BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 13 July, 2007, 11:41 GMT 16:41 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
آپریشن کے بعد سرحد میں فوج

قبائلی علاقوں میں فوج
حال ہی میں قبائل کے جوانوں کو سکیورٹی دستوں میں بھرتی کیا گیا ہے
صوبہ سرحد کے جنوبی ضلع ٹانک میں فوج کی ایک بریگیڈ کو تعینات کیا جا رہا ہے اور اس کے علاوہ پانچ سو افراد پر مشتمل خیبر رائفل کا ایک ونگ بھی وہاں پہنچ گیا ہے۔

ادھرصوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ لال مسجد آپریشن کے بعد ممکنہ ردعمل سے نمٹنے کے لیے اس کی درخواست پر ٹانک اور سوات کے علاوہ دیگر جنوبی اضلاع میں بھی فوج کے اضافی دستوں کو تعینات کر دیا گیا ہے۔

ٹانک پولیس کے سربراہ ممتاز زرین نے بی بی سی کو بتایا کہ پنجاب رجمنٹ کی ایک بریگیڈ ٹانک پہنچنا شروع ہوگئی ہے۔ان کے مطابق یہ عمل چند دنوں میں مکمل ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ان فوجیوں کو ٹانک کے مختلف علاقوں ٹانک شہر، منزائی، کوڑ قلعہ، اور مرتضیٰ میں تعینات کرنے کا منصوبہ ہے۔

پولیس سربراہ نے کہا کہ ایک بریگیڈ میں چار ہزار جوان ہوں گے اور اس کے علاوہ علاقے میں خیبر رائفل کے پانچ سو لوگ بھی تعنیات کیے گیے ہیں جو فوج کے ساتھ ساتھ کام کریں گے۔

ممتاز زرین کے مطابق حال ہی میں ضلع ٹانک سے محسود، برکی اور بھٹنی قبائل سے تعلق رکھنے والے چھ سو جوانوں کی بھرتی کی گئی ہیں جن میں تین سو سکاؤٹس فورس اور تین سو ملیشیا میں رکھے گئے ہیں۔ان کے مطابق ان چھ سو اہلکاروں کو چھ مہینے کی ٹریننگ دی جائے گی اور پھر انہیں ٹانک، منزائی، کوڑ قلعہ اور مرتضیٰ میں تعینات کیا جائے گا۔

لال مسجد آپریشن کے بعد صوبائی حکومت کو صوبے کے بعض اضلاع میں شدید ردعمل کا خدشہ تھا

انہوں نے کہا کہ فی الحال فوج کو چھ مہینے کے لیے ٹانک میں تعینات کیا جائے گا اور بعد میں نئے بھرتی ہونے والے اہلکار اپنی ذمہ داریاں سنبھال لیں گے۔

ٹانک میں فوج کو ایک ایسے موقع پر تعینات کیا گیا ہے جب نہ صرف ٹانک بلکہ ڈیرہ اسماعیل خان، لکی مروت اور بنوں میں حالات انتہائی کشیدہ ہیں اور ٹانک سے متصل قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان اور شمالی وزیرستان میں بھی حالات ایک بار پھر خراب ہوتے دِکھائی دے رہے ہیں۔

امن معاہدہ صرف زبانی معاہدہ ہو کر رہ گیا ہے اور اس کے نکات کی خلاف ورزی ہو چکی ہے۔ تاہم حکومت اور مقامی طالبان ایک دوسرے پر امن معاہدے کی خلاف ورزی کے الزامات لگاتے رہتے ہیں۔

دیگرجنوبی اضلاع میں بھی تعیناتی
ادھر جمعہ کو بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے صوبائی وزیر اطلاعات آصف اقبال داؤدزئی کا کہنا تھا کہ لال مسجد کی خلاف حکومتی آپریشن کے بعد صوبائی حکومت کو صوبے کے بعض اضلاع میں شدید ردعمل کا خدشہ تھا اسی لیے کسی بھی ناخوشگوار واقعےسے نمٹنے کے لیے فوج کو طلب کرنے کی درخواست کی گئی۔

مبینہ شرپسند وں کی جانب سے سی ڈی فلمیں فروخت کرنے والی دکانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے

ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں سے متصل صوبہ سرحد کے جنوبی اضلاع میں گزشتہ کچھ عرصے کے دوران مبینہ شرپسند وں کی جانب سے خودکش حملوں کے علاوہ سی ڈی فلموں کی دکانوں کو تواتر کے ساتھ نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ان کے بقول ان علاقوں میں جہادی کلچر کو فروغ دیا جا رہا ہے جسکی روک تھام کے لیے صوبہ سرحد کے وزیراعلیٰ نے قومی سلامتی کونسل کے گزشتہ اجلاس میں کچھ تجاویز پیش کی تھیں جنہیں مرکزی حکومت نے منظور کر تے ہوئے ان پر عملدرآمد شروع کردیا ہے۔

آصف اقبال داؤد زئی کا مزید کہنا تھا کہ ’مرکزی حکومت نے وزیراعلیٰ اکرم خان درانی کے مطالبے پر صوبہ سرحد میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے چار ارب بیس کروڑ روپے کا ایک مجموعی پیکیج دیا ہے ۔‘

ان کے مطابق صوبائی حکومت کے مطالبے کے تحت مرکزی حکومت کی جانب سے لیے گئے اقدامات میں پولیس فورس کی تعداد بڑھانا اور انہیں چھ ہزار بندوقیں فراہم کرنا، صوبہ سرحد کے دیگر صوبوں میں تعینات پولیس کانسٹبلری کی چھیالیس پلاٹونوں کو واپس صوبے کے حوالے کرنا اور صوبائی حکومت کی درخواست پر فوج کو حرکت میں لانا شامل ہیں۔

صوبہ سرحد کے جنوبی اضلاع اور سوات میں فوج کی بڑی تعداد میں تعیناتی سے متعلق وہاں پر فوجی آپریشن شروع کرنے کی اطلاعات کی تردید کرتے ہوئے انہوں نےکہا کہ ’صوبائی حکومت جب لال مسجد کے مسئلے کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوششوں میں عملاً شامل رہی ہے تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ ہم اپنے ہی صوبے کے اندر فوجی آپریشن شروع کریں۔،

 ماضی میں صوبہ سرحد کی حکومت یہ شکایت کرتی تھی کہ صوبے میں امن و امان کو برقرار رکھنے میں مرکزی حکومت اسے کوئی بھی تعاون فراہم نہیں کر رہی ہے تاہم اب ایسا معلوم ہو رہا ہے کہ صوبائی اور مرکزی حکومت مشترکہ اقدامات پرمتفق ہوگئی ہیں

ان کے بقول قومی سلامتی کونسل کے اجلاس میں ہونے والے فیصلے کے مطابق صوبے بھر میں نچلی سطح پر امن کمیٹیوں کے بنانے کی کوششیں جاری ہیں اور اس سلسلے میں ضلع سوات میں ایک امن جرگہ پہلے ہی سے تشکیل پایا گیا ہے جو مقامی دینی عالم مولانا فضل اللہ کے ساتھ معاہدے پر عملدرآمد کرانے کی کوششوں میں مصروف ہے اور اگر مولانا فضل اللہ نے معاہدے سے انحراف کرنے کی کوشش ہے تو بقول ان کے حکومت کسی دوسرے آپشن پر غور کر سکتی ہے۔

ذرائع کے مطابق گزشتہ دو دنوں کے دوران صوبہ سرحد کے جنوبی اضلاع ٹانک، ڈیرہ اسماعیل خان، بنوں اور لکی مروت میں تقریباً بارہ ہزار مزید فوجیوں کو تعینات کیا گیا۔

واضح رہے کہ ماضی میں صوبہ سرحد کی حکومت یہ شکایت کرتی تھی کہ صوبے میں امن و امان کو برقرار رکھنے میں مرکزی حکومت اسے کوئی بھی تعاون فراہم نہیں کررہی ہے تاہم اب ایسا معلوم ہورہا ہے کہ صوبے میں طالبانائزیشن سے نمٹنے کے لیے صوبائی اور مرکزی حکومتیں مشترکہ طور پر اقدامات کرنے پر متفق ہوگئی ہیں۔

اسی بارے میں
ٹانک: گھر گھر تلاشی ہو گی
30 March, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد