بینظیر مشرف بات چیت بےنتیجہ ختم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف اور پیپلز پارٹی کی چیئر پرسن بینظیر بھٹو کے درمیان جمعہ کو ابوظہبی میں ہونے والی ملاقات بغیر کسی اتفاق کے ختم ہوگئی ہے۔ تاہم ذرائع نے کہا ہے کہ بات چیت جاری رہے گی اور مذاکرات کے نتیجہ خیز نہ ہونے کی وجہ وردی کا معاملہ ہے۔ ذرائع کے مطابق صدر مشرف اگلے پانچ سال تک وردی میں صدر رہنا چاہتے ہیں لیکن بینظیر چاہتی ہیں کہ ان کو اگلی پارلیمان سے سویلین صدر کے طور پر منتخب کرایا جائے۔ بی بی سی کو پتہ چلا ہے کہ یہ ملاقات ابو ظہبی کے خلفیہ زاہد کے محل ’قصرِمشرف‘ میں ہوئی ہے جو کہ مہمانوں کے لیے مخصوص ہے اور یہ ملاقات تقریباً ایک گھنٹے تک جاری رہی۔ پی پی پی کے ذرائع کے مطابق ملاقات کے دوران بظاہر وردی کے معاملے پر اختلاف پر مزید مشوروں کے لئے وقفے کے دوران بے نظیر نے اپنی پارٹی کے بعض رہنماؤں سے فون پر بات کی۔ جنرل مشرف جمعہ کی صبح اسلام آباد سے جدہ کے لیے روانہ ہوئے تھے۔ جب ہمارے نامہ نگار نے جدہ میں پاکستانی سفارت خانے سے ان کی آمد میں تاخیر کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ وہ متحدہ عرب امارت میں مختصر قیام کے لیے رک گئے ہیں۔ بینظیر بھٹو لندن میں اپنی جماعت کی ملاقاتوں کو مؤخر کر کے متحدہ عرب امارات پہنچیں تھیں۔ ابو ظہبی میں جنرل مشرف کی معاونت کے لیے سندھ کے گورنر عشرت العباد بھی موجود تھے۔ |
اسی بارے میں ’کتاب کے لیئے ملک کی تحقیرکی‘29 September, 2006 | پاکستان جمہوری قوتوں کو موقع دیں: بینظیر25 April, 2007 | پاکستان ڈیل کی کڑوی گولی نگلنا ہوگی30 April, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||