وکلاء کا احتجاج تحریک بن گیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چودھری کے خلاف اچانک ریفرنس دائر کیے جانے اور ان کی معطلی نے جہاں ایک تحریک کو جنم دیا وہاں مظاہرین کے احتجاج اور اظہار یک جہتی کے نت نئے طریقوں نے اس تحریک کو منفرد بنا دیا۔ وکلاء کی چیف جسٹس پاکستان افتخار محمد چودھری کی بحالی کی تحریک دس مارچ کو اس وقت شروع ہوئی جب چیف جسٹس کے رہائش گاہ کے باہر حامدخان، علی احمد کرد، منیر اے ملک، جسٹس (ر) طارق محمود اور قاضی انور سمیت دیگر وکلاء رہنماؤں کو چیف جسٹس سے ملاقات کرنے کی اجازت نہیں دی گئی اور ان وکلاء رہنماؤں نے چیف جسٹس کی اقامت گاہ کے باہر حکومتی رویہ کے خلاف احتجاج کیا۔ اس کے بعد بارہ، تیرہ اور سترہ مارچ کو و کلاء کے جلوس پر پولیس لاٹھی اور تیرہ مارچ کو پولیس کی چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے ساتھ بدسلوکی نے احتجاج کی شدت میں اضافہ کردیا اور اس طرح ملک میں ایک تحریک نے جنم لیا جس کے بعد ملک میں وکلاء کے احتجاج اور ہڑتال کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ وکلاء نے چیف جسٹس کے ساتھ اظہار یک جہتی کے لیے نت نئے انداز اختیار کیے جبکہ اس تحریک کے دوران کئی نئے ریکارڈ بھی قائم ہوئے۔ اس تحریک نے بعض نئے نعروں کو بھی جنم دیا اور ان میں کئی نعرے ایسے ہیں جن کو قانونی اور اخلاقی اعتبار سے دہرانا ممکن نہیں ہے۔ اس تحریک میں جہاں فیض احمد فیض کی نظم ’ہم دیکھیں گے‘ سنائی دی وہاں جماعت اسلامی کی تین سال قبل تیار کردہ ’چاچا وردی لادا کیوں نئیں‘ نغمے کو بھی عوام میں مقبولیت ملی۔
یہ تحریک اس اعتبار منفرد رہی کہ چیف جسٹس کے خلاف کارروائی کے حامی وکلا بھی اپنی برادری کے دباؤ کی وجہ سے کھلم کھلا اپنی رائے کا اظہار نہ کرسکے بلکہ چیف جسٹس کے خلاف مقدمہ کی پیروی کرنے اور بیانات دینے کی پاداش میں کئی وکلاء کی بار کی رکنیت منسوخ ہوئی۔ ان وکلاء میں وفاقی وزیر قانون وصی ظفر اور سپیکر قومی اسمبلی چودھری امیر حسین بھی شامل ہیں۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے جب بارایسوسی ایشنوں کے دورے شروع کیے تو ان کا ز بردست استقبال کیا گیا اور تمام صورت کا ایک نیا ہی نقشہ ابھر کر سامنے آیا۔ چیف جسٹس جہاں کہیں بھی گئے ان کا فقید المثال استقبال کیا گیا۔ چیف جسٹس کے راولپنڈی بار ایسوسی ایشن میں پہلے خطاب میں شرکت کرنے والی خاتون سول جج کو اس پاداش میں تبدیل کردیا گیالیکن جب چیف جسٹس نے سندھ کا دورہ کیا تو سندھ ہائی کورٹ کے ججوں نے بھی شرکت کی جس کے بعد صوبہ سرحد اور پنجاب کی اعلیْ عدلیہ کے ججوں نے چیف جسٹس کا ناصرف استقبال کیا بلکہ لاہور میں ہائی کورٹ کے سولہ ججوں نے ان کے اعزاز میں ہونے والی تقریب میں شرکت کی۔ لاہور کے بعد ملتان، ساہیوال اور فیصل آباد کے وکلاء نے اپنی بار ایسوسی ایشن میں چیف جسٹس کے خطاب کے لیے رات بھر انتظار کیا اور دن کے وقت ان خطاب سنا۔
