یہ خود کش حملہ تھا: طارق عظیم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وزیر مملکت برائے اطلاعات طارق عظیم نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں ہونے والا دھماکہ ایک خود کش حملہ تھا جس کا نشانہ پولیس والے تھے۔ وزیر مملکت برائے اطلاعات طارق عظیم نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ان کی اطلاعات کے مطابق اب تک ایک عورت اور چھ مرد ہلاک ہوئے ہیں۔ جب کے پندرہ کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے ۔ خدشہ ہے کہ زخمیوں کی تعداد زیادہ ہو‘۔ اس کے بعد سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق اب تک ہلاک ہونے والوں کی تعداد پندرہ چکی ہے۔ اس سوال کے جواب میں کیا یہ خود کش حملہ تھا ’طارق عظیم نے کہا کہ ’ابتدائی رپورٹس یہی ہیں کہ کہ ایک دھڑ ملا ہے جس کا سر غائب ہے‘۔ اس سوال کے جواب میں کہ حکومت کی کڑی سکیورٹی کے باوجود یہ واقع کیسے ہو گیا؟ وزیر مملکت برائے اطلاعات نے کہا کہ ’اطلاعات تھیں کہ خود کش بم بار پہنچ چکے ہیں اور اسی کے لیے سکیورٹی کی گئی تھی لیکن خود کش بمبار کو روکنا انتہائی مشکل کام ہے‘۔ ہلاک ہونے والوں کی شناخت کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ’حملہ آور نے خود کو پولیس وین کے قریب آ کر اڑایا۔ خیال ہے کہ اس کا ہدف پولیس والے ہی تھے لیکن ہلاک ہونے والوں کے بارے میں اس وقت کچھ کہنا قبل از وقت ہو گا۔‘ | اسی بارے میں جسٹس کی ریلی سے قبل دھماکہ، پندرہ ہلاک 17 July, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||