BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 28 May, 2007, 10:05 GMT 15:05 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ٹانک،بنوں میں فائرنگ،7 ہلاک

پولیس(فائل فوٹو)
مسلح افراد نے بنوں میں پولیس پر دستی بم سے حملہ کیا(فائل فوٹو)
صوبہ سرحد کے اضلاع بنوں اور ٹانک میں فائرنگ کے تین واقعات میں ایف سی کے افسر سمیت سات افراد ہلاک اور چار زخمی ہوگئے۔

جنوبی وزیرستان سے ملحقہ ضلع ٹانک میں ڈبرہ کے مقام پر نامعلوم مسلح افراد نے دو الگ الگ واقعات میں فائرنگ کر کے ایف سی کے اسٹنٹ ڈسٹرکٹ افسر اور دو اہلکاروں کو ہلاک کر دیا۔

ٹانک پولیس کے مطابق فائرنگ کا پہلا واقعہ اس وقت پیش آیا جب پیر کو منزئے کے اسٹنٹ ایف سی ڈسٹرکٹ افسر میر ولی خان ایک اجلاس کے لیے پشاور جا رہے تھے کہ ڈبرہ کے قریب نامعلوم افراد نے ان کی گاڑی پر فائرنگ کی جس کے نتیجہ میں میر ولی خان ہلاک جب کہ ان کا ڈرائیور زخمی ہوگیا۔

بعد ازاں میر ولی خان کے جنازے میں شرکت کے لیے جانے والے ایف سی کے جوانوں پر بھی ڈبرہ کے ہی مقام پر حملہ کیا گیا جس میں دو اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہوگئے۔

پولیس کے سربراہ ممتاز زرین نے بی بی سی کوبتایا کہ حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے ہیں اور پولیس نے ٹانک کے مختلف علاقوں میں تلاشی کا عمل شروع کر دیا ہے۔ ٹانک میں گزشتہ تین ہفتوں سے حالات انتہائی کشیدہ ہیں اور رات کے وقت علاقے میں کرفیو نافذ رہتا ہے۔

ادھر بنوں میں بھی پولیس اور مشتبہ افراد کے درمیان فائرنگ کے نتیجہ میں چار افراد ہلاک جبکہ دو پولیس اہلکار زخمی ہوگئے۔ بنوں سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق یہ واقعہ پیر کی صبح نو بجے بنوں شہر میں اس وقت پیش آیا جب ایک گاڑی میں سوار چند مسلح افراد کو پولیس نے ماماشخیل کے علاقے میں رکنے کا اشارہ کیا۔سرکاری ذرائع کے مطابق گاڑی روکتے ہی اس میں سوار مسلح افراد نے پولیس پر دستی بم سے حملہ کر دیا۔

بنوں کے ضلعی پولیس افیسر مظہر الحق کا کاخیل نے بی بی سی کو بتایا کہ جنگجوؤں اور پولیس پارٹی کے مابین تین گھنٹے تک فائرنگ کا سلسلہ جاری رہا جس میں چار شرپسند ہلاک ہوگئے۔اس واقعے میں دو اعلٰی پولیس اہلکار ایس ایچ او سٹی جانس خان اور ایس ایچ او صدر طاہرخان داوڑ زخمی ہوئے جن میں ایک کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔

پولیس نے بتایا کہ جب مشتبہ افراد کی جانب سے فائرنگ میں تیزی آئی تو بنوں سے مزید پولیس کی نفری ممش خیل پہنچ گئی اور مشتبہ افراد کے خلاف کارروائی شروع کی گئی۔

پولیس نے دعوٰی کیا ہے کہ مشتبہ افراد کا تعلق شمالی وزیرستان سے تھا اور وہ حالات خراب کرنے کی نیت سے بنوں آ رہے تھے۔واضح رہے کہ بنوں میں پولیس اور مقامی طالبان کے مابین جھڑپوں کا سلسلہ کچھ عرصہ سے جاری ہے جس میں کئی افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد