سرحد دھماکوں کے تانے دور تک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد میں سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ کئی سالوں سے صوبے بھر میں ہونے والے بم دھماکوں اور خودکش حملوں کے سلسلے میں ہونے والی تحقیقات کے مطابق ان حملوں میں کالعدم تنظیم نفاذ شریعت محمدی اور قبائلی علاقوں اور افغانستان میں سرگرم مقامی طالبان ملوث تھے۔ ایک اعلی سرکاری اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ پشاور اور صوبے کے دیگر اضلاع میں ہونے والے بم حملوں اور دھماکوں کی کڑیاں اسلام آباد میں قائم جامعہ فریدیہ، مالاکنڈ ڈویژن میں سرگرم کالعدم شدت پسند تنظیم نفاذ شریعت محمدی، قبائلی علاقے شمالی اور جنوبی وزیرستان اور افغانستان میں متحرک طالبان سے ملتی ہیں۔ اہلکار کے مطابق صوبے میں ہونے والے تمام حملوں کی تحقیقات مکمل ہوگئی ہیں مگر بعض وجوہات کی بناء پر انہیں عوام کےسامنے نہیں لایا جا سکتا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ تحقیقات کی روشنی میں حکومتی اور انتظامی سطح پر پالیسیاں بنتی رہی ہیں اور اس سلسلے میں اقدامات کیے جاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سال پشاور میں ہونے والے دوخودکش حملوں، چارسدہ میں وزیرداخلہ پر ہونے والے خودکش حملے اور ٹانک میں سکیورٹی فورسز پر خودکش حملہ آوروں کا سراغ لگا لیا گیا ہے جن کے تانے بانے پاکستان اور افغانستان میں مبینہ طور پرسرگرم شدت پسندوں کے ساتھ ملتے جلتے ہیں۔
پولیس کی جانب سے بی بی سی کو فراہم کردہ اعداد شمار کے مطابق دو ہزار چار سے اب تک صوبہ سرحد میں ایک سو چھ کے قریب بم دھماکے، راکٹ اور دستی بموں کے حملے ہوچکے ہیں جن میں ایک سو ستاسی کے لگ بھگ افراد ہلاک اور تین سو انہتر کے قریب زخمی ہوچکے ہیں۔ پولیس کے مطابق صوبہ سرحد میں بم دھماکوں کا آغاز دو ہزار چار میں ہوا ہے اور اسی سال کے دوران ستائیس بم دھماکے اور راکٹ حملے ہوئے تھے جن میں چودہ افراد ہلاک اور ستر کے قریب زخمی ہوگئے تھے۔تاہم دلچسپ بات یہ ہے کہ پولیس ریکارڈ کے مطابق دوہزار پانچ میں صرف ایک بم دھماکہ ہواتھا جس میں کسی قسم کا کوئی جانی نقصان نہیں پہنچا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ان بم دھماکوں میں دو ہزار چھ کے دوران پھر اضافہ دیکھنے میں آیا اور ایک سال کے دوران تقریباً تیس دھماکے ہوئے تھے جس میں تہتر افراد ہلاک اور ایک سو پینتالیس زخمی ہوگئے تھے۔ پولیس کے مطابق گزشتہ تین سالوں کے مقابلے میں اس سال یعنی دو ہزار سات میں سب سے زیادہ بم دھماکے اور خودکش حملے ہوئے ہیں اور صرف پہلے پانچ ماہ کے دوران ہونے والے اڑتالیس دھماکوں اور حملوں میں سو سے زیادہ افراد ہلاک اور ایک سو چون زخمی ہوئے ہیں۔ سب سے زیادہ خودکش حملے بھی اس سال ہوئے ہیں جنکی تعداد چھ ہے اور زیادہ تر میں سکیورٹی فورسز اور ایک میں وزیر داخلہ کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے گزشتہ ساڑھے تین سالوں کے دوران تقریباً اکتیس بم دھماکوں یا حملوں کو ناکام بنایا گیا اور بیس افراد کو گرفتار جبکہ تئیس کلو گرام دھماکہ خیز مواد برآمد کیا گیا۔ |
اسی بارے میں ’ٹانک میدان جنگ بن گیا تھا‘28 March, 2007 | پاکستان ’84 ازبک سمیت 110 افراد ہلاک‘21 March, 2007 | پاکستان ٹانک: جھڑپیں، کرفیو، فوج طلب28 March, 2007 | پاکستان ٹانک: کرفیو نافذ، فوج طلب17 May, 2007 | پاکستان ٹانک فائرنگ ،6 ہلاک، 15 زخمی16 May, 2007 | پاکستان ٹانک: دھماکے میں دو فوجی ہلاک26 May, 2007 | پاکستان ٹانک،بنوں میں فائرنگ،7 ہلاک28 May, 2007 | پاکستان پی اے خیبر کے گھر پر حملہ، تیرہ ہلاک31 May, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||