پھانسی کاپھندہ کہاں سے آئے گا؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈین پارلیمینٹ پر حملے کے مقدمے میں محمد افضل کو پھانسی کی سزا سنائے جانے کے بعد کئی لوگ بہار کی بکسر جیل کی بات کر رہے ہیں۔اس چرچا کی اہم وجہ اس جیل میں بنا ہوا پھانسی کا پھندا ہے۔ بکسر جیل کے سپرنٹنڈنٹ عرفان الحق انصاری کے مطابق گذشتہ بار ملک میں دی گئی پھانسی کے لۓ اسی جیل میں تیار پھندے کا استعمال کیا گیا تھا۔واضح رہے کہ ہندوستان میں آخری بار پھانسی کے ذریعہ موت کی سزا سنہ دو ہزار چار میں مغربی بنگال کے داراحکومت کولکتہ میں زنا اور قتل کے جرم میں دھننجے چٹرجی کو دی گئی تھی۔ مسٹر عرفان نے بتایا کہ بکسر جیل سو سال سے زیادہ پرانی ہے اور اکثر جیلوں میں پھانسی کے پھندے میں یہیں کی رسی کا استعمال ہوتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ گذشتہ برسوں میں آندھرا پردیش، مغربی بنگال اور ریاست کی ایک دوسری جیل کو یہ رسی بھیجی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ محمد افضل کو سنائی گئی پھانسی کی سزا کے سلسلہ میں ان کی جیل کو پھندہ کے لئے رسی تیار کرنے کا اب تک کوئی آرڈر نہیں ملا ہے ۔ طلب کۓ جانے پر دس سے پندرہ دنوں میں ایسے پھندے کے لۓ رسی تیار کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں پھانسی کی سزا میں آئی کمی کی وجہ سے اکثر جیلوں میں پہلے سے بھیجی گئی رسی کا ہی استعمال ہوتا ہے۔ فی الحال جیل کے اسٹاک میں ایک پھندے کی رسی تیار ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جیل میں تیار پھانسی کے پھندے کی رسی اتنی مضبوط ہوتی ہے کہ اسے کئی برس گزر جانے کے بعد بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ بکسر جیل میں پولیس ٹینٹ میں استمعال ہونے والی رسی بھی تیار کی جاتی ہے۔اس کے علاوہ اس جیل میں صابن، تیل اور دیگر اشیاء ضرورت تیار کی جاتی ہیں جنہیں ملک بھر کے دوسری جیلوں میں بھیجا جاتا ہے۔ بکسر جیل سپرنٹنڈنٹ کے مطابق مذکورہ سامان جیل کے اندر کی تعمیری یونٹ میں بعض تکنیکی ماہرین اور قیدیوں کی مدد سے تیار کیا جاتا ہے۔ تعمیری یونٹ کے ذرائع کے مطابق پھانسی کے پھندے کی رسی کو ایک خاص طریقے سے تیار کیا جاتا ہے۔ اسکے لۓ ’جے 34’ قسم کے سوت سے بنے موٹے دھاگے کو موم سے نرم کیا جاتا ہے۔ اس دھاگے میں کوئی گانٹھ نہیں ہوتی۔ اس رسی کی قیمت ایک سو اسی روپے فی کلو ہے اور اس سے تیار پھندے سے ڈیڑھ سو کلوگرام تک وزنی قیدی کو لٹکایا جا سکتا ہے۔ |
اسی بارے میں افضل پھانسی: اپیل صدر کے حوالے 03 October, 2006 | انڈیا مندر پرحملے کے مجرموں کو پھانسی01 July, 2006 | انڈیا پنجاب: دو دن میں سات پھانسیاں26 July, 2006 | پاکستان بچوں نے پھانسی سے بچا لیا07 June, 2006 | پاکستان ’مجھے پھانسی کیوں نہیں دیدیتے‘12 January, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||