BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 17 July, 2007, 22:13 GMT 03:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’انسانی اعضا دور دور تک بکھرے ہوئے تھے‘

بم دھماکہ
پولیس کے مطابق ایسی بیلٹ کے ٹکڑے ملے ہیں جو دہشت گرد خودکش حملے میں استعمال کرتے ہیں
رفاقت علی
دھماکے کی خبر سنتے ہی جب میں نے سیکٹر ایف ایٹ مرکز کی طرف جانا چاہا تو ایف ایٹ سیکٹر کے تمام داخلی راستوں پر اسلام آباد پولیس اہلکار نظر آئے جو گاڑیوں کو روک رہے تھے۔


پریس کارڈ کی مدد سے میں ایف ایٹ مرکز میں اس جگہ پر پہنچنے میں کامیاب ہوگیا جہاں قریباً آدھ گھنٹہ پہلے زور دار دھماکہ ہو چکا تھا۔ دھماکے اس جگہ ہوا تھا جہاں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز کے کارکنوں نے استقبالیہ کیمپ لگا رکھے تھے۔ دھماکہ کی جگہ پر استقبالیہ کیمپ میں رکھی گئی کرسیاں ہر طرف بکھری ہوئی تھیں اور چیل کا وہ درخت جس کے قریب دھماکہ ہوا تھا ایک طرف سے بلکل جھلس چکا تھا۔

پولیس اہلکار موقع پر موجود ضرور تھے لیکن ایسا لگتا تھا کہ وہ خود سکتے میں ہیں اور کسی کو دھماکہ کی جگہ جانے سے بھی نہیں روک رہے تھے۔

دھماکے کی جگہ پر ہر طرف خون بکھرا ہوا تھا اور قریبی عمارتوں کے شیشے ہر طرف بکھرے ہوئے نظر آئے۔ دھماکہ کی جگہ مجھے کئی ایسے صحافی اور سیاسی جماعتوں کے کارکن نظر آئے جن کے کپڑوں پر خون کے چھینٹے پڑے تھے۔

دھماکہ میں زخمی ہونے والوں میں پیپلز پارٹی کی کارکنوں میں نرگس فیض ملک بھی بتائی جاتی ہیں۔

وکلاء کی تقریب میں شرکت کرنے والوں کو سکینر سے گذرنا پڑتا تھا۔ دھماکے کے باوجود ایک ہزار کے قریب وکلاء ڈسٹرکٹ کورٹس میں بنائے گئے پنڈال میں موجود تھے۔ اسی دوران چیف جسٹس افتخار محمد چودھری اپنے وکلاء اعتزاز احسن، علی احمد کرد اور حامد خان کے ہمراہ وہاں پہنچ گئے اور دھماکے میں مرنے والے کی مغفرت کے لیے کی جانے والی دعا میں شرکت کے بعد وہاں سے چلے گئے۔

آصف فاروقی
چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو جلسہ گاہ میں دھماکے کی اطلاع ساڑھے آٹھ بجے موبائل فون پر دی گئی۔ اس وقت ان کے دو سو کے قریب گاڑیوں پر مشتمل قافلے کو گھر سے روانہ ہوئے آدھ گھنٹے سے زائد وقت گزر چکا تھا لیکن اس دوران صرف چند سو میٹر کا فاصلہ ہی طے کیا جا سکا تھا۔

دھماکے کی اطلاع ملتے ہی چیف جسٹس کا قافلہ رک گیا اور نجی اور اسلام آباد پولیس کے سیکیورٹی کے اہلکاروں نے چیف جسٹس کی گاڑی کو گھیرے میں لے لیا ۔ گاڑی کے اندر ہی چیف جسٹس نے اپنے وکلا، منیر اے ملک اور علی احمد کرد سے مختصرمشورہ کیا جسکے بعد ان کے قافلے کا رخ سپریم کورٹ کی عمارت کی جانب کر دیا گیا۔

بم دھماکہ
دھماکے کی جگہ پر افرتفری کا عالم تھا

سپریم کورٹ پہنچ کر منیر اے ملک کے چیمبر میں جسٹس افتخار نے اپنے وکلا سے مشاورت کی جس میں اعتزاز احسن بھی شریک ہوئے۔ نصف گھنٹے تک جاری رہنے والی اس مشاورت کے بعد منیر ملک نے اعلان کیا کہ چیف جسٹس نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ بزدل نہیں ہیں اور وہ جلسہ گاہ ضرور جائیں گے۔

اس اعلان کے فورًا بعد چیف جسٹس کی گاڑی تیزی سے سپریم کورٹ کی عمارت سے باہر نکلی اور پولیس کی حفاظت میں جلسہ گاہ کی جانب روانہ ہو گئی۔

دھماکے کی جگہ پر دو گھنٹے گزر جانے کے باوجود افرتفری کا عالم تھا۔ پولیس اہلکاروں نے علاقے کو گھیرے میں لے رکھا تھا اور دور دور تک پھیلے لاشوں کے ٹکڑے اور انسانی اعضا اکٹھے کرنے کا کام جاری تھا۔

