BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سرحد دھماکوں کے تانے دور تک

بم دھماکوں میں دو ہزار چھ کے دوران پھر اضافہ دیکھنے میں آیا
صوبہ سرحد میں سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ کئی سالوں سے صوبے بھر میں ہونے والے بم دھماکوں اور خودکش حملوں کے سلسلے میں ہونے والی تحقیقات کے مطابق ان حملوں میں کالعدم تنظیم نفاذ شریعت محمدی اور قبائلی علاقوں اور افغانستان میں سرگرم مقامی طالبان ملوث تھے۔

ایک اعلی سرکاری اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ پشاور اور صوبے کے دیگر اضلاع میں ہونے والے بم حملوں اور دھماکوں کی کڑیاں اسلام آباد میں قائم جامعہ فریدیہ، مالاکنڈ ڈویژن میں سرگرم کالعدم شدت پسند تنظیم نفاذ شریعت محمدی، قبائلی علاقے شمالی اور جنوبی وزیرستان اور افغانستان میں متحرک طالبان سے ملتی ہیں۔

اہلکار کے مطابق صوبے میں ہونے والے تمام حملوں کی تحقیقات مکمل ہوگئی ہیں مگر بعض وجوہات کی بناء پر انہیں عوام کےسامنے نہیں لایا جا سکتا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ تحقیقات کی روشنی میں حکومتی اور انتظامی سطح پر پالیسیاں بنتی رہی ہیں اور اس سلسلے میں اقدامات کیے جاتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس سال پشاور میں ہونے والے دوخودکش حملوں، چارسدہ میں وزیرداخلہ پر ہونے والے خودکش حملے اور ٹانک میں سکیورٹی فورسز پر خودکش حملہ آوروں کا سراغ لگا لیا گیا ہے جن کے تانے بانے پاکستان اور افغانستان میں مبینہ طور پرسرگرم شدت پسندوں کے ساتھ ملتے جلتے ہیں۔

دو ہزار چار سے اب تک صوبہ میں 187 افراد ہلاک اور 369 کے قریب زخمی ہوچکے ہیں

پولیس کی جانب سے بی بی سی کو فراہم کردہ اعداد شمار کے مطابق دو ہزار چار سے اب تک صوبہ سرحد میں ایک سو چھ کے قریب بم دھماکے، راکٹ اور دستی بموں کے حملے ہوچکے ہیں جن میں ایک سو ستاسی کے لگ بھگ افراد ہلاک اور تین سو انہتر کے قریب زخمی ہوچکے ہیں۔

پولیس کے مطابق صوبہ سرحد میں بم دھماکوں کا آغاز دو ہزار چار میں ہوا ہے اور اسی سال کے دوران ستائیس بم دھماکے اور راکٹ حملے ہوئے تھے جن میں چودہ افراد ہلاک اور ستر کے قریب زخمی ہوگئے تھے۔تاہم دلچسپ بات یہ ہے کہ پولیس ریکارڈ کے مطابق دوہزار پانچ میں صرف ایک بم دھماکہ ہواتھا جس میں کسی قسم کا کوئی جانی نقصان نہیں پہنچا تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ان بم دھماکوں میں دو ہزار چھ کے دوران پھر اضافہ دیکھنے میں آیا اور ایک سال کے دوران تقریباً تیس دھماکے ہوئے تھے جس میں تہتر افراد ہلاک اور ایک سو پینتالیس زخمی ہوگئے تھے۔

پولیس کے مطابق گزشتہ تین سالوں کے مقابلے میں اس سال یعنی دو ہزار سات میں سب سے زیادہ بم دھماکے اور خودکش حملے ہوئے ہیں اور صرف پہلے پانچ ماہ کے دوران ہونے والے اڑتالیس دھماکوں اور حملوں میں سو سے زیادہ افراد ہلاک اور ایک سو چون زخمی ہوئے ہیں۔ سب سے زیادہ خودکش حملے بھی اس سال ہوئے ہیں جنکی تعداد چھ ہے اور زیادہ تر میں سکیورٹی فورسز اور ایک میں وزیر داخلہ کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے گزشتہ ساڑھے تین سالوں کے دوران تقریباً اکتیس بم دھماکوں یا حملوں کو ناکام بنایا گیا اور بیس افراد کو گرفتار جبکہ تئیس کلو گرام دھماکہ خیز مواد برآمد کیا گیا۔

کوئی گرفتاری نہیں
پشاور میں گزشتہ نو ماہ میں بیس بم دھماکے
سیدگئی میں دھماکہدھماکہ یامیزائل حملہ
سیدگئی میں دھماکہ: تصاویر میں
پشاور شہر کے حالات
دھماکے، سخت سکیورٹی، عوام کے لیے مشکلات
عینی شاہدوں کے بیان
بس یہ لگا جیسے کسی نے کوئی چیز ڈال دی ہو
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد