جان کی بازی لگانے پر انعام کی سفارش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اتر پردیش کی حکومت نے میرٹھ کے تجارتی میلے میں آتشزدگی کے واقعہ میں کئی بچوں کو موت کے منہ سے بچانے والے اٹھارہ سالہ جاوید کو بعد از مرگ بہادری کے اعزاز سے نوازنے کے لیے مرکزی حکومت سے سفارش کی ہے۔ آگ گے شعلوں سے پانچ بچوں کی جان بچانے کے دوران میں جاوید کا جسم ستر فیصد تک جل گیا تھا اور ان کا علاج دلی کے صفدر جنگ اسپتال میں ہو رہا تھا جہاں وہ جمعرات کو وفات پا گئے تھے۔ ان کےگھر والوں نے اس کے علاج میں لاپرواہی کا الزام بھی عائد کیا ہے لیکن ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ جاوید کو ہسپتال میں نہایت تشویش ناک حالت میں لایا گیا تھا اور انہیں بچانے کی ہر ممکن کوشش کی گئی۔ آتشزدگی کے بعد تقریباً آٹھ بجے رات جاوید کو میرٹھ کے جسونت رائے ہسپتال میں داخل کیا گیا تھا جہاں سے دوسرے روز انہیں دلی کے صفدر جنگ ہسپتال منتقل کیا گیا تھا۔ جاوید کا تعلق مشرقی دلی کے منڈواؤلی علاقے سے تھا اور انہوں نے حال ہی میں بارہویں کا امتحان دیا تھا۔ امتحان ختم ہونے کے بعد جاوید اپنے دوست منی کانت کے ساتھ میرٹھ کے تجارتی میلے میں کام کی تلاش میں گئے تھے۔ آگ لگنے کے بعد جاوید پنڈال سے محفوظ باہر نکلنے میں کامیاب ہوگئے تھے لیکن شعلوں میں گھرے بعض بچوں کی چیخ و پکار سننے پر وہ واپس آئے اور پانچ بچوں کو باہر نکالا تھا۔ اس کوشش میں وہ شدید طور پر زخمی ہو گئے میرٹھ کے وکٹوریہ پارک میں تجارتی میلہ تین بڑے پنڈالوں میں لگایاگیا تھا اور میلے کے آخری دن شام کے وقت وہاں آگ لگنے سے درجنوں لوگ ہلاک ہوگئے تھے۔ سرکاری طور پر اس واقعے میں مرنے والے کی تعداد سینتیس بتائی گئی ہے اور کئي افراد لاپتہ بتائےگئے ہیں۔ |
اسی بارے میں مشتعل ہجوم کا ڈاکٹروں پر’حملہ‘12 April, 2006 | انڈیا ’میرٹھ: مرنےوالوں کی تعداد 31 ہے‘12 April, 2006 | انڈیا آگ کے بعد غم وغصہ11 April, 2006 | انڈیا میلے کے منتظمین کے خلاف مقدمہ11 April, 2006 | انڈیا میرٹھ حادثے کی تحقیقات شروع11 April, 2006 | انڈیا میلے میں آتشزدگی،50 ہلاک10 April, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||