30 May, 2006 | انڈیا سیکس ورکرز کے لیئے ایڈز کارڈ09 July, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||