چیف جسٹس کے ساتھ یک جہتی کرتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ کے جج جواد ایس خواجہ کے علاوہ ماتحت عدلیہ کے بعض ججوں نے اپنے عہدوں سے استعفی دیا۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے چار ماہ کے دوران اپنے وکیل اعتزاز احسن کی گاڑی پر سفر کیا۔ چیف جسٹس کی ان کے عہدے پر بحالی کے لیے ساہیوال کے وکلاء دس مارچ سے مسلسل ہڑتال پر ہیں اور اسی وجہ سے ضلع کے عدالتوں سے مقدمات کو نواحی شہروں میں منتقل کردیا گیا۔ تحریک کے دوران وکلاء نے اظہارِ یک جہتی کے لیے نت نئے انداز اپنائے اور اس مقصد کے لیے لاہور کے وکلاء نے جن میں ایک خاتون وکیل بھی شامل تھیں، لاہور سے اسلام آباد تک پیدل سفر کیا۔ وکلاء نے چیف جسٹس کے حق میں تحریک میں شدت لانے کے لیے اپنی موبائل فون پر ’گو مشرف گو‘ کے نعرہ کو موبائل فونز کی رنگ ٹون بنالیا جبکہ چیف جسٹس کے ساتھ اظہارِ یک جہتی کے لیے ایک دستخطی مہم شروع کی گئی جس میں پنجاب بھر کے وکلاء نے دستخط کیے۔ چیف جسٹس کے لیے بڑے بڑے خیر مقدمی بینرز بھی لگائے گئے جبکہ ان کی چیف جسٹس کے بار ایسوسی ایشنوں سے خطاب کے موقع پر راستے بھر ان کا استقبال اس طرح کیا جاتا تھا جیسا کسی بڑے سیاسی لیڈر یا کسی غیر ملکی شخصیات کی آمد پر ان کے استقبال کا اہتمام کیا جاتا ہے۔
لاہور میں چیف جسٹس کے خطاب کے موقع پر سابق صدر پاکستان رفیق تارڑ اور اعلیْ عدلیہ کے سابق ججوں نے بھی تمام رات جاگ کر چیف جسٹس کا استقبال کیا۔ چیف جسٹس کا انتظار کرتے وقت وکلا اور حزب مخالف کے سیاسی کارکنوں نے موسم کی بھی پرواہ نہیں کی۔ وکلاء اور سیاسی کارکنوں نے ملتان کی شدید گرمی کو برداشت کیا جبکہ لاہور میں و کلاء نے بارش میں کھڑے ہو کر چیف جسٹس کا خطاب سنا۔ اس تحریک کے دوران سپریم کورٹ بار ایسویسی ایشن کے صدر اور چیف جسٹس کے وکیل منیر اے ملک کے گھر پر حملہ ہوا۔ وکلاء کی تحریک مجموعی طور پر پرامن رہی تاہم چیف جسٹس کی کراچی میں ہنگامہ میں ہونے والی ہلاکتوں اور چیف جسٹس کی جلسہ گاہ میں خود کش حملہ نے ماحول کو سوگوار بنا دیا۔ اس تحریک میں حصہ لینے والے وکلاء کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس کی بحالی کے فیصلے کے بعد عدلیہ کی آزادی کے ساتھ ساتھ ملک میں سٹیبلشمنٹ کی گرفت کمزور ہوگی۔ ان کے مطابق گزشتہ بیس برسوں میں پانچ منتخب حکومتوں کو ختم کیا لیکن ان کی بحالی کے لیے کوئی بھی موثر تحریک نہ چل سکی تاہم اس تحریک کے نتائج ملک میں سیاسی جدوجہد کرنے والوں کے لیے خوش آئند ہیں۔ |
اسی بارے میں وکلاء، سیاسی جماعتوں کا احتجاج14 May, 2007 | پاکستان چیف جسٹس کے وکلاء ’صوبہ بدر‘12 May, 2007 | پاکستان وکلاء کا احتجاج اور عدالتی بائیکاٹ 24 May, 2007 | پاکستان وکلاء کی جدوجہد، عوام بھی شامل26 May, 2007 | پاکستان ’وکلاء تحریک روکنے کی کوشش‘06 June, 2007 | پاکستان دھماکہ، وکلاء کا یومِ سوگ18 July, 2007 | پاکستان ہلاکتوں میں اضافہ، وکلاء کا احتجاج18 July, 2007 | پاکستان وکلاء، جماعتیں استقبال کیلئے تیار22 June, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||