میرٹھ حادثے کی تحقیقات شروع | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
میرٹھ میں پیر کی رات ایک تجارتی میلے میں آگ لگنے کے بھیانک حادثے کے بعد مفامی لوگوں میں انتظامیہ کے خلاف زبردست غصہ ہے۔مقامی لوگوں کا کہنا کہ یہ حادثہ انتظامیہ کی غفلت کے نتیجے میں رونما ہوا۔ کل کے اس حادثے میں پچاس سے زیادہ افراد کے مرنے کا اندیشہ ہے۔ اس حادثے میں سو سے زیادہ افراد زخمی ہوۓ تھے ، ان میں کئی کی حالت نازک ہے۔ اتر پردیش کی ریاستی حکومت نے حادثے کی وجوہات کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ مقامی پولیس نے تجارتی میلے کے منتظمین کے خلاف مجرمانہ لاپرواہی کا مقدمہ درج کرلیا ہے اور وہ انہیں تلاش کر رہی ہے۔ وزیر اعلی ملایم سنگھ یادو کے علاوہ سابق وزیر اعلی مایا وتی اور کانگریس صدر سونیا گاندھی بھی میرٹھ پہنچ چکی ہیں ۔ ان رہنماؤں نے مختلف ہسپتالوں میں زیر علاج مریضون سے ملاقاتیں کی ہیں اور سوگوار خاندانوں کو تسلی دی۔ ہلاک شدگان اور زخمیون کے لیے مرکزی اور ریاستی حکومتوں نے پہلے ہی معاوضے کا اعلان کیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما راج ناتھ سنگھ جو اس وقت مرکزی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف ایک ملک گیر یاترا پر ہیں، میرٹھ پہنچنے والے ہیں۔ سونیا گاندھی نے ہسپتالوں کے دورے کے بعد کہا کہ ’ ہم نے زخمی ہونے والے لوگون کو دیکھا ہے ۔ ان میں سے کچھ تو بہت بری طرح جلے ہوئے ہیں۔‘ آج یوم عید میلاد نبی ہے۔ لیکن مسلمان کل کے حادثے پر غم کے اظہار کے لیے یہ تہوار انتہا ئی سادگی کے ساتھ منا رہے ہیں ۔ آج جین مت کے پیغمبر مہا ویر جین کابھی یوم پیدائش ہے۔ لیکن ’مہاویر جینتی‘ بھی نہیں منائی جا رہی ہے۔ میرٹھ شہر ابھی تک کل کے سانحے سے نکلنے کی جدوجہد کر رہا ہے۔ درین اثناء میلے کے منتظمین کے خلاف مقدمہ قائم کر لیا گیا ہے۔ | اسی بارے میں میلے میں آتشزدگی،50 ہلاک10 April, 2006 | انڈیا ’میرٹھ کے لیئے رات بہت طویل ہے‘10 April, 2006 | انڈیا میلے کے منتظمین کے خلاف مقدمہ11 April, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||