پاکستان کی قیادت کون کرے؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں انیس سو تراسی کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب ملک کے عوام، آمریت مخالف اور جمہوری تحریک میں سیاستدانوں سے کئی قدم آگے چل رہے ہیں، جس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ بڑے بڑے جغادری سیاستدانوں کی چالیں دھری کی دھری رہ گئی ہیں۔ کئی سیاستدانوں کے مبہم موقف اور صحیح معنوں میں عوام کی قیادت نہ کر پانے کی وجہ سے تاریخ نے اپنا راستہ لیا اور ملک کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری عوام کے قائد کے طور پر سامنے آئے۔ بعض تجزیہ نگار تو یہ کہتے ہیں کہ جسٹس چودھری ایک وقت میں ملک کی مقبول ترین شخصیت تھے۔ لیکن ظاہر ہے چیف جسٹس ایک جج ہیں سیاستدان نہیں، اس لیے وہ عوام کی سیاسی یا سماجی تبدیلی کے لیے قیادت نہیں کر سکتے۔ وہ سپریم کورٹ کی جانب سے بحال ہونے کے بعد اب کرسی انصاف پر براجمان ہیں لیکن لوگ اب بھی ان سے کسی بڑی تبدیلی کی امید لگائے ہوئے ہیں۔ بلاشبہ وہ اپنے فرائض انصاف سے انجام دیں گے لیکن سیاسی اور سماجی تبدیلی کی قیادت سیاستدانوں اور رہنماؤں کو ہی کرنی ہے۔ جو قیادت کر سکتے ہیں وہ کیا کر رہے ہیں؟ وہ اس بات کو طے نہیں کر پا رہے کہ اسمبلیوں سے مستعفی ہوں یا نہ ہوں اور جنرل مشرف کو موجودہ اسمبلیوں سے دوبارہ منتخب کرانے میں مدد فراہم کریں یا نہ کریں؟ اس وقت متحدہ مجلس عمل کی اہم جماعت، جماعت اسلامی اور سابق وزیر اعظم نواز شریف کی پاکستان مسلم لیگ (ن) کے علاوہ باقی تمام جماعتیں انتہائی شدید کنفیوژن کا شکار لگتی ہیں۔ ان دو جماعتوں کے نسبتاً واضع موقف کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ ان کو اس بات کا مکمل یقین ہے کہ جنرل مشرف کی موجودگی میں ان کو اقتدار میں حصہ نہیں ملنا، تاہم ان کا خیال ہے کہ پاکستان میں جنرل مشرف کی کم ہوتی ہوئی مقبولیت کے پیش نظر ان کے خلاف سخت مؤقف اپنانے سے ان کی عوام میں مقبولیت میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ دونوں جماعتوں کی یہ حکمت عملی کسی حد تک کامیاب ہوتی محسوس ہوتی ہے۔
لیکن جماعت اسلامی کے رہنماء قاضی حسین احمد کے سخت گیر موقف کی وجہ سے ان کی ایم ایم اے میں اپنی اتحادی جماعت جے یو آئی (ایف) کے ساتھ دوریاں بڑھ رہی ہیں۔ جے یو آئی کے رہنماء فضل الرحمٰن کا جنرل مشرف سے متعلق نرم گوشہ پاکستان میں کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ وہ صوبہ سرحد اور بلوچستان کی حکومتیں چھوڑنا نہیں چاہتے اور نہ ہی اسمبلیوں سے مستعفی ہونا چاہتے ہیں۔ انہوں نےمیاں نواز شریف کی قیادت میں ہونے والی لندن کی آل پارٹیز کانفرنس میں الفاظ کی کمال جادوگری سے میاں نواز شریف کی اس قرارداد سے بھی ڈنک نکال دیا جس میں کہا گیا تھا کہ جنرل مشرف اگر خود کو موجودہ اسمبلیوں سے ہی دوبارہ صدر منتخب کروائیں گے تو حزب اختلاف کی تمام جماعتیں اسمبلیوں سے مستعفی ہوجائیں گی۔ مولانا فضل الرحمٰن نے قرارداد کے الفاظ کچھ یوں مرتب کرالیے۔ ’اگر جنرل مشرف نے خود کو موجودہ اسمبلیوں سے دوبارہ منتخب کرانے کی کوشش کی تو حزب اختلاف اس کے خلاف جدوجہد میں تمام طریقے استعمال کرے گی، بشمول اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کے‘۔ اب ان کےالفاظ پر غور کریں۔ ان میں کوئی ایسی بات نہیں جس سے واضع ہو کہ تمام اراکین مستعفی ہوجائیں گے۔ جب بھی اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کی بات آئے گی، کہا جائے گا پہلے دوسرے طریقے استعمال کئے جائیں۔ قراداد منظور کرلی گئی، واہ واہ ہوئی، میاں نواز شریف سمجھ نہیں پائے اور قاضی حسین احمد کچھ کر نہیں پائے۔ اسی آل پارٹیز کانفرنس میں نواز شریف نے جمہوریت، انصاف، عدلیہ اور صحافت کی آزادی، صوبوں کے حقوق اور سماجی انصاف سے متعلق اتنی قراردادیں منظور کرائیں اور بائیں بازو کی جانب جھکاؤ رکھنے والا ایسا موقف پیش کیا کہ بائیں بازو کے لوگ بھی حیران رہ گئے۔ لیکن ایک سیاسی مبصر نے کہا کہ ’بھائی ان کا توکچھ بھی داؤ پر نہیں ہے جو چاہیں کہہ سکتے ہیں۔‘ انہوں نے پنجابی زبان کی ایک کہاوت سنائی کہ ’پاویں سارا پنڈ مر جاوے ۔۔۔ چوہدری تو فیر وی نہیں بننا‘۔ پیپلز پارٹی کی نام نہاد ڈیل کی باتیں بھی اب دم توڑ گئی ہیں۔ ڈیل کے تابوت میں آخری کیل بےنظیر بھٹو نے خود ہی گھونپ دی یہ کہہ کر ان کی پارٹی کی جنرل مشرف سے فوج کو بیرکوں میں واپس بھیجنے کے سلسلے میں بات چیت ہوئی ہے نہ کہ اقتدار میں شراکت پر۔
لیکن بے نظیر بھٹو کی جانب سے یہ کمزور وضاحت بہت دیر سے آئی ہے۔ پاکستان میں ایک طرف جہاں پیپلز پارٹی کے کارکن مشرف خلاف تحریک میں سرگرم تھے اور ہزاروں کی تعداد میں جسٹس چودھری کی حمایت میں سڑکوں پر نکل آئے تھے تو اسی وقت وہ جنرل مشرف کے ساتھ ڈیل کی افواہوں کی وضاحتیں کر کر کے تھک گئے تھے۔ پیپلز پارٹی کے ایک اہم رہنماء نے بی بی سی کو بتایا کہ بے نظیر بھٹو کی جانب سے واضع موقف اختیار کرنے کی ایک وجہ یہ تھی کہ جنرل مشرف نے انہیں مثبت جواب نہیں دیا تھا۔ ستم ظریفی یہ تھی کہ جس ڈیل کی باتیں ہو رہی تھیں وہ ہونی ہی نہیں تھی۔ گو کہ یہ بات درست ہے کہ دو اہم امریکی اہلکار بے نظیر بھٹو اور جنرل مشرف کے درمیان ثالثی کر رہے تھے۔ لیکن بات آکے اٹکی اس پر کہ جنرل مشرف مزید پانچ برس تک وردی میں صدر رہنا چاہتے تھے اور چاہتے تھے کہ موجودہ اسمبلیوں سے منتخب ہونے میں پیپلز پارٹی مدد کرے۔ بے نظیر بھٹو یہ کرنا نہیں چاہتی تھیں، البتہ وہ اس پر تیار تھیں کہ نئی اسمبلیوں سے جنرل مشرف کو صدر منتخب کرایا جائے گا، لیکن انہیں وردی اتارنی پڑے گی۔ اب جنرل مشرف بھی کچی گولیاں تو کھیلے نہیں۔ | اسی بارے میں ’مشرف کے لیے بینظیر کی اہمیت بڑھ گئی‘20 July, 2007 | پاکستان ’تحریک چلائیں نہ استعفے دیں‘23 July, 2007 | پاکستان ’فوجی حکومت کے خاتمے کی تحریک‘23 July, 2007 | پاکستان ’حکمرانوں کیخلاف عدلیہ کا پہلا قدم‘20 July, 2007 | پاکستان ’فوج کو سیاست چھوڑنا ہوگی‘14 July, 2007 | پاکستان ’جب سب متحد تو سیاستدان کیوں نہیں؟‘07 July, 2007 | پاکستان ’مشرف امریکہ کی ضرورت‘04 June, 2007 | پاکستان جنرل مشرف عوامی کٹہرے میں16 May, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||