ٹانک:کہاں غائب ہو رہے ہیں طلباء؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سکول اور کالج سے طلباء اکثر فلم یا ویڈیو گیمز کے لیے تو غائب ہوتے رہتے ہیں لیکن تقریبا دو لاکھ آبادی کے چھوٹے سے شہر ٹانک میں تعلیمی اداروں سے طلباء کسی اور ہی مقصد کے لیئے ’غائب‘ ہو رہے ہیں۔ وہ مقصد ہے ’جہاد‘۔ سکیورٹی فورسز اور مقامی طالبان کے درمیان گزشتہ دنوں جھڑپوں کے بعد سے یہاں خوف کا راج ہے اور کسی بھی وقت دوبارہ جھڑپیں پھوٹ پڑنے کا خدشہ لوگوں کے دلوں میں راسخ ہے۔ اکثر لوگ شہر کے غیریقینی حالات پر بولنے سے احتراز کرتے ہیں۔ بچوں کے سکولوں سے غائب ہونے کے معاملہ پر بھی لب کشائی کہاں آسان تھی۔ جس سے بھی اس موضوع پر بات کریں اس کا جواب تھا کیا آپ آئندہ جب ٹانک آئیں گے، تو مجھ سے ملنا نہیں چاہیں گے؟ ’ہمیں زندہ رہنے دیں‘۔ ٹانک میں ایک نجی تعلمی ادارے آکسفورڈ بپلک سکول سے ہی شہر کے موجودہ مصائب کا آغاز ہوا۔ مقامی طالبان کے ایک گروپ نے سکول انتظامیہ سے رابطہ کیا اور طلباء سے بات کرنے کی درخواست کی۔ سکول انتظامیہ انکار کی متحمل نہیں ہوسکتی تھی لہذا دوسرے روز طالبان رہنما احسان برقی اپنے ساتھیوں کے ساتھ آئے۔ اسمبلی ہوچکی تھی لیکن طلباء کو دوبارہ اکٹھا کیا گیا اور خطاب ہوا۔
نوجوان احسان برقی نے ڈیڑھ گھنٹے تک جہاد کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ آخر میں انہوں نے جہاد کے لیے جانے والے طلباء سے نام مانگے تو چودہ معصوم تیار بھی ہوگئے۔ یہ طالبان ابھی سکول سے نکلے ہی تھے کہ فوجی ہیلی کاپٹر اور پولیس وہاں پہنچ گئے۔ تصادم ہوا۔ احسان اور ایک پولیس والا مارا گیا۔ بعد میں ٹانک پر سینکڑوں مسلح افراد نے یلغار کی اور کرفیو نافذ ہوا۔ ٹانک میں شہریوں نے بتایا کہ مقامی طالبان نے سکولوں کے اس طرح کے دورے اس سال کے آغاز سے شروع کیے تھے۔ اس سے قبل ایسا کبھی نہیں ہوا تھا۔ ایک سکول کے پرنسپل نے نام نہ بتانے کی شرط پر بتایا کہ ان بچوں کو اغوا نہیں کیا جاتا بلکہ وہ اپنی خوشی سے ان کے ساتھ جاتے ہیں۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ان نوجوان طلباء کو بطور خودکش حملہ آور تیار کیا جاتا ہے۔ اس طرح ’رضاکارانہ‘ طور پر جہاد کے لیے جانے والوں کے والدین بھی بچوں کو نقصان پہنچنے کے خوف سے چپ سادھ لیتے ہیں۔ صدر جنرل پرویز مشرف بھی ملک میں لاپتہ ہونے والے افراد کی بابت کہہ چکے ہیں کہ کئی لوگ گھروں پر کچھ بتائے بغیر جہاد کے لیئے نکل پڑتے ہیں جنہیں بعد میں تلاش کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ ٹانک کالج میں پرچہ دے کر نکلنے والے چند طلباء سے بات کی تو ان کا کہنا تھا کہ طالبان کالجوں میں نہیں آئے، تاہم سکولوں میں جاتے رہے ہیں۔ تاہم ایک طالب علم صابر شاہ نےاعتراف کیا کہ ان سے رابطہ کیا گیا تھا۔ ’میں جہاد کی تربیت کے لیے ضرور جاؤں گا۔ میں تیار ہوں لیکن کابل میں جہاد کے لیے۔ پاکستان میں جہاد نہیں کروں گا۔ پاکستان میں سب مسلمان ہیں یہاں جہاد جائز نہیں۔ کابل میں تو اس لیے جائز ہے کہ وہاں امریکہ ہے‘۔ اس سے دریافت کیا کہ پڑھتے نوکری کے لیے ہو اور کرنا جہاد چاہتے ہو، تو اس کا کہنا تھا دونوں ضروری ہیں۔ ’جہاد بھی تو فرض ہے نا‘۔ ٹانک شہر میں بچوں کے لاپتہ ہونے سے متعلق معلومات کے لیے پولیس کے پاس پہنچے۔ پولیس اہلکاروں کے دفاتر بھی آج کل ایک نجی سکول کی عمارت میں قائم ہیں۔ ڈی ایس پی ٹانک محمد ادریس خان نے کہا کہ حالیہ کشیدگی کے بعد سے طلبہ کا لاپتہ ہونا بند ہوگیا ہے۔ ’نہیں یہ معاملہ اب بالکل نہیں ہے۔ ابھی تو امتحانات ہو رہے ہیں ہماری نفری جاتی ہے وہاں ڈیوٹی کرتی ہے۔ امتحانات خیریت سے ہو رہے ہیں‘۔ پولیس اہلکار سے ایسے چلے جانے والے طلبہ کی تعداد کے بارے میں دریافت کیا تو ان کا کہنا تھا: ’ایک دو لڑکے تو میرے علم میں آئے تھے لیکن وہ اپنی مرضی سے گئے تھے۔ وہ زبردستی نہیں لےجاتے تھے۔ ان کو تبلیغ کر کے لےجاتے تھے‘۔ ٹانک میں کیا، کہیں بھی بچوں کو اگر جنگ اور غیریقینی حالات سے دور رکھا جائے تو یہ معاشرے کے لیے یقیناً بہتر ہوتا ہے۔ |
اسی بارے میں پی اے خیبر سے جرگے کی ملاقات 08 June, 2007 | پاکستان پی اے خیبر کے گھر پر حملہ، تیرہ ہلاک31 May, 2007 | پاکستان ’ملا نذیر طالبان تحریک سے خارج‘05 June, 2007 | پاکستان داد اللہ دفن، ایک مغوی قتل، چار رہا07 June, 2007 | پاکستان ’طالبان القاعدہ سے زیادہ خطرناک‘12 September, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||