موقع پر موجود اسلام آباد پولیس کے سربراہ افتخار احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ دھماکہ کنونشن سے ڈیڑھ سو میٹر کے فاصلے پر پیپلز پارٹی کے ایک استقبالیہ میں ہوا۔ پولیس سربراہ نے بتایا کہ یہ ممکنہ طور پر خود کش دھماکہ تھا اور حملہ آور سیکیورٹی گھیرے کو توڑ کر سٹیج تک پہنچنے میں ناکام ہوا تو اس نے سٹیج سے اس قریب ترین مقام پر دھماکہ کر دیا۔

دھماکے کے چشم دید گواہ اسلام آباد بار کونسل کے سیکٹری جنرل طیب شاہ نے بتایا کہ دھماکہ اتنا زور دار تھا کہ اردگرد کی عمارات کے شیشے بھی ٹوٹ گئے۔ انہوں نے بتایا کہ دھماکے کے بعد انسانی اعضا دور دور تک بکھرے ہوئے تھے۔

نیئر شہزاد
حکومت اور اسلام آباد کی انتظامیہ منگل کی رات ڈسٹرکٹ بار کورٹ کے باہر ہونے والے دھماکہ کو خودکش حملہ قرار دے رہی ہے جبکہ عینی شاہدین کے مطابق دھماکہ خیز مواد سڑک کے کنارے پڑی ہوئی ریت کے نیچے نصب کیا گیا تھا۔

ریت کا یہ ڈھیر اسلام آباد کے ترقیاتی ادارے سی ڈی اے کی جانب سے ضلع کچہری کی طرف جانے والی سڑک کی تعمیر کے لیے پھینکا گیا تھا۔

بم دھماکہ
بم دھماکے کی آواز دور دور تک سنی گئی

محمد حنیف نے، جو کہ ضلع کچہری ایک ہوٹل کے مالک ہیں، بتایا کہ وہ اپنے ہوٹل پر موجود تھے کہ اچانک دھماکہ ہوا جس سے ان کے ہوٹل کے شیشے اور برتن ٹوٹ گئے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے کسی خودکش حملہ آور کو نہیں دیکھا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دھماکہ خیز مواد ریت کے اس ڈھیر میں چھپایا گیا تھا۔

اسلام آباد کے ایس ایس پی ظفر اقبال سے جب استفسار کیا گیاکہ انہوں نے اس واقعہ کے فوری بعد اس کو خودکش حملہ کیسے قرار دیا تو انہوں نے کہا کہ جائے وقوعہ سے ایسی بیلٹ کے ٹکڑے ملے ہیں جو دہشت گرد خود کش حملے میں استعمال کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ فی الحال ابھی تک اس مبینہ دہشت گرد کی لاش یا اس کے جسم کے ٹکڑے نہیں ملے۔ انہوں نے کہا کہ اس علاقے کی مکمل تلاشی لی گئی تھی جبکہ اس علاقے کے لوگوں کا کہنا ہے کہ پولیس نے چیف جسٹس کی اس تقریب کے لیے مناسب حفاظتی اقدامات نہیں کیے تھے۔

ادھر ایف آئی اے کے سپیشل انوسٹیگیشن گروپ کی ایک ٹیم جائے وقوعہ پر پہنچ گئی اور وہاں سے شواہد اکھٹے کیے۔

اسلام آباد کی پولیس اس سڑک کی تعمیر کرنے والے ٹھیکیدار کو شامل تفتیش کرکے پوچھ گچھ کر رہی ہے۔

ایوب ترین
بلوچستان بارایسوسی ایشن نے اسلام آباد میں رات گئے بم دھماکہ کے خلاف بدھ کوصوبہ بھرمیں اجتجاج کےطور پرعدالتوں سے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔

بلوچستان با ر ایسوسی ایشن کے صدر باز محمد کاکڑ نے واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے اس واقعہ کوحکومت کی جانب سے وکلاء تحریک کوناکام بنانے کی سازش قرار دیا اور کہا کہ حکومت نے چیف جسٹس کیس کا فیصلہ آنے سے قبل ہی چیف جسٹس اورانکے ساتھیوں کوختم کرنے کی کوشش کی ہے۔

باز محمد کاکڑنے بتایا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے لوگوں کی نظر ہٹانے اورایمرجنسی نافذکرنے کے لیے راستہ ہموارکرنےکی سازش کی ہے جس کے خلاف بدھ کوصوبہ بھر میں وکلاء احتجاج کرینگے اور واقعہ میں ہلاک ہونے والوں سے اظہار یکجہتی کیلۓ کوئٹہ میں وکلاء کا تعزیتی اجلاس بھی ہوگا۔

دوسری جانب کوئٹہ میں حکومت نے حفاظتی انتظامات سخت کر دیے اور شہرمیں جگہ جگہ ناکہ بندی کرکے مشکوک گاڑیوں کی تلاشی شروع کر دی ہے۔ اس کے علاوہ فرنٹیرکور اور پولیس کے گشت میں بھی اضافہ کر دیاگیا ہے جبکہ کوئٹہ کینٹ کے علاقے میں داخل ہونے والے سیویلین سے پوچھ گچھ میں سختی شروع کردی گئی ہے۔

واضع رہے کہ کوئٹہ سمیت بلوچستان کے دیگرعلاقوں میں امن وامان کی صورتحال کی وجہ سے کوئٹہ کینٹ کے علاقےمیں گذشتہ دو سالوں سے عام لوگوں کی گاڑیوں کے داخلے پر پابندی ہے۔

اسی بارے میں
دیر میں پولیس پر بم حملہ
17 July, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد