ریلی سے قبل دھماکہ، پندرہ ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
منگل کی شام اسلام آباد ڈسٹرکٹ بار میں ہونے والے وکلاء کنونشن کے پنڈال کے قریب ہونے والے دھماکے کے بعد ملک بھر میں سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔ اس دھماکے میں کم از کم پندرہ افراد ہلاک اور اسی کے قریب زخمی ہوگئے تھے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ ایک خود کش حملہ تھا۔ اسلام آباد کے ایس ایس پی ظفر اقبال نے دھماکے کے بعد پندرہ افراد کی ہلاکت اور تیس سے زائد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی تھی۔ وزیر مملکت برائے اطلاعات طارق عظیم نے دھماکے کے متعلق بتایا کہ کہ یہ ایک خود کش حملہ تھا جس کا نشانہ پولیس والے تھے۔ انہوں نے کہا کہ دھماکے کی جگہ سے پولیس کو ایک دھڑ ملا ہے جس کا سر غائب ہے۔
دوسری طرف چیف جسٹس کے وکیل اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر منیر اے ملک نے اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’یہ حملہ چیف جسٹس کو ہلاک کرنے کی ایک سازش تھی‘۔ کمشنر اسلام آباد خالد پرویز کے مطابق دھماکہ پنڈال سے باہر پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کے کیمپ کے قریب ہوا۔ دھماکے میں ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں پیپلز پارٹی کے کارکنوں کی بڑی تعداد شامل ہے۔ دھماکے میں زخمی ہونے والے افراد کو قریبی ہسپتالوں میں لے جایا گیا جہاں پانچ کی حالت نازک بتائی گئی۔ پمز ہسپتال کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر فضلِ ہادی نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا کہ ہسپتال میں ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی ہے۔ ہسپتال کے حکام کی جانب سے خون کے عطیات دینے کی اپیل بھی کی گئی۔ یہ دھماکہ ایف ایٹ سیکٹر میں واقع ڈسٹرکٹ کورٹس کے قریب مقامی وقت کے مطابق رات آٹھ بجے کے قریب ہوا۔ اس علاقے میں وکلاء کنونشن منعقد کیا جا رہا تھا جس سے چیف جسٹس نے خطاب کرنا تھا۔ دھماکے کے وقت چیف جسٹس پنڈال میں موجود نہیں تھے۔ اطلاعات کے مطابق ان کے قافلے کو سپریم کورٹ کی عمارت کے پاس روک دیا گیا تھا تاہم وہ بعد ازاں جلسہ گاہ پہنچ گئے اور دعائے مغفرت کرانے کے بعد واپس چلے گئے۔ دھماکے سے متعدد گاڑیوں اور قریبی دوکانوں کو نقصان پہنچا۔ دھماکے کے بعد علاقے کو قانون نافذ کرنے والے اداروں نےگھیرے میں لے لیا۔ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ اس کی آواز دور دور تک سنی گئی اور لوگ گھروں سے باہر نکل آئے۔ دھماکے کی جگہ پر ہر طرف خون بکھرا ہوا تھا اور دھماکے کے فوراً بعد کی تصاویر میں جگہ جگہ لاشیں اور اعضا بکھرے ہوئے نظر آ رہے تھے۔ عینی شاہدین کے مطابق دھماکہ اس جگہ ہوا جہاں پیپلز پارٹی کے حامی زیادہ تعداد میں تھے۔
پیپلز پارٹی کے ایک کارکن اسد ستی نے بی بی سی کے اعجاز مہر سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پی پی اور مسلم لیگ کے استقبالیہ کیمپ کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ جب دھماکہ ہوا وہاں پر ہم سب کھڑے تھے۔ ’جیسے ہی میں ایک وکیل صاحب سے بات کرنے ان کی طرف گیا تو ایک دم زور دار دھماکہ ہوا کہ ایسا لگا جیسے کان پھٹ گئے۔ اتنا زور دار دھماکہ تھا۔‘ دھماکے میں ہلاک ہونے والی ایک سماجی کارکن رشیدا کے بیٹے وسیم سلیم نے بتایا کہ ان کی والدہ محلے کے دوسرے لوگوں کو بھی ساتھ لے کر چیف جسٹس کے استقبال کے لیے گئی تھیں۔ ان کی والدہ اور کے ساتھی بھی ہلاک ہو گئے۔ انہوں نے روتے ہوئے کہا کہ اب لوگ ہمیں ان اموات کا ذمہ وار ٹھہرا رہے ہیں۔ ’میں نے ہسپتال میں سٹریچر پر اپنی ماں کی لاش دیکھی ہے۔ میں نے اپنی ماں کو ان کے پلو سے پہچانا کیونکہ وہ جو سوٹ پہنے ہوئے تھیں میں نے اپنے ہاتھوں سے سی کر دیا تھا۔ جب میں نے پلو اٹھایا تو دیکھا کہ ان کی ساری لاش پھٹی ہوئی تھی۔ مجھ سے یہ برداشت نہ ہو سکا۔‘ ادھر چیف جسٹس کے وکیل منیر اے ملک نے اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ’چیف جسٹس نے پروگرام کے مطابق ساڑھے آٹھ بجے جلسہ گاہ میں آنا تھا اور حملہ کی ٹائمنگ سے پتہ چلتا ہے کہ یہ انہیں ہلاک کرنے کی سازش تھی لیکن اس وکلاء کی تحریک پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور یہ اور زیادہ مضبوط ہو گی‘۔ پنجاب کے وکلا کی نمائندہ تنظیم پنجاب بار کونسل نے خودکش حملے اور اس کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں پر بدھ کو یوم سوگ منانے کا اعلان کیا ہے۔ پنجاب بارکونسل کے وائس چیئرمین طارق جاوید وڑائچ نے بی بی سی کو بتایا کہ صوبہ بھر کے وکلاء اسلام آباد میں ہونے والے وکلاء کنونشن میں خودکش حملے پر بدھ کو یوم سوگ منائیں گے اور عدالتوں کا مکمل بائیکاٹ کیا جائے گا۔ دریں اثناءانسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں بھی اس دھماکے کی شدید مذمت کی گئی ہے اور حکومت کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ اس واقعے کو وکلاء کے اجتماعات پر پابندی لگانے کے لیے بہانے کے طور پر استعمال کرنے سے باز رہے۔ |
اسی بارے میں یہ خود کش حملہ تھا: طارق عظیم17 July, 2007 | پاکستان یومِ سوگ، عدالتوں کا بائیکاٹ17 July, 2007 | پاکستان فوجیوں سمیت پانچ افراد ہلاک17 July, 2007 | پاکستان لال مسجد آپریشن کے بعد حملے15 July, 2007 | پاکستان خودکش حملے، چالیس ہلاک15 July, 2007 | پاکستان خودکش حملہ: 24 فوجی ہلاک14 July, 2007 | پاکستان ’حکومت مخالف کارروائی کا فیصلہ‘ 16 July, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||