دھماکہ، وکلاء کا یومِ سوگ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسلام آباد کے منگل کی رات ہونے والے دھماکے کے خلاف پاکستان کے مختلف شہروں میں وکلاء نے احتجاجاً عدالتوں کا مکمل بائیکاٹ کیا ہے جبکہ کئی جگہ ہلاک شدگان کے لیے غائبانہ نماز جنازہ بھی ادا کی گئی ہے۔ اسلام آباد میں ضلعی عدالتوں کی عمارت کے قریب ہونے والے دھماکے میں پندرہ افراد ہلاک اور اسّی کے قریب زخمی ہوئے ہیں۔ لاہور سے بی بی سی کے نمائندے علی سلمان کے مطابق پنجاب بھر میں وکلاء نے اسلام آباد دھماکے کے خلاف عدالتوں کا بائیکاٹ کیا ہے اور احتجاجی دھرنے دیے ہیں جبکہ پاکستان بار کونسل، پنجاب بارکونسل ، لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن اور لاہور بار ایسوسی ایشن کے اجلاسوں میں بم دھماکے کو چیف جسٹس پر قاتلانہ حملہ اور حکومت کی ایک سازش قرار دیا گیا ہے۔ بم دھماکے خلاف وکلاء تنظیموں نے پنجاب میں دوروزہ سوگ منانے کا اعلان کر رکھا ہے۔ صوبہ بھر سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق پہلے روز وکلاء تنظیموں نے بازوں پر سیاہ پٹیاں باندھیں اور اپنے دفاتر پر سیاہ پرچم لہرائے اور عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کیا۔ پنجاب بار کونسل کے عہدیدار عامر جلیل صدیقی نے بی بی سی کو بتایا کہ پنجاب بھر کی ایک سو تیرہ بارایسوسی ایشنز،اور چار ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشنز نے احتجاجی اجلاس کیے ہیں جس میں بم دھماکے کی مذمت کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ اس طرح کے ہتھکنڈے استعمال کرکے عدلیہ اور وکلاء کو خوف زدہ نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان بار ایسوسی ایشن کے سیکرٹری شمیم الرحمان ملک نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اس معاملے کو مذہبی انتہا پسندی سے جوڑنے کی کوشش کررہی ہے جو کہ غلط ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ حملہ عین اس وقت کیا گیا ہے جبکہ توقع ہے کہ چند ایک روز میں سپریم کورٹ اپنا فیصلہ سنا دے گی۔ کراچی مقررین کا کہنا تھا کہ ملک کے فوجی صدر اور ان کی حامی حکومت نے آئین، سول اداروں اور جمہوریت کو معتوب بنا رکھا ہے۔ مقررین نے مطالبہ کیا کہ دھماکے کے ذمہ دار افراد کو فوری گرفتار کیا جائے اور چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چوہدری کے خلاف صدارتی ریفرنس واپس لے کر انہیں فوری بحال کیا جائے۔ وکلاء نے کراچی سٹی ڈسٹرکٹ کورٹس کے احاطے میں اسلام آباد دھماکے کے ہلاک شدگان کے لیے غائبانہ نماز جنازہ بھی ادا کی۔ پشاور پشاور ہائی کورٹ اور ماتحت عدالتوں میں کوئی عدالتی کاروائی نہیں ہو سکی اوراس موقع پرہائی کورٹ میں سکیورٹی معمول سے زیادہ کردی گئی تھی۔ پشاور بار کونسل کے چیئرمین لطیف آفریدی کی سربراہی میں ایک اجلاس ہائی کورٹ کے بار روم میں منعقد ہوا جس میں وکلاء نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے لطیف آفریدی نے الزام لگایا کہ حملہ حکومت نے کرایا ہے جس کا مقصد ملک بھر میں چیف جسٹس کی معطلی کیخلاف وکلاء کی جاری تحریک کو سبوتاژ کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمعہ کے روز چیف جسٹس کے خلاف صدارتی ریفرنس کا فیصلہ متوقع ہے اور اس سلسلے میں پاکستان بھر کے ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے چیئرمین، اورماتحت عدالتوں کے صدور کا ایک اجلاس بلایا گیا ہے جس میں چیف جسٹس کے حق یا مخالفت میں فیصلہ ہونے کی صورت میں آئندہ کے لیے ایک حکمت عملی ترتیب دی جائے گی۔ ادھر چارسدہ میں بھی عدالت کا مکمل بائیکاٹ کیا گیا اور ڈسٹرکٹ بار کونسل نے ایک اجلاس میں ایک قرارداد میں حملے کی مذمت کی اور چیف جسٹس کی بحالی، جنرل مشرف کی مستعفی ہونے اور صاف و شفاف الیکشن کے انعقاد کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اجلاس کے بعد وکلاء نے ایک احتجاجی جلوس نکالا جو فاروق اعظم چوک اور پریس کلب سے ہوتے ہوئے ڈسٹرکٹ کورٹ پر ختم ہوگیا۔اس موقع پر وکلاء نے عدلیہ کی آزادی تک جنگ رہے گی جنگ رہے گی، امریکہ کا جو یار ہے غدار ہے غدار ہے جیسے نعرے لگاتے رہے۔مانسہرہ میں بھی وکلاء نے عدالت کا مکمل بائیکاٹ کیا اور اسلام آباد کے حملے میں ہلاک ہونے والے افراد کی غائبانہ نماز جنازہ اداکی گئی۔صوبہ سرحد کے ضلع نوشہرہ، ڈیرہ اسماعیل خان،سوات، ایبٹ آباد، بٹگرام اور دیگر شہروں سے بھی عدالتی کاروائیوں کے بائیکاٹ کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ کوئٹہ بلوچستان ہائی کورٹ بارایسوسی ایشن کے صدر باز محمد کاکڑ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت وکلاء کی تحریک کے نتیجے میں بوکھلاہٹ کا شکار ہوگئی ہے۔
کوئٹہ میں بدھ کی صبح وکلاء کا ایک تعزیتی اجلاس بھی ہوا جس میں اسلام آباد کے دھماکے میں مرنے والوں کے ایصال ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی۔ اس موقع پر وکلاء کے نمائندوں نے ملک بھر میں امن و امان کی مجموعی صورتحال پر کڑی تنقید کی اور کہا کہ اس واقعہ کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ اس موقع پر تمام وکلاء نے بازوؤں پرسیاہ پٹیاں باندھ رکھی تھیں۔ تعزیتی اجلاس میں بلوچستان با رایسوسی ایشن، ہائی کورٹ بارایسوسی ایشن اور بلوچستان بار کونسل کے سینکڑوں وکلاء نے اس مشترکہ تعزیتی ریفرنس میں شرکت کی۔وکلاء کی ہڑتال کی وجہ سے عدالتوں میں مقدمات کی سماعت ملتوی کر دی گئی اور بلوچستان ہائی کورٹ، ڈسٹرکٹ کورٹ اور ضلع کچہری میں لوگوں کا رش بھی کم رہا۔ |
اسی بارے میں یومِ سوگ، عدالتوں کا بائیکاٹ17 July, 2007 | پاکستان ریلی سے قبل دھماکہ، پندرہ ہلاک 17 July, 2007 | پاکستان یہ خود کش حملہ تھا: طارق عظیم17 July, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||