مشتعل ہجوم کا ڈاکٹروں پر’حملہ‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اترپردیش کے شہر میرٹھ میں مبینہ طور پر ایک مردہ خانے کے کوڑے دان سے لاشوں کی کچھ باقیات برآمد ہونے پر ہجوم نے متعلقہ ہسپتال کے ڈاکٹروں پر ’حملہ‘ کر دیا۔ مار پیٹ کے بعد ڈاکٹروں نے علاج بند کر دیا تھا لیکن انتظامیہ کی طرف سے سکیورٹی کی یقین دہانی کے بعد وہ کام پر واپس آگئے ہیں۔ اترپردیش میں ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے سیکریٹری ڈاکٹر اشیش چودھری کا کہنا ہے کہ سات ڈاکٹراور کئی دیگر معاونین کی پٹائی کی گئی ہے اور مردہ خانے کی کھڑکیاں توڑ دی گئی ہیں۔ مسٹر چودھری نے کہا کہ ’ہمارے بعض ساتھیوں کے سر پر چوٹیں آئی ہیں اور ان کی حالت تشویش ناک ہے۔‘ میرٹھ میں آتشزدگی میں زخمی ہونے والے تقریباً پچاس مریضوں کا علاج اسی ہسپتال میں چل رہا ہے۔ مقامی لوگوں کا خیال ہے کہ انتظامیہ آگ کے حادثے میں مرنے والوں کی صحیح تعداد نہیں بتارہی ہے اور ان میں کافی ناراضگی پائی جاتی ہے۔ آتشزدگی کے اس حادثے میں ہلاکتوں کی تعداد ابھی بھی واضح نہیں ہے۔ شروع میں ہلاکتوں کی تعداد پچاس بتائی گئی تھی لیکن منگل کی شام حکومت نے ہلاکتوں کی تعداد صرف اکتیس بتائی۔ بدھ کے روز میرٹھ کے کمشنر نے ہلاک ہونے والے سینتیس افراد کی فہرست جاری کی ہے جبکہ چودہ افراد لاپتہ بتائےگئے ہیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایک مقا می لیڈر لکشمی کانت واجپئی نے کہا: ’حکومت جان بوجھ کر اس واقعے کو ایک چھوٹا سانحہ بنانے کی کوشش کرہی ہے۔ ڈاکٹروں نے لاشیں کوڑے دان میں پھینک دی ہیں اور کوڑے دان سےجلے ہوئے کپڑے بھی بر آمد ہوئے ہیں۔‘ گورنمنٹ میڈیکل کالج کی پرنسپل اوشا شرما نے لاشیں ملنے کے الزامات کو پوری طرح مسترد کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاس ہی میں پوسٹ مارٹم کا شعبہ واقع ہے جہاں پوسٹ مارٹم کے بعد لاوارث لاشوں کی باقیات کو ہسپتال کے مردہ گھر کے مخصوص حصے میں رکھا جاتا ہے۔ انہوں نے اس کی تردید کی کہ حادثے میں ہلاک ہونے والوں کی لاشیں چھپائی گئی ہیں۔ پیر کے روز میرٹھ میں ایک تجارتی میلے میں آگ لگنے سے درجنوں لوگ ہلاک اور سو سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ بہت سے زخمیوں کو دلی کے ہسپتال میں داخل کیا گيا تھا جبکہ پچاس سے زائد مریض میرٹھ کے ہسپتال میں زیرعلاج ہیں۔ اطلاعات کے مطابق میرٹھ میں کئی لوگ اب بھی تصویریں لیے اپنے لواحقین کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔ خود انتظامیہ بھی گم شدہ لوگوں کا پتہ کرنے میں اب تک ناکام رہی ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے انتظامیہ مرنے والوں کی تعداد کم بتا رہی ہے۔ اسی دوران حکومت نے لاپرواہی برتنے کے الزام میں میرٹھ کے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ سریش دوبے کا تبادلہ کردیا گیا ہے۔ میرٹھ کے لوگوں میں انتظامیہ کے تئیں بھی زبردست غم و غصّہ پایا جاتا ہے اور بدھ کی صبح مظاہرین نے ڈسٹرک مجسٹریٹ کے دفتر میں بھی توڑ پھوڑ کی ہے۔ | اسی بارے میں ’میرٹھ: مرنےوالوں کی تعداد 31 ہے‘12 April, 2006 | انڈیا میرٹھ حادثے کی تحقیقات شروع11 April, 2006 | انڈیا میلے کے منتظمین کے خلاف مقدمہ11 April, 2006 | انڈیا میلے میں آتشزدگی،50 ہلاک10 April, 2006 | انڈیا گودھرا آتشزدگی ایک حادثہ: رپورٹ03 March, 2006 | انڈیا دلی:فیکٹری میں آگ ، تیرہ ہلاک 07 December, 2005 | انڈیا آئل رگ آتشزدگی، 7ہلاک، 45 لاپتہ27 July, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||