’فوجی حکومت کے خاتمے کی تحریک‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے وکلاء نے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی بحالی کے بعد فوجی حکومت سے چھٹکارے کے لیے تحریک کا اعلان کیا ہے اور اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ چیف جسٹس عدلیہ کی آزادی کے لیے جدوجہد کریں گے۔ کراچی میں پیر کی صبح سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن میں منعقد ہونے والی یومِ تشکر اور دعائیہ تقریب میں وکلاء تنظیموں کے رہنماؤں نے تحریک جاری رکھنے کا عہد کیا۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر منیر اے ملک کا کہنا تھا کہ وکلاء کی تحریک کے نتیجے میں چیف جسٹس بحال ہوگئے ہیں مگر عوام کو انصاف دینے کے لیے عدلیہ کا مائنڈ سیٹ تبدیل کرنا پڑے گا۔ وکلاء کو آنکھیں کھولی رکھنی ہوں گی۔ انہوں نے شک ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ایسا نہ ہو کہ ایک طرف دکھایا جائے کہ عدلیہ آزاد ہے، چیف جسٹس بحال ہوگئے ہیں تو دوسری طرف ٹھپا لگایا جائے کہ وردی میں صدر قبول ہے۔ منیر اے ملک نے امید ظاہر کی کہ چیف جسٹس عدلیہ کی آزادی کے لیے کام کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ وکلاء تحریک کا اب مقصد سول بالادستی کا قیام اور آمریت کو ہمیشہ کے لیے دفن کرنا ہے۔ ان کے مطابق سیاستدانوں کو بھی یہ سکھانا ہے کہ ڈیل کا وقت گزر چکا ہے۔ طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں۔ وہ گٹھ جوڑ کی سیاست چھوڑ دیں۔ پاکستان بار کونسل کے سابق وائس چیئرمین علی احمد کرد کا کہنا تھا کہ وکلاء کی جنگ، آئین اور جمہوریت کی حرمت کی جنگ تھی۔ وکلاء نے جنرل کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کی اور ان کا غرور توڑا اور بتایا کہ وکلاء سب سے بڑی طاقت ہیں۔
علی احمد کرد نے کہا کہ اس تحریک کے دوران انہوں نے لوگوں میں جذبہ اور آنکھوں میں چمک دیکھی اور انہوں نے وکلاء سے یہ وعدہ لیا کہ اس ملک سے آمریت کا خاتمہ کریں گے اور اب وکلاء اس کو نبھانے کا عہد کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وکلاء کی تحریک عوام کی تحریک ہے۔ اب اس کا ایک ہی نعرہ ہے، ’جنرلوں سے چھٹکارہ‘۔ وکلاء اب فوجی حکومت کے خلاف تحریک چلائیں گے۔ آئندہ ہفتے اس بارے میں لائحہ عمل طے کیا جائےگا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس تحریک کے دوران جن ججوں نے استعفے دیے ہیں انہیں بحال کیا جائے۔ سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر ابرار حسن کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنی چھالیس سالہ پریکٹس میں وکلاء کی کئی تحریکیں دیکھی ہیں مگر جو اتحاد اس تحریک میں نظر آیا اس کی مثال پہلے نہیں ملتی۔ وکلاء کا یہ مطالبہ تھا کہ عدلیہ کی بے توقیری نہ ہو، دستور کی بالادستی ہو اور نتیجے میں عوامی حکومت ہو۔ ابرار حسن کا کہنا تھا کہ دستور کی بالادستی، عدلیہ کی آزادی اور عوام کو سستے انصاف کی فراہمی کے لیے وکلاء کی جدو جہد جاری رہےگی۔ بلوچستان ہائی کورٹ بار کے صدر میر باز محمد کاکڑ کا کہنا تھا کہ کوئی ہرگز یہ نہ سمجھے کہ وکلاء کی تحریک ختم ہو گئی ہے۔ اصل ایجنڈے کا آغاز اب ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فوجی حکمرانوں نے جب بھی حکومت کی ہے صوبوں اور اداروں کے درمیان نفرتیں پیدا ہوئی ہیں۔ بلوچستان میں آپریشن کی وجہ سے وہاں کے لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ وفاق کا حصہ نہیں ہیں، ان کے لوگوں کو مارا جارہا ہے اور کئی لوگ لاپتہ ہیں۔ میر باز محمد کا کہنا تھا کہ وکلاء کی تحریک نے بلوچستان کے عوام کو نیا حوصلہ دیا۔ ان کے مطابق اس سے پہلے یہ تاثر تھا کہ پنجاب فوج کے خلاف کبھی کھڑا نہیں ہوا مگر وکلاء تحریک میں پنجاب کی سول سوسائٹی اور وکلاء نے بھرپور کردار ادا کیا اور پرانا تاثر زائل کردیا۔ اس موقع پر بارہ مئی کے واقعہ سمیت وکلاء تحریک کے دوران مختلف واقعات میں ہلاک ہونے والوں کے لیے دعا مانگی گئی۔ |
اسی بارے میں وکلاء کی جدوجہد، عوام بھی شامل26 May, 2007 | پاکستان ’وکلاء تحریک روکنے کی کوشش‘06 June, 2007 | پاکستان پاکستان بھر کے وکلاء کا یومِ تشکر21 July, 2007 | پاکستان دھماکہ، وکلاء کا یومِ سوگ18 July, 2007 | پاکستان ہلاکتوں میں اضافہ، وکلاء کا احتجاج18 July, 2007 | پاکستان وکلاء کا احتجاج اور عدالتی بائیکاٹ 24 May, 2007 | پاکستان وکلاء، سیاسی جماعتوں کا احتجاج14 May, 2007 | پاکستان وکلاء کے خلاف ’انتقامی‘ کارروائی28 April, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||