BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 17 July, 2007, 10:09 GMT 15:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فوجیوں سمیت پانچ افراد ہلاک

خود کش حملہ آور ادھیڑ عمر کا تھا
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز کی ایک چیک پوسٹ پر خود کش حملے میں دو فوجیوں اور خودکش حملہ آور سمیت پانچ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

یہ واقعہ منگل کو دو بجے شمالی وزیرستان کی تحصیل میر علی سے تین کلو میٹر بنوں کی جانب کھجوری چیک پوسٹ پر پیش آیا۔

میر علی میں موجود پولیٹکل انتظامیہ کے اہلکار خالد نے بی بی سی کو بتایا کہ اطلاعات کے مطابق سادہ کپڑوں میں ملبوس ایک ادھیڑ عمر شخص پیدل چیک پوسٹ میں داخل ہوا اور سکیورٹی اہلکاروں کے درمیان پہنچنے کےبعد اس نے اپنے آپ کو دھماکے سے اڑا دیا۔

اس دھماکے میں دو فوجیوں اور ایف سی کے ایک اہلکار کے علاوہ ایک راہگیر بھی ہلاک ہو گیا۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے اس حملے میں دو سکیورٹی اہلکاروں کے ہلاک اور تین کے زخمی ہونے کی تصدیق کر دی ہے۔ہلاک ہونے والوں میں ایک فوجی اور فرنٹیئر کانسٹیبلری کا ایک اہلکار شامل ہے۔ زخمیوں کو سی ایم ایچ بنوں منتقل کر دیا گیا ہے۔

شمالی وزیرستان میں مقامی طالبان نے آج کھجوری چیک پوسٹ پر ہوئے خودکش حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ مقامی شدت پسندوں کی جانب سے گزشتہ اتوار امن معاہدے کے خاتمے کے اعلان کے بعد یہ پہلا حملہ ہے جس کی مقامی طالبان نے ذمہ داری قبول کی ہے۔

طالبان کے نئے ترجمان عبدالحئی غازی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ کارروائی انتہائی مجبوری کی حالت میں کی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حملے کے وقت ایک فوجی قافلہ بھی وہاں سے گزر رہا تھا جس کو نقصان پہنچا ہے۔

دوسری جانب گورنر کی جانب سے قائم کیئے گئے قبائلی جرگے کے طالبان کے ساتھ دتہ خیل کے مقام پر مذاکرات جاری ہیں۔ تاہم حکومت سے مذاکرات کے بارے میں طالبان کے ترجمان کا کہنا ہے کہ امن معاہدے کی شرائط پوری کرنے تک اس کا کوئی امکان نہیں۔

یاد رہے کے شمالی وزیرستان میں مقامی طالبان نے دو دن قبل حکومت کے ساتھ ایک سال قبل ہونے والے امن معاہدے سے علیحدگی اختیار کرنے کا اعلان کیا تھا۔

مقامی طالبان نے آج شمالی وزیرستان میں خاصہ داروں اور لیویز کے نام پمفلٹس بھی تقسیم کیے ہیں جن میں انہیں اپنی نوکریاں چھوڑنے کے لیئے کہا گیا ہے۔ اس کے علاوہ طالبان کے ترجمان نے فرینٹیئر کور کے جوانوں سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ قبائلی ہونے کے ناطے وہ فوج کے ساتھ کھڑے نہ ہوں۔

ترجمان نے اعلان کیا کہ ٹیلیفون، بجلی اور صحت جیسے سرکاری محکموں کے اہلکاروں کو کچھ نہیں کہا جائے گا اور اس کی وجہ بقول ان کے عام لوگوں کو تکالیف سے بچانا ہے۔ عبدالحئی غازی نےگاؤں اور شہری علاقوں میں بھی کارروائیاں نہ کرنے کا اعلان کیا ہے تاکہ بقول ان کے عام شہریوں کو نقصانات سے بچایا جا سکے۔

اسی بارے میں
خودکش حملے، چالیس ہلاک
15 July, 2007 | پاکستان
سوات: فوجیوں سمیت14 ہلاک
15 July, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد