آگ کے بعد غم وغصہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
تجارتی میلے میں خوفناک آتشزدگی کے چند گھنٹوں کے اندر اندر میرٹھ شہر غیرمعمولی طور پر پرسکون دکھائی دے رہا تھا۔ لوگ اپنے روزمرہ کاموں میں لگے ہوئے تھے۔ ایک دو جگمگاتے شادی گھروں میں جاری تقریبات کو دیکھ کر تو بالکل ایسا لگا کہ سب کچھ معمول کے مطابق چل رہا تھا۔ لیکن آپ جوں ہی پیر کے روز ہونے والی خوفناک آتشزدگی کی جگہ پر پہنچتے ہیں تو آپ کو حقیقت معلوم ہو جاتی ہے۔ جب ہم وہاں پہنچے توشہر کی انتظامیہ اور ریاستی حکومت کے خلاف نعرہ بازی کرنے والے مقامی مکیینوں کو پولیس وہاں سے بھگا رہی تھی۔ پولیس نے موقع پر موجود صحافیوں کو بھی وہاں سے چلے جانے کو کہا۔ لیکن کسی نے بھی ان کی دھمکیوں کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔ کئی لوگ میلے والی جگہ پر مکمل جلے ہوئے تمبؤوں اور قناطوں کی خاک میں گھوم رہے تھے۔ ملبے سے اب تک دھواں اٹھ رہا تھا اور زمین کی گرمائش سے آپ اندازہ لگا سکتے تھے کہ جس وقت آگ لگی ہوئی تھی تو کیا ہوا ہوگا۔ شدید غصے میں کھڑے مقامی لوگ پولیس اور انتظامیہ کے اہلکاروں میں سے کسی کو معاف کرنے کے لیے تیار نہیں تھے۔ ’ اگر انتظامیہ نے ذرا بھر بھی احتیاطی تدابیر کی ہوتیں تو آج ہمارے علاقے کے لوگوں کو یہ نہ دیکھنا پڑتا‘ ایک رہائشی بولا۔ ’آپ مانیں گے کہ اس میلے نے پانچ دن جاری رہنا تھا لیکن آگ بجھانے والے ایک ٹرک کا بندوبست بھی نہیں کیا گیا تھا۔‘ جب انہیں انتظامیہ اور پولیس کا کوئی اہلکار نظر نہیں آیا تو وہاں کھڑے لوگوں نے اپنا غصہ میڈیا کے نمائندوں پر نکالنا شروع کر دیا اور دو ٹی وی کیمرہ مینوں کو پیٹ بھی ڈالا۔ مقامی ہسپتال میں کئی جذباتی مناظر دیکھنے کو ملے۔ وہ لوگ جنہیں ابھی تک اپنے گمشدہ عزیزوں کا پتا نہیں چل رہا تھا، مردہ خانے میں پڑی لاشوں کو خوف سے دیکھ رہے تھے۔ انہوں نے اپنے آنسو بڑی مشکل سے ضبط کیئے ہوئے تھے۔ دوسری طرف ہسپتال کی ایمرجنسی وارڈ کے باہر کھڑے لوگ بھی ضروری سہولتوں کے فقدان پر ناخوش تھے۔ ایک صاحب نے کہا ’یہاں ہر ایک بدعنوان ہے۔ اور تو اور ہسپتال کے سینئر ڈاکٹر مریضوں کو سرکاری ہسپتال میں دیکھنے کی بجائے اپنے پرائیویٹ ہسپتالوں میں بلاتے ہیں۔ مجھے تو یہ بھی شک ہے کہ یہاں کے ڈاکٹر جلے ہوئے مریضوں کا صحیح سا علاج بھی کر سکتے ہیں یا نہیں۔‘
آدھی رات تک سیاسی لیڈروں کے درمیان ہسپتال میں آئے مریضوں کی تیماردادی کے لیے مقابلہ ہوتا رہا۔ صاف ظاہر ہے کہ یہ مقابلہ بازی مختلف ٹی وی چینلوں کو انٹریو دینے کے لیے بھی ہو رہی تھی جن کے نمائندے ان لیڈروں کے تاثرات لینے کے لیے بےچینی سے ان کا انتظار کر رہے تھے۔ اتر پردیش سے میرٹھ پہنچنی والی پہلی سیاسی شخصیت سابق چیف منسٹرمیاواتی تھیں۔ انہوں نے اپنے پرانے سیاسی مخالف اور موجودہ وزیراعلیٰ ملائم سنگھ یادو کو تنقید کا نشانہ بنانے میں کوئی دیر نہیں کی۔ میاواتی نے ’ واقعے کی ذمہ داری کا تعین کرنے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی انکوائری‘ کا مطالبہ کیا۔ دوسرے لوگ ریاست کے وزیر اعلیٰ اور کانگریس کی رہنما سونیاگاندھی کی آمد کے منتظر رہے۔ سونیا گاندھی منگل کی صبح پہنچنے والے سیاسی رہنماؤں میں پہلی ثابت ہوئیں۔ یہ سب اپنی جگہ لیکن ابھی کسی کے پاس وقت نہیں کہ وہ آگ سے بچاؤ جیسے بنیادی حفاظتی انتظامات کے بارے میں کوئی بات کر سکے۔ | اسی بارے میں میلے کے منتظمین کے خلاف مقدمہ11 April, 2006 | انڈیا میرٹھ حادثے کی تحقیقات شروع11 April, 2006 | انڈیا ’میرٹھ کے لیئے رات بہت طویل ہے‘10 April, 2006 | انڈیا میلے میں آتشزدگی،50 ہلاک10 April, 2006 | انڈیا گودھرا آتشزدگی ایک حادثہ: رپورٹ03 March, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||