BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 15 July, 2007, 04:57 GMT 09:57 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سوات: فوجیوں سمیت14 ہلاک

مٹہ میں فوجی قافلے پر حملہ
دھماکے سے قافلے میں شامل گاڑیاں تباہ ہو گئیں
سوات کے صدر مقام مینگورہ سے پچیس کلومیٹر کے فاصلے پر فوجی قافلے پر ہونے والے دو خودکش حملوں اور ایک دھماکے میں گیارہ فوجیوں سمیت چودہ افراد ہلاک اور انتالیس زخمی ہوگئے ہیں۔

یہ چوبیس گھنٹوں کے دوران سکیورٹی فورسز کے کسی قافلے پر ہونے والا دوسرا حملہ ہے۔

پاکستان فوج کے محکمۂ تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل وحید ارشد نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ یہ واقعہ سوات کے علاقے میں مٹہ میں اتوار کی صبح ساڑھے سات بجے کے قریب پیش آیا اور اس میں فوجی قافلے کو دو کاروں میں سوار خود کش حملہ آوروں نے نشانہ بنایا جبکہ حملے میں ایک ’امپرووائزاڈ ایکسپلوسِو ڈیوائس‘ بھی استعمال کی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ اس حملے میں گیارہ فوجی جوان اور تین عام شہری ہلاک ہوئے جبکہ انتالیس زخمیوں میں دو پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔

حملے میں زخمی ہونے والے افراد کو مٹہ ہسپتال پہنچا دیا گیا ہے اور پاکستانی فوج کے ترجمان کے مطابق انتالیس میں سے انتیس زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے۔

اس حملے کے عینی شاہدین کا یہ بھی کہنا ہے کہ حملے کے نتیجے میں کچھ مکانات بھی گرے ہیں جن کے نیچے آ کر عام شہری بھی ہلاک ہوئے ہیں۔ مقامی افراد کے مطابق دھماکے کے فوری بعد موقع پر موجود سکیورٹی اہلکاروں نے بھاری ہتھیاروں سے اردگرد کے علاقوں میں فائرنگ شروع کر دی۔

حملے میں ہلاک ہونے والے شہریوں کے رشتہ دار

موقع پر موجود ایک مقامی صحافی شیرین زادہ نے بی بی سی کو بتایا کہ دھماکے کے فوری بعد فوج نے سارے علاقے کو سیل کر دیا اور سڑک پر ٹریفک بھی بند کردی گئی ہے۔ ان کے مطابق حملے کے بعد علاقے میں تین ہیلی کاپٹر پرواز کرتے نظر آئے جبکہ اردگرد کے علاقوں سے فائرنگ کی آوازیں بھی سنائی دیں۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز شمالی وزیرستان میں ایک خودکش حملے میں فوج اور سکیورٹی فورسز کے چوبیس اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔اس حملے میں بھی ایک کار فوجی چوکی سے ٹکرا دی گئی تھی۔ اس حملے میں ستائیس سکیورٹی اہلکار زخمی بھی ہوئے تھے۔

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں واقع لال مسجد کے خلاف آپریشن اور سوبہ سرحد کے مختلف علاقوں میں فوج کی تعیناتی کے بعد ان علاقوں میں خود کش حملوں اور فوجی قافلوں کو نشانہ بنائے جانے کی وارداتوں میں اضآفہ دیکھنے میں آیا ہے۔

لال مسجد (فائل فوٹو) ’اسلامی انقلاب‘
’لال مسجد پر حملہ ہوا تو ردعمل وزیرستان سے‘
باجوڑ حملے کے اثرات
کیا وزیرستان معاہدہ برقرار رہ سکے گا؟
اسی کی دہائی کی یاد
’دھماکہ افغانستان یا وزیرستان سے جُڑاہوا ہے‘
اسی بارے میں
شمالی وزیرستان، تین ہلاک
13 July, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد